Mashkay Network

Mashkay Network Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mashkay Network, Restaurant, Hawtat Sudayr.

22/07/2026

میرا ایک سوال ہے سارے پاکستانیوں سے کیا جیونی ضلع گوادر یہ پاکستان کا شہر ہے یا انڈیا کا یاایران کا
جواب لازم ہے

*لیویز اور پولیس کا فرق بلوچستان میں واقعی بڑا فرق ڈالتا ہے۔* # # # *لیویز فورس کیوں بہتر تھی؟*1. *لوکل علم*: لیویز والے...
18/07/2026

*لیویز اور پولیس کا فرق بلوچستان میں واقعی بڑا فرق ڈالتا ہے۔*

# # # *لیویز فورس کیوں بہتر تھی؟*
1. *لوکل علم*: لیویز والے اپنے علاقے کے لوگ تھے۔ دشمن کو، راستوں کو، سب کو جانتے تھے
2. *فوری ایکشن*: ان کو اجازت تھی کہ خطرہ دیکھتے ہی فائر کر دو۔ کارتوس کا حساب بعد میں دیتے تھے
3. *عزت*: لوگ لیویز کو "اپنا محافظ" سمجھتے تھے۔ سلام ہے ان کو

# # # *پولیس میں ضم ہونے کے بعد مسئلہ*
اب گراؤنڈ میں رپورٹ ہے:
- *کاروائی میں دیر*: پہلے اجازت لینی پڑتی ہے، پھر کارتوس کا ریکارڈ
- *مورال ڈاؤن*: جوان سوچتا ہے اگر فائر کیا اور کارتوس گم ہو گیا تو خود بھرنا پڑے گا
- *دشمن کو فائدہ*: وہ جانتے ہیں پولیس ہاتھ باندھ کر آئے گی

اسی لیے جیوانی، پنجگور، تربت جیسے بارڈر علاقوں میں لوگ کہتے ہیں "حالات خراب ہو گئے ہیں"
1. *لوکل کمیٹی سے رابطہ*: جیوانی میں ابھی بھی لیویز کے پرانے لوگ سیکیورٹی میں مدد کرتے ہیں
2. *ایف سی چیک پوسٹ*: بارڈر ایریا میں ایف سی ہی اصل سیکیورٹی دے رہی ہے

کہ آپ اپنے وطن میں رہنا چاہتے ہیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ لیویز جیسا سسٹم واپس لائے، ورنہ بارڈر کے علاقے خالی ہو جائیں گے

06/05/2026
مشکے، ضلع آواران کے بازار روڈ کی پختگی ایک خوش آئند اور دیرینہ عوامی مطالبے کی تکمیل ہے۔ اس اہم ترقیاتی کام کی تکمیل پر ...
06/05/2026

مشکے، ضلع آواران کے بازار روڈ کی پختگی ایک خوش آئند اور دیرینہ عوامی مطالبے کی تکمیل ہے۔ اس اہم ترقیاتی کام کی تکمیل پر ہم علاقے کے تمام معززین، عمائدین اور ان تمام افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

یہ سڑک نہ صرف آمد و رفت کو آسان بنائے گی بلکہ علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی اسی طرح عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے جاری رہیں گے اور ہمارا علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔

ایک بار پھر تمام متعلقہ ذمہ داران اور معاونین کا شکریہ۔

30/04/2026

مشکے کی مویشیاں، مشکے کی ہوائیں یاد آئیں
ماں کی دعائیں، بابل کی صدائیں یاد آئیں

شہر کی بھیڑ میں گم ہوں مگر دل ہے وہیں
شام ڈھلے ٹیلوں پہ جلتی وہ شمعیں یاد آئیں

پردیس میں بھی مٹی کی خوشبو ستاتی ہے
اے مشکے تیرے ذروں کی قسمیں یاد آئیں

23/04/2026

*عنوان: ضم شدہ لیویز اہلکاروں سے پولیس رولز 1934 کی خلاف ورزی، ڈیم کمپنی کے الاؤنس کی عدم ادائیگی اور کرپشن کے متعلق شکایت*

*بخدمت جناب انسپکٹر جنرل آف پولیس*
*بلوچستان، کوئٹہ*

*بذریعہ: جناب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ضلع خضدار/آواران*

*جناب عالی!*

باادب گزارش ہے کہ سائلان پہلے محکمہ لیویز بلوچستان میں بحیثیت سپاہی فرائض انجام دے رہے تھے۔ حکومتی پالیسی کے تحت ہماری فورس کو بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے اور اس وقت ہم *مشکے تنک ڈیم کمپنی* کی سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔

ضم ہونے کے بعد ہمیں امید تھی کہ *پولیس رولز 1934* کے تحت ہمیں قانونی حقوق اور سہولیات میسر آئیں گی، مگر افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ صورتحال اس کے برعکس ہے:

1. *مسلسل ڈیوٹی*: ہمیں 24/7 ڈیوٹی پر مامور رکھا گیا ہے۔ ہفتہ وار چھٹی یا آرام کا کوئی شیڈول موجود نہیں جو کہ پولیس رولز کی صریح خلاف ورزی ہے۔
2. *کھانے کا انتظام ندارد*: ڈیوٹی کے دوران محکمہ اور ڈیم کمپنی کی جانب سے کھانے پینے کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ سپاہی اپنی مدد آپ کے تحت گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
3. *کمپنی الاؤنس غائب*: مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈیم کمپنی کی طرف سے *فی سپاہی 25000 روپے ماہانہ سیکورٹی الاؤنس* مقرر ہے، جو ہمیں تاحال ادا نہیں کیا جا رہا۔ یہ رقم کہاں جا رہی ہے، اس کی انکوائری ضروری ہے۔
4. *نفری نامکمل*: اعلیٰ حکام کی جانب سے 25 اہلکاروں کا آرڈر ہونے کے باوجود صرف 8 سپاہی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔ باقی اہلکار سفارش یا نذرانہ دے کر غیر حاضر ہیں۔
5. *پرانا لیویز سسٹم برقرار*: فی الحال ڈیوٹی پر مامور مقامی افسران وہی ہیں جو لیویز میں تھے۔ ان کا رویہ اور ڈیوٹی کا نظام آج بھی لیویز طرز پر چلایا جا رہا ہے۔ پولیس رولز کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
6. *گھر قریب ہونے کے باوجود پابندی*: کئی سپاہیوں کی رہائش گاہیں ڈیوٹی پوائنٹ سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر ہیں، اس کے باوجود شفٹ ختم ہونے پر بھی گھر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

جناب عالی، ہم بطور پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے انجام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن موجودہ غیر انسانی حالات، مالی بے ضابطگی اور نفری کی کمی کی وجہ سے ہم شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔

*لہٰذا استدعا ہے کہ:*

1. *فوری خفیہ انکوائری* کروا کر 25000 روپے الاؤنس، غیر حاضر اہلکاروں اور رشوت کے معاملے کی چھان بین کی جائے۔
2. ذمہ دار افسران و محرر کے خلاف *محکمانہ اور اینٹی کرپشن کارروائی* عمل میں لائی جائے۔
3. مشکے تنک ڈیم پر تعینات تمام اہلکاروں کے لیے *پولیس رولز 1934 کے مطابق 8 گھنٹے شفٹ اور ہفتہ وار چھٹی* کا نظام نافذ کیا جائے۔
4. ڈیم کمپنی کا 25000 روپے الاؤنس تمام حقدار سپاہیوں کو بقایا جات سمیت ادا کیا جائے۔
5. پولیس کے پرانے تجربہ کار افسران و سپاہی کو یہاں تعینات کیا جائے تاکہ ضم شدہ نفری کی صحیح تربیت اور نگرانی ہو سکے۔

ہمیں آپ سے انصاف کی قوی امید ہے۔

*العرض*

*درخواست گزاران:* ضم شدہ لیویز اہلکاران، مشکے تنک ڈیم
*تاریخ:* 23 اپریل 2026

23/04/2026

مشکے

Address

Hawtat Sudayr
15332

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mashkay Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category