12/10/2024
علمائے دین۔۔۔۔احترام کا رشتہ۔۔۔
جب آپ حج یا عمرے پر جاتے ہیں تو دوسری بہت سی قومیتوں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
لگتا ہے فلاں قوم کے لوگ کچھ متکبر ہیں۔اپنے آپ میں مگن۔۔۔
کچھ لوگ ہمیں بہت نرم مزاج لگتے ہیں۔
کچھ لوگ خود غرض لگتے ہیں۔
کچھ تعاون پر آمادہ۔۔
جس طرح ہمارا خاندان ایک خاص ثقافت رکھتا ہے اسی طرح ہمارا مجموعی ماحول ہمیں ایک خاص سانچے میں ڈھالتا ہے ۔
ہم چہرے کے تاثرات اور انہی لہجوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی جو ساری دنیا میں سفر کرتا ہے,
انکی زبان ہم سے فرق ہے۔طرز بودوباش الگ۔
ہم ان سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے مقامی اسلوب کے مطابق ہوں۔۔۔
چیزوں کے مثبت پہلو پر توجہ دینے کی عادت اس سوشل میڈیا نے ختم کرا دی ہے ۔۔
جب ڈاکٹر صاحب سے ایک عیسائی آدمی نے سوال کیا:" ہم پاکستان میں گیدڑ کی طرح رہتے ہیں ہمارے لیے انسانی حقوق بہت تنگ ہیں"۔
ہمارے علمائے دین شرمندگی ظاہر کرتے کہ ہاں واقعی پاکستان میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے خم ٹھونک کر کہا:" اگر آپ زنا کرتے ہیں یا شراب پیتے ہیں تو کوئی مسلمان سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ کو سلام نہیں کرے گا۔ اسلام کے سلامتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آپ کی ہر غلط چیز کو ٹھیک کہیں۔ لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو آپ اس کی وجہ بھی تلاش کریں۔ میں پاکستانی شہری نہیں اس لیے پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میں جس ملک ملائشیا میں رہتا ہوں وہاں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں"۔
اگر لڑکیوں سے اختلاط پہ وہ گھبرا گئے تو ان کا گھبرانا بجا تھا۔دس برس کے بعد بچی بالغ شمار ہوگی۔
ہم جس چیز کے عادی ہیں چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اس کو ہلکا لیں۔۔
ہمارے ٹی وی اشتہارات اور ڈراموں میں ساری حدیں ٹوٹتی چلی جا رہی ہیں۔"الکرم "کااشتہار,انتہائی شرم ناک۔۔
لیکن ہم عادی ہو گئے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مارکیٹنگ کی دنیا میں یہ سب ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے معاشرے کا چہرہ دکھایا ہے تو ہمیں سیخ پا ہونے کے بجائے اصلاح کی فکر کرنا چاہیے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان بہت زیادہ سیلفیاں بناتے ہیں اور ان کی باتیں سننے کے بجائے سیلفیاں بنانے میں لگے رہتے ہیں۔
یہ تو ہمارا عمومی مزاج بن گیا ہے۔
اب شادی کی تقریب میں اہل خانہ سیلفیاں اور گروپ فوٹوز میں مصروف رہتے ہیں مہمان ائیں اور کھانا کھا کر لفافہ دے کر چلے جائیں۔
ڈاکٹر صاحب نے ایک بہت بڑی بات کہی۔۔
انہوں نے کہا کہ "آپ جیسی نسل چاہتے ہیں ویسی شریک حیات تلاش کریں۔
چونکہ مجھے ا اپنے گھر میں عالم پیدا کرنے کی خواہش تھی تو میں نے ایک عالمہ کو تلاش کیا۔
اس کی تلاش میں مجھے کئی سال انتظار اور شہر سے باہر سے بیاہ کر لانا پڑا۔
آج میرا بیٹا الحمدللہ دین کا داعی ہے۔ "
جبکہ ہمارے نوجوان تو یہ ذمہ داری ماؤں کو دے دیتے ہیں کہ وہ خوبصورت دلہن تلاش کریں۔
ہم اپنے بیٹوں کے جوڑ تلاش کرتے وقت کن چیزوں کو تلاش کرتے ہیں؟؟
کئی لوگ تو سالوں سے گرین کالڈ ہولڈر دلہن کی تلاش میں بیٹے کی عمر بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔۔
ڈاکٹر صاحب کی ہر بات میں بین السطور کوئی پیغام تھا۔
کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ انڈیا اپنے یہاں سرمایہ کاروں کو بلا رہا ہے اور ہم عالموں کو۔۔
ہم سرمایہ کاری کا بہت محدود مفہوم لیتے ہیں۔اصل "سرمایہ" ہماری نسل ہے اور بہترین "سرمایہ کاری" اس کے دین کو بچانے کی فکر کرنا۔۔۔
افشاں نوید
٨, ربیع الثانی ١٤٤٦ ھ
11,کتوبر 2024ء