25/07/2023
بحری قزاق بمقابلہ بادشاہ، جج یا نظام
ایک مشہور سفاک بحری قزاق جب اسکندر اعظم کے سامنے پیش ہوا تو اسکندر نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا پسند ہے تلوار سے گردان اتار دوں یا میرا قیدی بن کر؟
قزاق نے بغیر گھبرائے جواب دیا۔۔۔۔
’’سکندر! تم جواں مرد ہے اور جواں مردوں کا یہ کام نہیں کہ اپنے ہم پیشہ آدمیوں کو ذلیل کریں۔ تیرا پیشہ بھی لوٹ مار ہے اور میرا پیشہ بھی لُوٹ مار ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں سمندری لٹیرا ہوں اور تو میدانی لُٹیرا۔ لیکن اے سکندر! تُو خود انصاف کر۔ تو میری لُوٹ مار کو جُرم سمجھتا ہے لیکن اپنی لُوٹ مار کو کیا کہے گا؟ میں تو ایک چھوٹا سا ڈاکو ہوں جو ایک جہاز یا قافلہ لُوٹتا ہے لیکن تو اتنا بڑا لٹیرا ہے کہ مُلکوں کے مُلک لُوٹ لیتا ہے اور خزانوں کے خزانے لوٹ کر بھی تیرا دل سیر نہیں ہوتا"
علامہ اقبال نے ضربِ کلیم میں اس واقعہ کو اس طرح یاد کیا ہے۔
صلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ھے میری !
کہ تیری رہزنی سے تنگ ھے دریا کی پہنائی !
سکندر ! حیف تُو اس کو جوانمردی سمجھتا ھے ؟
گوارا اس طرح کرتے ھو ہم چشمُوں کی رُسوائی ؟
ترا پیشہ ھے سفاکی ، مرا پیشہ ھے سفاکی !
کہ ہم قزاق ھیں دُونُوں ، تُو میدانی، میں دریائی !
میرے خیال میں جہانگیر مزاج لوگوں کو غریبوں کا جرم تو جرم نظر آتا ہے کیونکہ وہ غربت کی آگ کو بجھانے کے لئے کسبِ حلال اور محنت و مزدوری کرتے ہیں لیکن لیکن بڑے بڑے چوروں اور ڈاکوں کے علاوہ قومی خزانہ سے مراعات یافتہ افراد کا ڈاکہ اور کرپشن نظر نہیں آرہا ہے۔
قابل افسوس فیصلہ ہے، کاش جج صاحب ملکی نظام میں بہتری کے لیے دیگر قوانین پر عملداری کو یقینی بناتے تاکہ فیصل مسجد کا قلفی فروش فرمان اللہ جیسے محنت مزدوری کرنے والے کئی نوجوانوں کو سی ڈی اے کے کارندوں کو رشوت (بھتہ) دینے کا خوف نہ ہو۔