Shahzad's Blog

Shahzad's Blog Information, Islamic, Food Recipes, Poetry and Much More...

صلح کر لو، دوستو! جاؤ اور کہو، مجھے افسوس ہے، مجھے پتا ہے کہ میں نے غلطی کی ہے۔تمہارا حق ہے، میرے لیے تم سے زیادہ قیمتی ...
21/10/2024

صلح کر لو، دوستو! جاؤ اور کہو،
مجھے افسوس ہے، مجھے پتا ہے کہ میں نے غلطی کی ہے۔
تمہارا حق ہے، میرے لیے تم سے زیادہ قیمتی کوئی نہیں
سچ میں، مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ ہم ایسے ہی رہیں

صلح کرو، معافی مانگو، اور دل سے معذرت کرو اگر کوئی پیارا آپ سے ناراض ہے اور آپ نے غلطی کی ہے۔ معافی مانگنے سے آپ کی عزت کبھی کم نہیں ہوگی، اور جسے آپ محبت کرتے ہیں، وہ آپ کی بات سننے کے لیے بےتاب ہوگا۔

صلح کر لو، زندگی مختصر ہے، آج ہم ساتھ ہیں، کل اکیلے ہو سکتے ہیں۔

ﺳﻨﻮ! ﺍﮮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﻟﮍﮐﯽﮐﺒﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺗﮑﻨﺎﻧﮧ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭨﮭﮑﺮﺍﻧﺎﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻮﮐﮭﻠﮯ ﺭﺷﺘﮯﺗﻘﺪﺱ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ  ﭘﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎﺳﻤﮯ...
16/10/2024

ﺳﻨﻮ! ﺍﮮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﻟﮍﮐﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺗﮑﻨﺎ
ﻧﮧ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭨﮭﮑﺮﺍﻧﺎ
ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻮﮐﮭﻠﮯ ﺭﺷﺘﮯ
ﺗﻘﺪﺱ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ
ﺳﻤﮯ ﮐﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﮐﺎ
ﺛﻘﺎﻓﺖ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺩﮮ ﻣﯿﮟ
ﺗﻤﺪﻥ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﯿﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﮨﻮﺱ ﮐﯽ ﺭﺍﺝ ﺩﺍﺭﯼ ﮨﮯ
ﻋﺠﺐ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﻟﮍﮐﯽ
ﻭﻓﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺣﺴﯿﮟ ﮔﮩﻨﺎ
ﺣﯿﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﻨﺎ ﺑﻨﺪﯼ
ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﻟﮍﮐﯽ
ﺗﻢ ﺍﮐﺜﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻮﺗﯽ ﮨﻮ
ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺗﯽ ﮨﻮ
ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮨﯽ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻧﺌﯽ ﮐﺮﻧﯿﮟ ﭘﺮﻭﺗﯽ ﮨﻮ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﺳﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﭼﮭﭗ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮ
ﮐﺒﮭﯽ ﭨﮭﮩﺮﺍﺅ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻧﮓ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺭﻧﮓ ﭘﮭﯿﮑﮯ ﮨﯿﮟ
ﺣﯿﺎ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺧﺎﻟﯽ....

دنیا میں کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتنا خود انسان نے انسان کا کیا، انسان نے انسان کو جنگوں میں مارا، رشتو...
16/10/2024

دنیا میں کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتنا خود انسان نے انسان کا کیا، انسان نے انسان کو جنگوں میں مارا، رشتوں میں مارا، محبت میں مارا، دھوکے میں مارا۔*
*یہ انسان اپنی ہی نسل کا شکار کرنا پسند کرتا ہے، کوئی دوست کے روپ میں دشمن ہے، کوئی مسافر کے بھیس میں لٹیرا ہے۔ انسان نے سب بن کر رہنا سیکھا ایک انسان ہی بن کر رہنا اس کے لیے مشکل رہا.۔

15/10/2024

ایک عورت کبھی بھی مرد کو کنٹرول نہیں کر سکتی کیونکہ مرد قابو میں آنے والی مخلوق ہی نہیں ہے۔۔۔
عورت کا پیار، غصہ، رونا پیٹنا، اور لڑنا جھگڑنا ایک طرف اور وہ مرد دوسری طرف۔۔۔۔
وہ کبھی بھی زبردستی عورت کیلئے کچھ نہیں کرے گا وہ تب کرے گا جب وہ واقعی اس کیلئے کچھ کرنا چاہے گا ۔۔
وہ تب کرے گا جب وہ عورت واقعی اس کی محبت، عقیدت یا چاہت بن جائے گی۔۔۔
اگر کوئی عورت زبردستی مرد کو اسکا رویہ بدلنے کا کہے گی ناں تو وہ اس کو مٹی میں تو رول دے گا، لیکن اپنا رویہ اس عورت کیلئے کبھی نہیں بدلے گا۔۔، وہ خود کو تب بدلے گا جب وہ خود اپنی مرضی سے بدلنا چاہے گا ۔۔
اگر وہ محبت بھی کرے گا تو عورت کے کہنے پر اسکا اظہار بھی نہیں کرے گا وہ محبت کا اظہار بھی تب کرے گا جب اسکا دل چاہے گا۔۔۔
وہ محبت بھی تب جتائے گا جب اسے اسکی پرواہ ہوگی۔۔

منقول

علمائے دین۔۔۔۔احترام کا رشتہ۔۔۔جب آپ حج یا عمرے پر جاتے ہیں تو دوسری بہت سی قومیتوں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔  لگتا ہے...
12/10/2024

علمائے دین۔۔۔۔احترام کا رشتہ۔۔۔

جب آپ حج یا عمرے پر جاتے ہیں تو دوسری بہت سی قومیتوں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
لگتا ہے فلاں قوم کے لوگ کچھ متکبر ہیں۔اپنے آپ میں مگن۔۔۔
کچھ لوگ ہمیں بہت نرم مزاج لگتے ہیں۔
کچھ لوگ خود غرض لگتے ہیں۔
کچھ تعاون پر آمادہ۔۔

جس طرح ہمارا خاندان ایک خاص ثقافت رکھتا ہے اسی طرح ہمارا مجموعی ماحول ہمیں ایک خاص سانچے میں ڈھالتا ہے ۔
ہم چہرے کے تاثرات اور انہی لہجوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی جو ساری دنیا میں سفر کرتا ہے,
انکی زبان ہم سے فرق ہے۔طرز بودوباش الگ۔
ہم ان سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے مقامی اسلوب کے مطابق ہوں۔۔۔
چیزوں کے مثبت پہلو پر توجہ دینے کی عادت اس سوشل میڈیا نے ختم کرا دی ہے ۔۔
جب ڈاکٹر صاحب سے ایک عیسائی آدمی نے سوال کیا:" ہم پاکستان میں گیدڑ کی طرح رہتے ہیں ہمارے لیے انسانی حقوق بہت تنگ ہیں"۔
ہمارے علمائے دین شرمندگی ظاہر کرتے کہ ہاں واقعی پاکستان میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے خم ٹھونک کر کہا:" اگر آپ زنا کرتے ہیں یا شراب پیتے ہیں تو کوئی مسلمان سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ کو سلام نہیں کرے گا۔ اسلام کے سلامتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آپ کی ہر غلط چیز کو ٹھیک کہیں۔ لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو آپ اس کی وجہ بھی تلاش کریں۔ میں پاکستانی شہری نہیں اس لیے پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میں جس ملک ملائشیا میں رہتا ہوں وہاں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں"۔
اگر لڑکیوں سے اختلاط پہ وہ گھبرا گئے تو ان کا گھبرانا بجا تھا۔دس برس کے بعد بچی بالغ شمار ہوگی۔
ہم جس چیز کے عادی ہیں چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اس کو ہلکا لیں۔۔

ہمارے ٹی وی اشتہارات اور ڈراموں میں ساری حدیں ٹوٹتی چلی جا رہی ہیں۔"الکرم "کااشتہار,انتہائی شرم ناک۔۔

لیکن ہم عادی ہو گئے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مارکیٹنگ کی دنیا میں یہ سب ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے معاشرے کا چہرہ دکھایا ہے تو ہمیں سیخ پا ہونے کے بجائے اصلاح کی فکر کرنا چاہیے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان بہت زیادہ سیلفیاں بناتے ہیں اور ان کی باتیں سننے کے بجائے سیلفیاں بنانے میں لگے رہتے ہیں۔

یہ تو ہمارا عمومی مزاج بن گیا ہے۔
اب شادی کی تقریب میں اہل خانہ سیلفیاں اور گروپ فوٹوز میں مصروف رہتے ہیں مہمان ائیں اور کھانا کھا کر لفافہ دے کر چلے جائیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک بہت بڑی بات کہی۔۔
انہوں نے کہا کہ "آپ جیسی نسل چاہتے ہیں ویسی شریک حیات تلاش کریں۔
چونکہ مجھے ا اپنے گھر میں عالم پیدا کرنے کی خواہش تھی تو میں نے ایک عالمہ کو تلاش کیا۔
اس کی تلاش میں مجھے کئی سال انتظار اور شہر سے باہر سے بیاہ کر لانا پڑا۔
آج میرا بیٹا الحمدللہ دین کا داعی ہے۔ "
جبکہ ہمارے نوجوان تو یہ ذمہ داری ماؤں کو دے دیتے ہیں کہ وہ خوبصورت دلہن تلاش کریں۔
ہم اپنے بیٹوں کے جوڑ تلاش کرتے وقت کن چیزوں کو تلاش کرتے ہیں؟؟
کئی لوگ تو سالوں سے گرین کالڈ ہولڈر دلہن کی تلاش میں بیٹے کی عمر بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔۔

ڈاکٹر صاحب کی ہر بات میں بین السطور کوئی پیغام تھا۔

کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ انڈیا اپنے یہاں سرمایہ کاروں کو بلا رہا ہے اور ہم عالموں کو۔۔
ہم سرمایہ کاری کا بہت محدود مفہوم لیتے ہیں۔اصل "سرمایہ" ہماری نسل ہے اور بہترین "سرمایہ کاری" اس کے دین کو بچانے کی فکر کرنا۔۔۔

افشاں نوید
٨, ربیع الثانی ١٤٤٦ ھ
11,کتوبر 2024ء

08/10/2024

*کتے کی گواہی*

ایک ایسی بستی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔
اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کر لیا تمام تر شرعی احکام بجا لائے گئے سوائے اعلانِ نکاح کے۔۔
نکاح خواں بھی موجود تھا، گواہ بھی تھے اور ایجاب و قبول بھی ہوا۔۔۔

کچھ عرصے کے بعد میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور ان دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا لیکن شوہر نے عورت کو تمام تر شرعی حقوق سے محروم رکھا جس پر عورت نے معاملہ قاضی کی عدالت میں پہونچا کر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو شوہر نے عورت کو سرے سے جاننے سے ہی انکار کر دیا۔۔
جس پر عورت نے کہا کہ میرے نکاح کے گواہ موجود ہیں انہیں طلب کیا جائے۔۔۔
گواہوں کو طلب کیا گیا تو گواہوں نے بھی عورت کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔۔۔

قاضی نے عورت سے کہا تمہارے گھر میں کتے ہیں۔۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا تو قاضی نے کہا۔۔!

ھَلْ تَقْبِلِیْنَ بِشَہَادَةِ کِلَابِہِمْ وَحُکْمِہِمْ۔۔؟؟
کہ کیا آپ ان کی گواہی اور فیصلے کو قبول کریں گی۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
تو قاضی نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عورت کو اس کے گھر لے جاؤ، عورت کو دیکھ کر اگر کتے بھونکنے لگے تو عورت جھوٹی ہے کیوں کہ کتا نامانوس فرد کو دیکھ ہی بھونکتا ہے اگر عورت سچی ہے تو کتے نہیں بھونکیں گے کیوں کہ وہ اس سے مانوس ہوں گے۔۔۔

یہ فیصلہ سننا تھا کہ شوہر اور گواہوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بغلیں جھانکنے لگے۔۔۔
کیوں کہ ان کی جھوٹی گواہی کی قلعی کھل چکی تھی تو انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلیا۔۔۔

اس وقت قاضی نے ایک تاریخی جملہ کہا اگر کسی میں رتی بھر شرم و حیا اور غیرت ہو تو یہ جملہ اس کی زندگی سنوارنے کے لئے کافی ہے اور جن میں رتی بھر بھی نہ ہو تو پھر وہ جو چاہے کرتا رہے۔۔۔
قاضی نے کہا۔۔۔۔۔
بئس القریٰ اللتی کلابھا اصدق من اہلہا۔۔۔
بدترین ہے وہ بستی جس کے کتے وہاں کے باسیوں سے زیادہ سچے ہوں۔۔۔

(عربی ادب سے ماخوذ)

بیوی کون ہے؟بیوی صرف ایک رشتے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آپ کی زندگی کا ایک خوبصورت سفر ہے۔ وہ ایک ساتھی ہے جو خوشیوں ...
07/10/2024

بیوی کون ہے؟

بیوی صرف ایک رشتے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آپ کی زندگی کا ایک خوبصورت سفر ہے۔ وہ ایک ساتھی ہے جو خوشیوں میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، مشکلات میں آپ کی طاقت بن جاتی ہے، اور ہر لمحے میں آپ کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔

بیوی وہ ہے جو محبت اور اعتماد کی علامت ہے۔ وہ اپنے شوہر کا ساتھ دینے کے لئے ہر چیلنج کا سامنا کرتی ہے، اور گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس کا خلوص، سمجھداری اور حمایت شوہر کی زندگی کی مشکلات میں روشنی کی کرن ثابت ہوتی ہیں۔

یاد رکھیں، ایک اچھی بیوی کی قدر کریں۔ اس کی محنت، قربانی، اور بے پناہ محبت کو سراہیں۔ محبت صرف الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ عمل کا نام ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ محبت، احترام اور دوستی کا رشتہ قائم کریں، کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جو ایک مضبوط اور خوشحال زندگی کی تشکیل کرتی ہے۔

آئیں، ہم سب اپنی بیوی کی قدر کریں اور ان کے ساتھ ہر لمحہ خوبصورت بنائیں۔ محبت کی طاقت سے زندگی کو مزید رنگین بنائیں! ❤️

منقول

میں انسان کے اخلاق کو اس کی ان مخلوقات کے ساتھ ہمدردی سے ناپتا ہوں جن کا کوئی قانون محافظ نہیں ہوتا، اور جن کے لیے کوئی ...
06/10/2024

میں انسان کے اخلاق کو اس کی ان مخلوقات کے ساتھ ہمدردی سے ناپتا ہوں جن کا کوئی قانون محافظ نہیں ہوتا، اور جن کے لیے کوئی خاندان انتقام لینے والا نہیں ہوتا۔
آپ کی اصل شخصیت آپ کے اس رویے میں ظاہر ہوتی ہے جو آپ کمزور مخلوقات کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ ❤️

*اَلسَّــلاَمُ عَلَيـكُــم وَرَحْـمَــةُ اللهِ وَبَــرَكـَاتــهُ*                     شکر ھے پروردگار.... بیشک تُو سانسی...
06/10/2024

*اَلسَّــلاَمُ عَلَيـكُــم وَرَحْـمَــةُ اللهِ وَبَــرَكـَاتــهُ*


شکر ھے پروردگار....
بیشک تُو سانسیں دینے والا ھے.
مالک شکر ھے تیری ھر عطا پر , اتنا عطا فرما جتنی تیری شان ھے, اتنے گناہ معاف فرما جتنا تو رحمان ہے. آزمائشوں سے اتنا محفوظ فرما جتنا تو مہربان ہے,
رزق میں اتنی کشادگی فرما جتنا تو رزاق ہے.

بیشک تُو ھے ھے شفاء دینے والا. مالک ھم راضی ھیں جو بھی آپکی طرف سے ھےتُو ھی باخبر ھے ھم اپنی بہتری نہیں جانتے. تُو ھم سے راضی ھو جا. ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ سے مدد مانگتے ہیں. مالک مدد فرما.

" آمین یارب العالمین "

خوس رہیں خوشیاں بانٹیں سلامت رہیں

کوئی بھی بیوی مکمل نہیں ہوتی،اور کوئی شوہر بھی کامل نہیں ہوتا۔گھر اس لیے چلتے ہیں کیونکہ زندگی میں سب کچھ مثالی نہیں ہوت...
05/10/2024

کوئی بھی بیوی مکمل نہیں ہوتی،
اور کوئی شوہر بھی کامل نہیں ہوتا۔
گھر اس لیے چلتے ہیں کیونکہ زندگی میں سب کچھ مثالی نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کیونکہ لوگ وہاں رہنا چاہتے ہیں۔

یہ بات واضح کرنے کے لیے نہیں کہ بدسلوکی یا غلط اخلاق کو جواز دیا جا رہا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہرانسان میں کوئی ناکوئی خامی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم فرشتے نہیں، ہم انسان ہیں۔

تو پھر کیوں پرانے وقتوں میں گھر چلتے رہتے تھے، چاہے ان میں کتنی ہی مشکلات کیوں نا ہوں؟

آج طلاق کا رجحان اتنا زیادہ کیوں ہے کہ پہلے سال میں طلاق کی شرح کچھ معاشروں میں 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے؟

نا شوہر بدلے ہیں اور نا ہی بیویاں، اصل میں فرق صرف یہ آیا ہے کہ لوگوں میں رشتے کو برقرار رکھنے کی خواہش اور پردہ پوشی کا جذبہ بدل گیا ہے۔

جو ڈرامے آپ دیکھتے ہیں یاجو ناول آپ پڑھتے ہیں وہ زندگی کی مثالی صورتیں ہیں جو حقیقی زندگی میں بہت کم ملتی ہیں۔
گھروں میں جتنی خوشیاں ہوتی ہیں، اس سے زیادہ ان میں جاری رہنے کی خواہش ہوتی ہے۔

جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ:
یہ شرم کی بات ہےکہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اس طرح برتاؤ نا کرے، جس طرح وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کا شوہر اس کے ساتھ کرے۔
اور یہ بھی شرم کی بات ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے ساتھ اس طرح نا ہو جیسا وہ چاہتی ہے کہ اس کی بہو اس کے بیٹے کے ساتھ ہو۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ زندگی صبر سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔

جو بھی خیر پائے، اسے اللّه پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جو اس کے برعکس پائے، اسے صبر کرنا چاہیے اور اللّه سے مدد مانگنی چاہیے۔ ❤️

اچھے شوہروں کے گھروں میں اچھی بیویاں تلاش کریں۔!!

منقول

04/10/2024

شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جو عورت کہتی ہے کہ عورت کا اپنے گھر میں رہنا ظلم و قید خانہ ہے، تو میں کہتا ہوں:کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَقَرْنَ في بيوتكن}"اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو"پر اعتراض کر رہی ہے،ہم کیسے اللہ کے حکم کو قید خانہ سے تعبیر کرسکتے ہیں...؟!
البتہ یہ ان عورتوں کے لئے ضرور قید خانہ ہیں جو بےحیائی اور مردوں سے اختلاط کی خواہش رکھتی ہیں،ورنہ گھر میں رہنے کی خوشی ہی اصل خوشی ہے،اور اسی میں حیا، عفت و پاکدامنی اور فتنہ سے نجات ہے

[فتاوى نور على الدرب، شريط (٣٧١)]

*اچھے اخلاق کے حقدار سب سے پہلے والدین ہیں**اگر آپ والدین کے ساتھ اچھے نہیں تو باقی جس کے ساتھ مرضی نیکیاں کرتے پھریں کو...
02/10/2024

*اچھے اخلاق کے حقدار سب سے پہلے والدین ہیں*

*اگر آپ والدین کے ساتھ اچھے نہیں تو باقی جس کے ساتھ مرضی نیکیاں کرتے پھریں کوئی فائدہ نہیں*

Address

541-A, Hali Street, Chowk Fawara
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 10:00 - 18:00
Tuesday 10:00 - 18:00
Wednesday 10:00 - 18:00
Thursday 10:00 - 18:00
Friday 10:00 - 18:00
Saturday 10:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahzad's Blog posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share