13/07/2025
ہم نہ ریاست کے باغی ہیں، نہ ہم نے کبھی اسلحہ اٹھایا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی ریاست کو اس کی طاقت اور صلاحیت کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ ہماری ریاست کمزور نہیں ہے، اور نہ ہی ہمارا دشمن اتنا طاقتور ہے کہ اتنے سالوں بعد بھی قابو نہ آ سکے۔
ریاست کے پاس افرادی قوت بھی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی، ڈرونز، ٹریکنگ سسٹم، اور انٹیلیجنس ادارے بھی موجود ہیں۔ اگر کسی چیز کی کمی ہے تو چین جیسے دوست ملک سے مدد لی جا سکتی ہے — جو اس سے کہیں بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ اگر چین ہماری سڑکیں، بجلی، بندرگاہیں اور ٹرینیں بنا سکتا ہے، تو امن کے قیام میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
ہم صرف ایک مطالبہ رکھتے ہیں: ہمیں امن چاہیئے۔
پختون امن چاہتا ہے، عزت کی زندگی چاہتا ہے، اپنے وطن میں محفوظ رہنا چاہتا ہے۔ پختونخواہ کو اباد کرو — کیونکہ جہاں امن نہ ہو، وہاں نہ روزگار ممکن ہے، نہ کاروبار پنپ سکتا ہے، نہ تعلیم اور نہ ہی زندگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لوگ دوسرے صوبوں اور ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔
ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرے، اور ثابت کرے کہ وہ صرف طاقت ور ہی نہیں، بااختیار بھی ہے۔ کیونکہ اگر امن دینا بھی ممکن نہیں، تو پھر باقی سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے۔
سید انس تکریم کاکاخیل