Mashkay Network

Mashkay Network Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mashkay Network, Restaurant, Hawtat Sudayr.

06/05/2026
مشکے، ضلع آواران کے بازار روڈ کی پختگی ایک خوش آئند اور دیرینہ عوامی مطالبے کی تکمیل ہے۔ اس اہم ترقیاتی کام کی تکمیل پر ...
06/05/2026

مشکے، ضلع آواران کے بازار روڈ کی پختگی ایک خوش آئند اور دیرینہ عوامی مطالبے کی تکمیل ہے۔ اس اہم ترقیاتی کام کی تکمیل پر ہم علاقے کے تمام معززین، عمائدین اور ان تمام افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

یہ سڑک نہ صرف آمد و رفت کو آسان بنائے گی بلکہ علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی اسی طرح عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے جاری رہیں گے اور ہمارا علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔

ایک بار پھر تمام متعلقہ ذمہ داران اور معاونین کا شکریہ۔

30/04/2026

مشکے کی مویشیاں، مشکے کی ہوائیں یاد آئیں
ماں کی دعائیں، بابل کی صدائیں یاد آئیں

شہر کی بھیڑ میں گم ہوں مگر دل ہے وہیں
شام ڈھلے ٹیلوں پہ جلتی وہ شمعیں یاد آئیں

پردیس میں بھی مٹی کی خوشبو ستاتی ہے
اے مشکے تیرے ذروں کی قسمیں یاد آئیں

23/04/2026

*عنوان: ضم شدہ لیویز اہلکاروں سے پولیس رولز 1934 کی خلاف ورزی، ڈیم کمپنی کے الاؤنس کی عدم ادائیگی اور کرپشن کے متعلق شکایت*

*بخدمت جناب انسپکٹر جنرل آف پولیس*
*بلوچستان، کوئٹہ*

*بذریعہ: جناب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ضلع خضدار/آواران*

*جناب عالی!*

باادب گزارش ہے کہ سائلان پہلے محکمہ لیویز بلوچستان میں بحیثیت سپاہی فرائض انجام دے رہے تھے۔ حکومتی پالیسی کے تحت ہماری فورس کو بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے اور اس وقت ہم *مشکے تنک ڈیم کمپنی* کی سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔

ضم ہونے کے بعد ہمیں امید تھی کہ *پولیس رولز 1934* کے تحت ہمیں قانونی حقوق اور سہولیات میسر آئیں گی، مگر افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ صورتحال اس کے برعکس ہے:

1. *مسلسل ڈیوٹی*: ہمیں 24/7 ڈیوٹی پر مامور رکھا گیا ہے۔ ہفتہ وار چھٹی یا آرام کا کوئی شیڈول موجود نہیں جو کہ پولیس رولز کی صریح خلاف ورزی ہے۔
2. *کھانے کا انتظام ندارد*: ڈیوٹی کے دوران محکمہ اور ڈیم کمپنی کی جانب سے کھانے پینے کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ سپاہی اپنی مدد آپ کے تحت گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
3. *کمپنی الاؤنس غائب*: مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈیم کمپنی کی طرف سے *فی سپاہی 25000 روپے ماہانہ سیکورٹی الاؤنس* مقرر ہے، جو ہمیں تاحال ادا نہیں کیا جا رہا۔ یہ رقم کہاں جا رہی ہے، اس کی انکوائری ضروری ہے۔
4. *نفری نامکمل*: اعلیٰ حکام کی جانب سے 25 اہلکاروں کا آرڈر ہونے کے باوجود صرف 8 سپاہی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔ باقی اہلکار سفارش یا نذرانہ دے کر غیر حاضر ہیں۔
5. *پرانا لیویز سسٹم برقرار*: فی الحال ڈیوٹی پر مامور مقامی افسران وہی ہیں جو لیویز میں تھے۔ ان کا رویہ اور ڈیوٹی کا نظام آج بھی لیویز طرز پر چلایا جا رہا ہے۔ پولیس رولز کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
6. *گھر قریب ہونے کے باوجود پابندی*: کئی سپاہیوں کی رہائش گاہیں ڈیوٹی پوائنٹ سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر ہیں، اس کے باوجود شفٹ ختم ہونے پر بھی گھر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

جناب عالی، ہم بطور پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے انجام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن موجودہ غیر انسانی حالات، مالی بے ضابطگی اور نفری کی کمی کی وجہ سے ہم شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔

*لہٰذا استدعا ہے کہ:*

1. *فوری خفیہ انکوائری* کروا کر 25000 روپے الاؤنس، غیر حاضر اہلکاروں اور رشوت کے معاملے کی چھان بین کی جائے۔
2. ذمہ دار افسران و محرر کے خلاف *محکمانہ اور اینٹی کرپشن کارروائی* عمل میں لائی جائے۔
3. مشکے تنک ڈیم پر تعینات تمام اہلکاروں کے لیے *پولیس رولز 1934 کے مطابق 8 گھنٹے شفٹ اور ہفتہ وار چھٹی* کا نظام نافذ کیا جائے۔
4. ڈیم کمپنی کا 25000 روپے الاؤنس تمام حقدار سپاہیوں کو بقایا جات سمیت ادا کیا جائے۔
5. پولیس کے پرانے تجربہ کار افسران و سپاہی کو یہاں تعینات کیا جائے تاکہ ضم شدہ نفری کی صحیح تربیت اور نگرانی ہو سکے۔

ہمیں آپ سے انصاف کی قوی امید ہے۔

*العرض*

*درخواست گزاران:* ضم شدہ لیویز اہلکاران، مشکے تنک ڈیم
*تاریخ:* 23 اپریل 2026

23/04/2026

مشکے

21/04/2026

بخدمت جناب اعلیٰ افسران،

باادب گزارش ہے کہ ہم پولیس سپاہی اس وقت مشکے تنک ڈیم کمپنی کی سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ ہمیں مسلسل ڈیوٹی کروائی جا رہی ہے لیکن ہمیں مقررہ چھٹی نہیں دی جا رہی۔ ڈیوٹی کے دوران کھانے پینے کا بھی مناسب انتظام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ہمارے بعض سپاہیوں کے گھر یہاں سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں گھر جانے یا تھوڑی دیر آرام کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

مزید یہ کہ ہمیں خدشہ ہے کہ ڈیم کمپنی کے مفاد میں ہمیں غیر ضروری طور پر سخت ڈیوٹی دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہم ذہنی اور جسمانی طور پر بہت پریشان ہیں۔

ہم قانون کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام دینا چاہتے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں ہمیں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ لہٰذا گزارش ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کر کے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے، مناسب ڈیوٹی شیڈول بنایا جائے اور سپاہیوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے۔

والسلام

نام: تک ڈیم
عہدہ: سپاہی
تاریخ: 21/04/2026

28/05/2024
14/05/2024

,♥️♥️♥️

ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری صاحبہمیں عاجزی کے ساتھ انتہائی احترام اور شائستگی کے ساتھ آپ کو اپنی درخواست پیش کرتا ہوں۔...
14/05/2024

ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری صاحبہ

میں عاجزی کے ساتھ انتہائی احترام اور شائستگی کے ساتھ آپ کو اپنی درخواست پیش کرتا ہوں۔ جھل مگسی، خضدار، گوادر، واشک، قلات، چاغی، قلعہ عبداللہ، نوشکی اور آواران کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے لیویز فورس کے ملازمین جو انڈرایج اور آورایج ہوئے تھے۔ ایک ہی بیچ اور عہدہ کے تحت بھرتی کیے گئے تھے، انہیں تنخواہوں کا مسئلہ درپیش کل 35 ملازمین جن میں 12 ضلع آواران سے تھے۔ ان سب کو یکساں عہدہ اور فرائض دیے گئے تھے اور ان سب کو ایک ہی تنخواہ کا مسئلہ درپیش تھے۔

ان کی محنت اور لگن کے باوجود انہیں گزشتہ تین سال کا تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ ضلع آواران سے صرف چار ملازمین
یعنی
(1) عبدالحمید سپاہی، (2) زبیر احمد سپاہی،(3) جاوید احمد (4) اللہ داد ڈرائیور،
ابھی تک اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ باقی اپنی تنخواہیں وصول کر چکے ہیں۔

ہم اس مسئلے کو حل کرنے اور ہماری تنخواہوں کے برابر ہونے کو یقینی بنانے میں آپ سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔ ہم مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے خدشات کو دور کرنے اور ہمارے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری کارروائی کریں گے۔

شکریہ

Address

Hawtat Sudayr
15332

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mashkay Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category