03/06/2026
حج کے قافلے لوٹ آئے ہیں،
احرام تہہ ہو چکے ہیں، تلبیہ کی صدائیں فضاؤں میں مدھم ہو گئی ہیں، مگر
اصل داستان اب شروع ہوتی ہے۔
کعبہ کی گلیاں پیچھے رہ گئیں، مگر سوال ابھی باقی ہے کہ کیا دل بھی بدل کر لوٹا ہے؟
عرفات کے میدان میں آنسو بہانا آسان تھا،
وہاں تو رحمت خود آسمان سے اترتی محسوس ہوتی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ
اب رات کی تنہائی میں بھی آنکھ نم رہتی ہے یا نہیں۔ مزدلفہ کی سنگلاخ زمین پر جاگنا آسان تھا، مگر خواہشات کے ہجوم میں دل کو بیدار رکھنا مشکل ہے۔ جمرات پر کنکریاں پھینکنا سہل تھا، مگر اپنے نفس کے غرور، حسد، غصے اور خواہشات کو ہر روز ٹھکرانا اصل مجاہدہ ہے۔
حج چند مناسک کا نام نہیں،
یہ دل کی ہجرت کا نام ہے۔ یہ اس سفر کا نام ہے جس میں انسان صرف خانۂ کعبہ کے گرد نہیں، اپنے باطن کے گرد چکر لگاتا ہے؛
اپنے اندر چھپے بتوں کو پہچانتا ہے؛ اپنی انا کے فرعون کو ڈھونڈتا ہے؛ اور پھر اسے ربِ کعبہ کے حضور قربان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر واپسی پر لہجہ وہی رہے، رویّے وہی رہیں،
دل میں کدورتیں ویسی ہی رہیں، اور نگاہ میں دنیا کی چمک پہلے جیسی ہی غالب رہے، تو پھر سفر تو ہوا،
مگر شاید مسافر ابھی منزل تک نہیں پہنچا۔
حج کی قبولیت کا اعلان صرف آسمان سے نہیں آتا،
اس کے آثار انسان کے اخلاق میں ظاہر ہوتے ہیں۔ نرم مزاجی میں، عاجزی میں، معافی میں، سچائی میں، اور اس کیفیت میں کہ بندہ لوگوں سے نہیں، اپنے رب سے جڑنے لگتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ وہ مکہ سے زمزم جیسی پاکیزگی، کھجوروں سے زیادہ مٹھاس، اور تحفوں سے زیادہ ایک زندہ دل لے کر آئے۔
ایسا دل جو ٹوٹے تو رب کے سامنے ٹوٹے،
جھکے تو رب کے سامنے جھکے،
اور دھڑکے تو رب کی یاد میں دھڑکے۔
ایسی زبان جو ذکر سے معطر ہو،
ایسی نگاہ جو ہر انسان میں اللہ کی صناعی دیکھے، ایسے قدم جو مسجد کی راہوں کو پہچانتے رہیں، اور ایسی روح جو دنیا کے شور میں بھی اپنے رب کی طرف سفر کرتی رہے۔
حج اختتام نہیں،
محبتِ الٰہی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
کعبہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے،
مگر کعبے کا رب بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ اصل امتحان حرم کی پاکیزہ فضاؤں میں نہیں، بلکہ بازاروں، گھروں، رشتوں اور روزمرہ زندگی کے ہجوم میں ہوتا ہے۔
وہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ سفر صرف جسم نے نہیں کیا تھا، روح بھی لوٹ کر آئی ہے۔
وہیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان مکہ سے واپس آیا ہے یا مکہ اس کے دل میں اتر آیا ہے۔
اور جب حج دل میں اتر جائے
تو پھر زندگی عبادت بن جاتی ہے،
سانسیں دعا بن جاتی ہیں،
اور انسان ہر قدم پر یوں چلتا ہے
جیسے ابھی ابھی عرفات سے لوٹا ہو
اور ابھی ابھی اپنے رب سے عہد کر کے آیا ہو۔