Saghray wala

Saghray wala I love pakistan .

ایک ایسی بستی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کر لیا...
11/10/2025

ایک ایسی بستی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔
اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کر لیا تمام تر شرعی احکام بجا لائے گئے سوائے اعلانِ نکاح کے۔۔
نکاح خواں بھی موجود تھا، گواہ بھی تھے اور ایجاب و قبول بھی ہوا۔۔۔

کچھ عرصے کے بعد میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور ان دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا لیکن شوہر نے عورت کو تمام تر شرعی حقوق سے محروم رکھا جس پر عورت نے معاملہ قاضی کی عدالت میں پہونچا کر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو شوہر نے عورت کو سرے سے جاننے سے ہی انکار کر دیا۔۔
جس پر عورت نے کہا کہ میرے نکاح کے گواہ موجود ہیں انہیں طلب کیا جائے۔۔۔
گواہوں کو طلب کیا گیا تو گواہوں نے بھی عورت کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔۔۔

قاضی نے عورت سے کہا تمہارے گھر میں کتے ہیں۔۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا تو قاضی نے کہا۔۔!

❤️مزید اچھی اچھی تحریر کے لیے سفیان تارڑ پیج کو فالو کریں

ھَلْ تَقْبِلِیْنَ بِشَہَادَةِ کِلَابِہِمْ وَحُکْمِہِمْ۔۔؟؟
کہ کیا آپ ان کی گواہی اور فیصلے کو قبول کریں گی۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
تو قاضی نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عورت کو اس کے گھر لے جاؤ، عورت کو دیکھ کر اگر کتے بھونکنے لگے تو عورت جھوٹی ہے کیوں کہ کتا نامانوس فرد کو دیکھ ہی بھونکتا ہے اگر عورت سچی ہے تو کتے نہیں بھونکیں گے کیوں کہ وہ اس سے مانوس ہوں گے۔۔۔

یہ فیصلہ سننا تھا کہ شوہر اور گواہوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بغلیں جھانکنے لگے۔۔۔
کیوں کہ ان کی جھوٹی گواہی کی قلعی کھل چکی تھی تو انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلیا۔۔۔

اس وقت قاضی نے ایک تاریخی جملہ کہا اگر کسی میں رتی بھر شرم و حیا اور غیرت ہو تو یہ جملہ اس کی زندگی سنوارنے کے لئے کافی ہے اور جن میں رتی بھر بھی نہ ہو تو پھر وہ جو چاہے کرتا رہے۔۔۔
قاضی نے کہا۔۔۔۔۔
بئس القریٰ اللتی کلابھا اصدق من اہلہا۔۔۔
بدترین ہے وہ بستی جس کے کتے وہاں کے باسیوں سے زیادہ سچے ہوں۔۔۔

#محمودالرشیدندوی

25/04/2025
25/03/2025

*اے اللّٰہ!*
_*جو شخص یہ پوسٹ پڑھ رہا ہے، اس کے دل کی ہر خواہش کو پورا کر دے اور اسے ایسی خوشیوں سے نواز دے جو اس کی روح کو سکون بخشیں۔ ہر غم اور درد کو اس سے دور کر کے، اسے اپنے خاص بندوں میں شامل فرما۔*_
*آمین یا رب العالمین!* 🤲 ❤

_

19/07/2024

@نانا نبیوں کا سردار
بابا ولیوں کا سردار
اماں خاتون جنت
خود جنت کے نوجوانوں کے سردار واہ حسینؓ آپکی عظمت کو سلام⁦

19/07/2024

حُسینؑ سچا، حُسینؑ اعلیٰ، حُسینؑ اشرف، حُسینؑ برتر*
*یزید جھوٹا، یزید اسفَل، یزید ارزَل، یزید کمتر*
*حُسینؑ مُسلِم، حُسینؑ مومن، حُسینؑ عالِم، حُسین عادِل*
*یزید مُرتد، یزید مُلحد، یزید جاہل، یزید قاتِل*
*حُسینؑ صادق، حُسینؑ اَبیَض، حُسینؑ مُصلِح، حُسینؑ صابر*
*یزید کاذب، یزید اَسوَد، یزید مُفسد، یزید جابر*
*حُسینؑ مثبت، حُسینؑ کامل، حُسینؑ داخل، حُسینؑ عاقل*
*یزید منفی، یزید ناقص، یزید خارج، یزید باطل*
*یہی کرشمہ ہے سچ کا واصفؔ*، *یہی کرامت ہے کربلا کی*
*شہید کر کے یزید فانی، شہید ہو کر حُسینؑ باقی*

@🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹      *🌹🤲🏻﷽🤲🏻🌹**[📜واقعہ کربلا...✍︎]**|قسط نمبر: 2 |**موضوع: " یزید پلید کی تخت نشینی اور قیامت کے ساما...
12/07/2024

@🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹

*🌹🤲🏻﷽🤲🏻🌹*

*[📜واقعہ کربلا...✍︎]*

*|قسط نمبر: 2 |*

*موضوع: " یزید پلید کی تخت نشینی اور قیامت کے سامان"*

*═✧⁦تاریخ اسلام✧⁦═*

• ہجرت کا ساٹھواں سال اور رجب کا مہینہ کچھ ایسا دل دکھانے والا سامان اپنے ساتھ لایا، جس کا نظارہ اسلامی دنیا کی آنکھوں کو ناچار اُس طرف کھینچتا ہے، جہاں کلیجا نوچنے والی آفتوں ، بے چین کردینے والی تکلیفوں نے دیندار دِلوں کے بے قرار کرنے اور خدا پرست طبیعتوں کو بےتاب بنانے کے لئے حسرت و بے کسی کا سامان جمع کیا ہے۔ یزید پلید کا تختِ سلطنت کو اپنے ناپاک قدم سے گندہ کرنا اُن ناقابلِ برداشت مصیبتوں کی تمہید ہے جن کو بیان کرتے کلیجا منہ کو آتا اور دل ایک غیر معمولی بے قراری کے ساتھ پہلو میں پھڑک جاتا ہے ۔ اس مردود نے اپنی حکومت کی مضبوطی ، اپنی ذلیل عزت کی ترقی اس امر میں منحصر سمجھی کہ اہلِ بیتِ کرام کے مقدس و بے گناہ خون سے اپنی ناپاک تلوار رنگے ۔ اس جہنمی کی نیت بدلتے ہی زمانے کی ہوانے پلٹے کھائے اور زہریلے جھونکے آئے کہ جاوداں بہاروں کے پاک گریباں ، بے خزاں پھولوں ، نوشگفتہ گلوں کے غم میں چاک ہوئے، مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہری بھری لہلہاتی پھلواڑی کے سہانے نازک پھول مرجھا مرجھا کر طرازِ دامنِ خاک ہوئے ۔

*"امامِ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت اور بھائی کو نصیحت"*
• اُس خبیث کا پہلا حملہ سیدنا امام حسن پر چلا۔ جعدہ زوجہ امام عالی مقام کو بہکایا کہ اگر تو زہر دے کر امام کا کام تمام کر دے گی تو میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔
وہ شقیہ بادشاہ بیگم بننے کے لالچ میں شاہان جنت کا ساتھ چھوڑ کر ،سلطنت عقبیٰ سے منہ موڑ کر جہنم کی راہ پر ہولی ۔ کئی بار زہر دیا کچھ اثر نہ ہوا، پھر تو جی کھول کر اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرے اور امام جنت مقام کو سخت تیز زہر دیا یہاں تک کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے جگر پارے کے اعضائے باطنی پارہ پارہ ہو کر نکلنے لگے۔
یہ بے چین کرنے والی خبر سن کر حضرت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے پیارے بھائی کے پاس حاضر ہوئے ۔سرہانے بیٹھ کر گزارش کی: ’’حضرت کو کس نے زہر دیا؟ فرمایا ’’ اگر وہ ہے جو میرے خیال میں ہے تو اللہ بڑا بدلہ لینے والا ہے، اور اگر نہیں ، تو میں بے گناہ سے عوض نہیں چاہتا۔‘‘
(📖 حلیۃ الاولیاء، الحسن بن علی، الحدیث۱۴۳۸، ج۲، ص۴۷ ملخصاً)

• ایک روایت میں ہے، فرمایا: ’’بھائی! لوگ ہم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ روز قیامت ہم ان کی شفاعت فرما کر کام آئیں نہ یہ کہ ان کے ساتھ غضب اور انتقام کو کام میں لائیں ‘‘

واہ رے حلم کہ اپنا تو جگر ٹکڑے ہو
پھر بھی ایذائے ستم گرکے روا دار نہیں

پھر جانے والے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آنے والے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یوں وصیت فرمائی: ’’حسین دیکھو سفیہانِ کوفہ سے ڈرتے رہنا ، مبادا وہ تمہیں باتوں میں لے کر بلائیں اور وقت پر چھوڑ دیں ، پھر پچھتاؤ گے اور بچاؤ کا وقت گزر جائے گا۔‘‘
بے شک امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یہ وصیت موتیوں میں تولنے کے قابل اور دل پر لکھ لینے کے لائق تھی، مگر اس ہونے والے واقعے کو کون روک سکتا جسے قدرت نے مدتوں پہلے سے مشہور کر رکھا تھا۔

*"امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کی خبر واقعہ کربلا سے پہلے ہی مشہور تھی"*
• حضور سرورِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی بعثت شریفہ سے تین سو برس پیش تر یہ شعر ایک پتھر پر لکھا ملا:

"اَ تَرْجُوْ اُمَّۃٌ قَتَلَتْ حُسَیْناً
شَفَاعَۃَ جَدِّہٖ یَوْمَ الْحِسَابِ
کیا حسین کے قاتل یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ روزِ قیامت اُس کے نانا صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت پائیں ؟"
یہی شعر ارضِ روم کے ایک گرجا میں لکھا پایا گیا اور لکھنے والا معلوم نہ ہوا۔
کئی حدیثوں میں ہے ، حضور سرورِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے کاشانہ میں تشریف فرما تھے ، ایک فرشتہ کہ پہلے کبھی حاضر نہ ہوا تھا اللہ تبارک و تعالیٰ سے حاضری کی اجازت لے کر آستان بوس ہوا، حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ارشاد فرمایا: دروازے کی نگہبانی رکھو، کوئی آنے نہ پائے ، اتنے میں سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ دروازہ کھول کر حاضر ِخدمت ہوئے اور کُود کر حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی گود میں جا بیٹھے ، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم پیار فرما نے لگے ، فرشتے نے عرض کی: ’’حضور انہیں چاہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں ! عرض کی: ’’ وہ وقت قریب آتا ہے کہ حضور کی امت انہیں شہید کرے گی اور حضور چاہیں تو وہ زمین حضور کو دکھا دوں جہاں یہ شہید کئے جائیں گے ۔ پھر سرخ مٹی اور ایک روایت میں ہے ریت، ایک میں ہے کنکریاں ، حاضر کیں۔ حضور علیہ الصلاۃ و السلام نے سونگھ کر فرمایا: ’’رِیْحُ کَرْبٍ وَّبَلاَء‘‘ بے چینی اور بلا کی بُو آتی ہے ، پھر ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کو وہ مٹی عطا ہوئی اور ارشاد ہوا: ’’جب یہ خون ہوجائے تو جاننا کہ حسین شہید ہوا‘‘ انہوں نے وہ مٹی ایک شیشی میں رکھ چھوڑی ۔ اُم المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں : ’’ میں کہا کرتی جس دن یہ مٹی خون ہو جائے گی کیسی سختی کا دن ہوگا۔‘‘
(📖 المعجم الکبیر، الحدیث ۲۸۱۷،۲۸۱۸ ،۲۸۱۹، ج۳، ص۱۰۸)

• امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ صفین کو جاتے ہوئے زمینِ کربلا پر گزرے، نام پوچھا لوگوں نے کہا: ’’کربلا !‘‘ یہاں تک روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہوگئی پھر فرمایا: میں خدمتِ اقدس حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم میں حاضر ہوا، حضور کو روتا پایا، سبب پوچھا ،فرمایا: ’’ ابھی جبریل کہہ گئے ہیں کہ میرا بیٹا حسین فرات کے کنارے کربلا میں قتل کیا جائے گا پھر جبریل نے وہاں کی مٹی مجھے سونگھائی مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور آنکھیں بہہ نکلیں۔‘‘

• ایک روایت میں ہے ، مولیٰ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس مقام سے گزرے جہاں اب امامِ مظلوم کی قبر مبارک ہے فرمایا: یہاں ان کی سواریاں بٹھائی جائیں گی، یہاں ان کے کجاوے رکھے جائیں گے ،اور یہاں ان کے خون گریں گے ۔آلِ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورضی اللہ تعالٰی عنہم کے کچھ نوجوان اس میدان میں قتل ہوں گے جن پر زمین و آسماں روئیں گے ۔
(📖دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی، ج۲، ص۱۴۷)
*༻•••═🤲🏻═•••༺*
*اللھم صل علی سیدنا محمد و علی الہ واصحٰبہ اجمعین*

*علم دین حاصل کیجیئے*
*Keep Watching Madani Channel.*
*✧شیئر ضرور کیجئے✧*

*_595_* 🇵🇰🇵🇰🇵🇰

🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹

@ہم گاؤں کے رہنے والے بچپن میں جب رات کو صحن میں چارپائیاں کر کے سوتے تھے تو بھائی بھائی سے بہن بہن سے پنکھے کے آگے والی...
30/06/2024

@ہم گاؤں کے رہنے والے بچپن میں جب رات کو صحن میں چارپائیاں کر کے سوتے تھے تو بھائی بھائی سے بہن بہن سے پنکھے کے آگے والی چارپائی کے لیے لڑتے تھے لیکن سب سے آخر والی چارپائی ہمیشہ ماں کی ہی ہوتی تھی ماں کہتی تھی مجھے گرمی نہیں لگتی..🥲


"ماں باپ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے"

@پہلے ہر گاوں میں ایک ایسا شجر ہوتا تھا جو گاوں کی بیٹھک کا کام دیتا تھا۔ سب مل جل کر بیٹھتے تھے اپنے دکھ سکھ وہیں پر بی...
30/06/2024

@پہلے ہر گاوں میں ایک ایسا شجر ہوتا تھا جو گاوں کی بیٹھک کا کام دیتا تھا۔ سب مل جل کر بیٹھتے تھے اپنے دکھ سکھ وہیں پر بیان کئیے جاتے۔ ہر بندہ دوسرے کے دکھ سکھ کو جانتا تھا۔ پھر وقت بدلہ حالات بدلے۔ اور اپنی اپنی وکھ بیٹھک بنا لی۔ پھر حالات مذید بدلے اپنی انا کی خاطر دوسرے کی بیٹھک میں جانا چھوڑ دیا۔ پھر تعلقات گلی میں سلام دعا تک رہ گئے۔ پھر سلام دعا بھی انا کی نظر ہو گئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ اپنی اپنی چار دیواری میں بند ہو کر رہ گئے۔ اب تو گوانڈی کے حال کا بھی علم نہی۔ درخت بھی بزرگوں کے سائے کی طرع ہوتے ہیں۔ درخت ختم۔ محفلیں ختم۔ رونق ختم۔
قدرت کے AC چھوڑ کر مشینی AC خرید لئیے۔ جو ماحول کو مذید گرم کر رہے ہیں۔ شجر کاری کریں۔ اپنے لئیے اپنی نسل کے لئیے اپنے ملک کے لئیے۔ شکریہ

@‏میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں۔ لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے...
29/06/2024

@‏میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں۔ لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے" کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں۔ قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن سج جاتے ہیں۔ آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں۔۔۔ "چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔"
مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟
فرسودہ روایات کو بدلو۔ خیرات و ایصالِ ثواب کی حد تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟"

قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں۔ دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں۔

خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔

فوتیدگی پر کھانے کی رسومات کو بند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں

@کسان خوشحال۔پاکستان خوشحال
29/06/2024

@کسان خوشحال۔پاکستان خوشحال

Address

Sargodha

Telephone

+923411343784

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saghray wala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saghray wala:

Share