SAHAR FOODS

SAHAR FOODS دیسی گھی اور روغن زیتون میں تیار کردہ اعلی معیار کے پکوان

22/10/2024

"یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری، نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری، ہوا کے رخ پر اڑنے والے خس و خاشاک، اور پانی کے بہاؤ پر پہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اتری ہے۔ یہ اُن بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں، جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں، جو صبغۃ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ مسلمان جس کا نام ہے وہ دریا کے بہاؤ پر بہنے کے لیے پیدا ہی نہیں کیا گیا ہے۔"

سید مودودی رحمہ اللہ

16/10/2024

سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لکھا ہے۔
اس میں اس نے اپنے ساتھ پیش آنیوالے دو دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔

پہلا واقعہ:
مجھے آئرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا. امتحان فیس 309 ڈالر تھی۔ میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے۔ اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا۔ ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ "آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے۔ ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جارہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے"
حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے!!
-
دوسرا واقعہ:
میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے میں گزرتا تھا، اس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔
ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھ رکھا ہے جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے۔
مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا؟
اس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔
میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے ملک میں آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے۔ زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا پیچ رہے ہیں۔
میں نے کہا، پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہوجائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔
اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے۔
میں نے دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو ۔ کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا۔
اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا : کیا تم کوئی لٹیرے ہو؟
مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا۔
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟
یہ کون سا اخلاق ہے؟
دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا۔
یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے ۔
یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن؟
اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں ؟
جگاڑ میں حلال حرام تک کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں۔

23/09/2024

🥀 _*میرے الفاظ*_ 🥀

تلخ رویے بےرخی نظر انداز ہونا یہ ایسے زہر ہیں جو انسان کو اندر سے ختم کرتے ہیں۔
انسان پہلے شکایت کرتا ہےکہ میرے ساتھ یہ نا کیا جائے، پھر وہ چیختا ہے اور بالآخر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی اصل میں اس شخص کی روح کو فنا کرنے کی علامت ہوتی ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے اسے یوں آزمائشوں کی نظر کر کے ایک دوسرے کی زندگی کو تباہ نا کریں محبت کے بدلے اور کچھ دے سکیں یا نہیں محبت کا بھرم رکھنا سیکھ لیں۔

23/09/2024

لڑکی: کیسے ہو؟🤔
لڑکا: بس‌ گھر والے ناراض ہیں
لڑکی: کیوں
لڑکا: بڑے بھائی سے لڑائی ہوگئی تھی میرے منہ سے کتا نکل گیا😥
لڑکی: وہ تو ٹھیک ہے لیکن تو نے کتا منہ میں ڈالا کیوں تھا..👊😂🙈

23/09/2024

موبائل نہ رکھنے والی ماں چاہیئے
سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ۔۔۔
پانچویں جماعت کے طلباء سے بات کرنے کے بعد، استاد نے انہیں ایک مضمون لکھنے کو کہا کہ انہیں کیسی "ماں پسند ہے"؟
سب نے اپنی ماں کی کتنی تعریف کی، اور اس پر مضمون لکھا۔ لیکن ایک بچے نے مضمون کے عنوان میں لکھا:
"آف لائن ماں"

مجھے "ماں" چاہیے، لیکن مجھے آف لائن چاہیے۔
مجھے اَن پڑھ ماں چاہیے، جو "موبائل" استعمال نہ کرتی ہو، لیکن جو میرے ساتھ کہیں بھی جانے کے لیے تیار اور پُرجوش ہو۔
مجھے ایسی ماں چاہیے جو بچے کی طرح مجھے گود میں سر رکھ کر سلائے۔
مجھے "ماں" چاہیے، لیکن "آف لائن"۔

اس کے پاس "میرے اور میرے پاپا کے لیے" موبائل" سے زیادہ وقت ہونا چاہیے۔

آف لائن "ماں" ہوگی تو پاپا سے جھگڑا نہیں ہوگا۔
جب میں شام کو سونے جاؤں گا، تو وہ مجھے ویڈیو گیم کھیلنے کے بجائے ایک کہانی سنائے گی اور سلائے گی۔

ماں، آن لائن پیزا آرڈر نہ کرو۔ گھر میں کچھ بھی بنا لو؛
پاپا اور میں مزے سے کھا لیں گے۔ مجھے بس آف لائن "ماں" چاہیے۔

اتنا پڑھنے کے بعد پوری کلاس میں مانیٹر کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ہر طالب علم اور کلاس کے استاد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

ماں، جدید بنو لیکن اپنے بچے کے بچپن کا خیال رکھو۔ موبائل کی وجہ سے بچوں سے دور نہ جاؤ۔ یہ بچپن کبھی واپس نہیں آئے گا۔

یہ تحریر ان نام نہاد جدید *"ماؤں"* کے نام ہے جو اپنے بچوں کا بچپن چھین رہی ہیں!

یہ کہانی نہیں، ایک حقیقت ہے

23/09/2024

*👈🏻انوکھی مسکراہٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🤓*

*فرمانبردار بِیوِی کیسی ہوتی ہے🤭*
شوہر : آج کھانے میں کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں .
شوہر : واہ بھئی واہ ایسا کرو دال چاول بنا لو .
بِیوِی : ابھی کل ہی تو کھائے تھے .
شوہر : تو سبزی روٹی بنا لو .
بِیوِی : بچے نہیں کھائیں گے .

شوہر : تو چھولے پوری بنا لو چینج ہو جائے گا .
بِیوِی : جی سا متلا جاتا ہے مجھے ہیوی ہیوی لگتا ہے .
شوہر : یار آلُو قیمہ بنا لو اچھا سا .
بِیوِی : آج منگل ہے گوشت نہیں ملے گا .
شوہر : پراٹھا انڈا ؟
بِیوِی : صبح ناشتے میں روز کون کھاتا ہے ؟
شوہر : چلو چھوڑو یار ہوٹل سے منگوا لیتے ہیں .
بِیوِی : روز روز باہر کا كھانا نقصان دہ ہوتا ہے جانتے ہیں آپ .

شوہر : کڑھی چاول .
بِیوِی : دہی کہاں ملے گا اِس وقت .
شوہر : پلاؤ بنا لو چکن کا .
بِیوِی : اِس میں ٹائم لگے گا پہلے بتاتے .
شوہر : پکوڑے ہی بنا لو اس میں ٹائم نہیں لگے گا .
بِیوِی : وہ کوئی كھانا تھوڑی ہے كھانا بتائیں پروپر .
شوہر : پِھر کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں سرتاج . .😉🤓😝

20/09/2024

ہم ہمیشہ ہر کسی کے لیے اک جیسے نہیں ہوا کرتے، کسی کے لیے کھلی کتاب ہوتے ہیں تو کسی کو ہمارا ٹائٹل ہی پسند نہیں آتا۔ کسی کو پچیدہ لگتے ہیں تو کسی کو الجھے ہوئے
کسی کو دلچسپ لگتے ہیں تو کسی کو بیزار۔
کوئی ہمیں مکمل پڑھ کر ادھر اُدھر ڈال دیتا ہے تو کسی کے لیے پڑھے بغیر ہی غیر اہم۔
ہم ایک ہوتے ہیں مگر سب کی زندگیوں میں الگ الگ مقام رکھتے ہیں۔

اس لیے آپ جو ہیں وہی رہیں وہی جیئیں۔ دوسروں کو خوش کرنے میں ہلکان ہوں۔

20/09/2024

😝😛😜

ایک سیکرٹ ایجینسی میں ایک آسامی خالی ہوئی۔خفیہ ای میل پر بڑی تعداد میں درخواستیں آئیں ۔

ایجینٹوں نے بہت تحقیق کے بعد صرف دو مرد اور ایک عورت کا انتخاب کیا۔تینوں کے بہت سے امتحان لئے گئے اور انہیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی کہ انہیں جذبات سے یکسر عاری ہوکر کسی روبوٹ کی طرح احکام پر عمل کرنا ہوگا۔ کسی سوال کی کوئی گنجائش نہی‍ں نکلے گی ۔
آخری امتحان کے لئے انہیں اپنے اپنے شریک حیات کے ساتھ طلب کیا گیا۔جنہیں الگ کمرے میں بھیج دیا گیا ۔
ممتحن نے پہلے مرد امیدوار کو بڑے بور کا پستول تھما کر کہا "جاؤ اور اپنی بیوی کو گولی مار دو"
"یہ کیسا احمقانہ مذاق ہے۔ میں اپنی بیوی کو گولی نہیں مار سکتا" امیدوار نے غصے سے کہا۔
"اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تم مسترد کئے جاتے ہو۔ جاؤ چلے جاؤ" ممتحن نے سرد اور حتمی لہجے میں کہا۔
دوسرے امیدوار کو بھی پستول تھما کر بند کمرے میں بھیجا۔ وہ پستول لے کر کمرے میں گیا۔ پانچ منٹ کمرے میں خاموشی رہی۔ پھر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر نم دیدہ سے باہر آئے۔ مرد امیدوار نے کہا "میں نے اپنا دل بہت مضبوط کیا مگر میں اپنی بیوی کو گولی نہیں مار سکتا۔ وہ پستول واپس کر کے بیوی کے ساتھ چلا گیا۔ اب خاتون امیدوار کی باری تھی۔ وہ پستول لے کر اندر گئی۔ دروازہ بند ہوتے ہی فائر کی آوازیں آئیں۔ پھر خوب دھماچوکڑی اور چیخ و پکار کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔چند منٹ بعد سناٹا چھا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ عورت بکھرے بالوں اور زخمی چہرے کے ساتھ باہر آئی اور آتے ہی غصے سےچیخی۔ "پستول میں ساری گولیاں نقلی تھیں۔ میں نے کرسی مار مار کر بہت مشکل سے اسے ٹھکانے لگایا ہے". ۔😂😂😂

20/09/2024

حالات حاضرہ کا قصوروار کون؟؟

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ اے مہاجروں کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے ( تو ان کی سزا ضرور ملے گی ) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ ( بری چیزیں ) تم تک پہنچیں :
1. جب بھی کسی قوم میں بے حیائی ( بد کاری وغیرہ ) اعلانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں. 2. جب وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کو قحط سالی، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سے سزا دی جاتی ہے ۔
3. جب وہ اپنے مالوں کی زکاۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے ۔
4. جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دیئے جاتے ہیں، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔
5. جب بھی ان کے امام ( سردار اور لیڈر ) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے ۔‘‘

اب دیکھیں ان میں سے کس کام میں عمل ہو رہا ہے. آج میں راتوں رات امیر ہونا چاہتا ہوں حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر.
آج میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھ کر حسد کرنے لگ جاتا ہوں. اللہﷻ کے دیئے ہوئے پر راضی نہیں ہوں. اسی وجہ سے بےسکون ہوں. جب معاشرے میں ہر بندہ ٹھیک ہو جائے گا تو سارا نظام ٹھیک ہو جائے گا.

ہم ہر خرابی کا الزام دوسروں پر ڈال کر بےفکر ہونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ سدھار کی زمہ داری ہر فرد پر عائد ہوتی ہی، ہر فرد اپنے حصے کا کام کرے تو سب ٹھیک ہوسکتا ہے۔

13/09/2024

🌹 *"انسان"* 🌹
*ہم ایسے انسان تخلیق کرنے میں ناکام رہے ہیں جو اپنے ذہن سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ہمارے پاس انسان نہیں بلکہ سامعین ہیں، ایسے سامعین جو سامنے کے منظر کو دیکھ کر کبھی تالیاں بجاتے ہیں اور کبھی لعنت بھیجتے ہیں، لیکن غور و فکر کرنا نہیں جانتے-
"(ایمل سیوران)*

10/09/2024

ایک عورت اپنے شوہر کے تنگ حالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچھا:

"تم کیا چاہتی ہو؟"

عورت نے کہا: "میں تمہارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں۔"

خادم نے پوچھا: "تم کون ہو؟"

عورت نے کہا: "اسے بتاؤ کہ میں اس کی بہن ہوں۔"

خادم جانتا تھا کہ اس کے مالک کی کوئی بہن نہیں ہے، تو وہ اندر گیا اور اپنے مالک سے کہا:

"دروازے پر ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"

مالک نے کہا: "اسے اندر لے آؤ۔"

عورت اندر آئی، مالک نے اسے خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا: "تم میرے کس بھائی کی بہن ہو؟ اللہ تم پر رحم کرے۔"

عورت نے کہا: "میں آدم کی بیٹی ہوں۔"

خوشحال آدمی نے اپنے دل میں سوچا: "یہ عورت واقعی بے یارو مددگار ہے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی مدد کرے گا۔"

عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے تیسری بار کہا، پھر خوشحال آدمی نے چوتھی بار کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے سمجھا ہے، اور دوبارہ کہنا میرے لیے ذلت ہے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "اللہ کی قسم، مجھے تمہاری بات کی خوبصورتی پسند آئی۔ اگر تم ہزار بار بھی دہراتی تو میں ہر بار کے بدلے تمہیں ہزار درہم دیتا۔"

پھر اس نے اپنے خادموں سے کہا: "اسے دس اونٹ، دس اونٹنیاں، جتنی چاہے بھیڑیں، اور جتنا چاہے مال و دولت دے دو تاکہ ہم قیامت کے دن کے لیے کچھ کام کریں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

غریبوں کو مت بھولو، کیونکہ اللہ غنی ہے اور ہم فقیر ہیں

07/09/2024

خلیفہ ھارون رشید کا دور تھا، مدارس (سرکاری سکول) اجاڑ ھونے لگے۔
خلیفہ نے قاضی القضاۃ سے کہا: *کیا سبب ہے کہ مدارس و علماء کی طرف عوام کا رحجان کم سے کم تر ھوتا جا رہا ہے؟*
قاضی صاحب نے جواب دیا *اگلے سال جواب دوں گا*
خلیفہ تڑپ کر بولے: *سوال ابھی اور جواب سال بعد؟ سمجھ نہیں آئی بات!* قاضی صاحب نے فرمایا: *ہر سوال کی نوعیت مختلف ھوتی ھے یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں سال لگ جائے گا۔*

وقت گزرنے لگا، عید آ گئی، امامت کے فرائض قاضی صاحب ادا کیا کرتے تھے۔ عوام وخواص سبھی عید گاہ پہنچ گئے مگر قاضی صاحب تشریف نہیں لائے۔ قاضی صاحب کو لینے کے لیے سرکاری نمائندے پہنچے مگر قاضی صاحب نے انکار کر دیا کہ وہ عید کی نماز نہیں پڑھائیں گے۔ نمائندگان و کار پردازگان کے اصرار و منت سماجت پر قاضی صاحب نے فرمایا کہ: *میں پالکی میں جاؤں گا اور آقا مجھے کیپالکی بھی خلیفہ وقت اٹھانے کے لیے آئے۔*
وزراء و نمائندگان ششدر و انگشت بدنداں رہ گئے یہ کیسا غیر معقول مطالبہ ھے مگر قاضی صاحب ڈٹے رہے۔ مجبوراََ خلیفہ کو اطلاع دی گئی۔ خلیفہ علم و علماء دوست انسان تھے۔ خود چل کر آ گئے قاضی صاحب تشریف لائے عید کی نماز ھو گئی۔

عید کے بعد زیادہ وقت نہیں گزرا تھا خلیفہ پھر حاضر ہوئے اور کہا:
*قاضی صاحب مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ھو گئی ھے، بٹھانے کے لیے چٹائیاں بھی کم پڑ گئی ہیں، وزراء اور ارکان سلطنت کے بچے بھی چٹائیوں پر بیٹھے علم حاصل کر رہے ہیں۔*
قاضی صاحب نے فرمایا: *آپ کے سوال کا جواب مل گیا؟*
خلیفہ بولے: *کون سا سوال کون سا جواب؟*
قاضی صاحب بولے: *آپ نے کہا تھا کہ مدارس میں طلبہ کیوں نہیں آتے؟ خلیفہ بولے: جواب کیا ہے؟*
قاضی صاحب نے کہا: *آپ حاکم وقت ہیں، آپ نے ایک بار صاحب علم امام کو عزت دی ہے تو مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اتنے آ گئے کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی، اگر اسی طرح ارباب علم و فضل کی توقیر کرو گے تو تبھی لوگ علم کی طرف آئیں گے۔*
اس واقعہ کے بر عکس مملکت خداداد پاکستان میں ہیرو یا تو کھلنڈرے ہیں یا فلمی اداکار ( جنھیں اچھے وقتوں میں کنجرکہا جاتا تھا) یہاں ڈاکٹر قدیر خان جیسے اصلی ہیرو کو جب عزت دینے کا وقت آیا تو پس زنداں ڈال دیا گیا اور ان کی آخری زندگی فٹ پاتھوں کی نظر ھو گئی۔

یہاں مدارس کے علماء و آئمہ اور وارثان علمِ نبوت کو سپیکروں کے جھوٹے مقدمات میں چوروں کے ساتھ ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں،
سکول و کالج کے اساتذہ کو ان کے شاگردوں پولیس والوں کے ہاتھوں ذلیل و رسواء کیا جاتا ہے،
حق مانگنے پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے اوباشوں اور بدمعاشوں سے بد ترین سلوک کروایا جاتا ہے۔
آج تک کسی طالب علم کو انٹر نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے پر کوئی شاہی پروٹوکول نہیں دیا گیا، جبکہ شہداء پولیس کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے اب کھسرے خطاب کرنے لگے ہیں۔

جب شہداء کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کھسرے کریں۔
جب ملک وملت کی خدمت پر رسوائی ملے،
علم کے وارثوں کی بے توقیری ھو،
جب اچھے ناچنے والوں کو ہیرو اور ہیروئن قرار دے کر قومی سطح کے اعزازات و ایوارڈز سے نوازا جائے

جب ملک کو ایٹمی پاور بنانے والے بے نام کر دیے جائیں تو میرے ملک میں گویے( مراثی ، بھانڈ کنجر) اور کھلنڈرے تو پیدا ھو سکتے ہیں مگر کوئی غزالی، کوئی رازی، کوئی بوعلی سینا، کوئی ڈاکٹر قدیر خان، کوئی طارق، کوئی خالد، کوئی ٹیپو سلطان، کوئی میجر عزیز بھٹی، کوئی ایم ایم عالم پیدا نہیں ھو گا۔
اگر کسی کی سمجھ میں آ جاۓ تو پلٹ آئیں۔ اپنے ماضی کی طرف اپنے روشن مستقبل کی طرف۔

ھمارا مستقبل تعلیم میں ھے، تقدس میں ہے، حیا اور عفت و پاکدامنی اور غیرت و حمیت میں ہے، اپنے اصلی ہیروز کو پہچانیں، ان کی قدر کریں ورنہ۔۔۔
تمھاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں،،

Address

Bagum Road Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 07:00 - 22:00
Tuesday 07:00 - 22:00
Wednesday 07:00 - 22:00
Thursday 07:00 - 22:00
Friday 07:00 - 23:00
Saturday 07:00 - 22:00

Telephone

+923008403006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAHAR FOODS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SAHAR FOODS:

Share

Category