27/01/2025
کبھی لفظ بھول جاؤں
کبھی بات بھول جاؤں
تجھے اس قدر چاہوں کہ
اپنی ذات بھول جاؤں
اٹھ کر کبھی جو تیرے
پاس سے چل دوں
جاتے ہوئے خود کو
تیرے پاس بھول جاؤں
کیسے کہوں تم سے کہ
کتنا چاہا ہے تمہیں
اگر یہ کہنے پہ تم کو آؤں؟
تو الفاظ بھول جاؤں