11/10/2025
ایک ایسی بستی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔
اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کر لیا تمام تر شرعی احکام بجا لائے گئے سوائے اعلانِ نکاح کے۔۔
نکاح خواں بھی موجود تھا، گواہ بھی تھے اور ایجاب و قبول بھی ہوا۔۔۔
کچھ عرصے کے بعد میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور ان دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا لیکن شوہر نے عورت کو تمام تر شرعی حقوق سے محروم رکھا جس پر عورت نے معاملہ قاضی کی عدالت میں پہونچا کر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو شوہر نے عورت کو سرے سے جاننے سے ہی انکار کر دیا۔۔
جس پر عورت نے کہا کہ میرے نکاح کے گواہ موجود ہیں انہیں طلب کیا جائے۔۔۔
گواہوں کو طلب کیا گیا تو گواہوں نے بھی عورت کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔۔۔
قاضی نے عورت سے کہا تمہارے گھر میں کتے ہیں۔۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا تو قاضی نے کہا۔۔!
❤️مزید اچھی اچھی تحریر کے لیے سفیان تارڑ پیج کو فالو کریں
ھَلْ تَقْبِلِیْنَ بِشَہَادَةِ کِلَابِہِمْ وَحُکْمِہِمْ۔۔؟؟
کہ کیا آپ ان کی گواہی اور فیصلے کو قبول کریں گی۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
تو قاضی نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عورت کو اس کے گھر لے جاؤ، عورت کو دیکھ کر اگر کتے بھونکنے لگے تو عورت جھوٹی ہے کیوں کہ کتا نامانوس فرد کو دیکھ ہی بھونکتا ہے اگر عورت سچی ہے تو کتے نہیں بھونکیں گے کیوں کہ وہ اس سے مانوس ہوں گے۔۔۔
یہ فیصلہ سننا تھا کہ شوہر اور گواہوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بغلیں جھانکنے لگے۔۔۔
کیوں کہ ان کی جھوٹی گواہی کی قلعی کھل چکی تھی تو انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلیا۔۔۔
اس وقت قاضی نے ایک تاریخی جملہ کہا اگر کسی میں رتی بھر شرم و حیا اور غیرت ہو تو یہ جملہ اس کی زندگی سنوارنے کے لئے کافی ہے اور جن میں رتی بھر بھی نہ ہو تو پھر وہ جو چاہے کرتا رہے۔۔۔
قاضی نے کہا۔۔۔۔۔
بئس القریٰ اللتی کلابھا اصدق من اہلہا۔۔۔
بدترین ہے وہ بستی جس کے کتے وہاں کے باسیوں سے زیادہ سچے ہوں۔۔۔
#محمودالرشیدندوی