Yum restaurant

Yum restaurant Yum chineese andthai

New AI Channel getting 100k Views/Day (VERY EASY)👇 Copy my Prompts to start today for free. Breakdown: 🎞️ Videos: 94👥 Su...
15/11/2025

New AI Channel getting 100k Views/Day (VERY EASY)
👇 Copy my Prompts to start today for free.

Breakdown:
🎞️ Videos: 94
👥 Subscribers: 104K
📈 Total Views: 12M+
💸 RPM: ~$12
💰 Estimated Revenue:
12,000,000 / 1000 × 12 = $144,000

👇 Here’s How He Does It
✅ Script – ChatGPT (FREE)
✅ Voice – Clipchamp (Free)
✅ Edit – CapCut (Free)
✅ Thumbnail/Images – Whisk/InageFX (Free)

👇Save this entire prompt system now

Your fav Turkish food ??
13/10/2025

Your fav Turkish food ??

*  کساد بازاری ( کاروباری سرگرمیوں میں کمی) کیا ہے؟ بنوارلال ایک ہندوستانی قصبے میں ایک سموسہ فروش تھا۔ وہ اپنے علاقے می...
12/10/2025

* کساد بازاری ( کاروباری سرگرمیوں میں کمی) کیا ہے؟
بنوارلال ایک ہندوستانی قصبے میں ایک سموسہ فروش تھا۔ وہ اپنے علاقے میں ایک ٹوکری پر روزانہ 500 سموسے فروخت کرتا تھا۔ لوگوں نے پچھلے 30 سالوں سے اس کے سموسوں کو پسند کیا، کیونکہ وہ تیاری اور فروخت میں حفظان صحت کی دیکھ بھال کرتا، اچھی کوالٹی کا تیل اور دیگر اجزاء استعمال کرتا، سموسوں کے ساتھ مفت چٹنیاں فراہم کرتا۔ وہ تمام بچے سموسے غریب لوگوں، گائے، کتوں وغیرہ کو دیتا اور اگلے دن لوگوں کو باسی سموسے نہیں بیچتا تھا۔

بنوری نے سموسہ بیچنے سے اچھی شہرت اور کافی رقم کمائی اور اسے گزشتہ 30 سالوں میں اپنی فروخت میں کبھی گراوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ اپنی کمائی میں سے نوئیڈا کے ایک مشہور پرائیویٹ کالج میں اپنے بیٹے کو ایم بی اے کی تعلیم دینے میں کامیاب رہا۔

حال ہی میں اس کے بیٹے روہت نے ایم بی اے مکمل کیا اور گھر واپس آگیا کیونکہ اسے مناسب نوکری نہیں مل سکی۔ روہت نے اپنے والد کے سموسے کے کاروبار میں دلچسپی لینا شروع کی۔ وہ پہلے اپنے والد کے کاروبار میں شامل نہیں تھا کیونکہ اس نے اس کو کمتر کام سمجھا تھا۔

ایم بی اے کے دوران روہیت نے کساد بازاری پر بہت کچھ پڑھا۔ انہوں نے پڑھا کہ یہ عالمی معیشت میں سامنے آ رہا ہے کہ اس سے ملازمت کے امکانات کیسے متاثر ہوں گے، بے روزگاری میں اضافہ وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اس نے سوچا کہ وہ اپنے والد کو کساد بازاری کے حساب سے فروخت ہونے والے سموسے کے کاروبار میں خطرات کا مشورہ دے۔

انہوں نے اپنے والد کو بتایا کہ کساد بازاری سے سموسے کی فروخت میں کمی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے اسے منافع برقرار رکھنے سموسوں کی تیاری میں جو لاگت آتی ہے اسے کم کرنا چاہیے ۔

بانوری خوش تھا کہ اس کا بیٹا کاروبار کے بارے میں اتنا جانتا ہے اور اپنے کاروبار میں دلچسپی لیتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے مشورے پر عمل کرنے پر راضی ہوگیا۔

اگلے دن، روہت نے 20 ٪ استعمال شدہ کھانا پکانے کا تیل اور 80 ٪ تازہ استعمال کرنے کی تجویز دی۔ لوگوں نے ذائقے میں تبدیلی کو محسوس نہیں کیا اور 500 سموسے فروخت ہوئے۔

اس بچت کے منافع سے روہت کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اگلے دن اس نے باپ کو استعمال شدہ تیل کا حصہ بڑھا کر 30 فیصد کرنے اور مفت چٹنیوں کی مقدار کم کرنے کی تجویز پیش کی۔

اس دن صرف 400 سموسے بیچے گئے اور 100 سموسے غریب لوگوں اور کتوں کو پھینکے گئے۔

روہت نے اپنے والد کو بتایا کہ اس کی پیشن گوئی کے مطابق کساد بازاری واقعی میں قائم ہے، اس لئے زیادہ لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے اور وہ باسی سموسے نہیں پھینکیں گے بلکہ اگلے دن انہیں دوبارہ گرم کر کے فروخت کریں گے۔ استعمال شدہ تیل کی مقدار بھی 40 فیصد تک بڑھائی جائے گی اور ضائع ہونے سے بچنے کے لیے صرف 400 سموسے بنائیں گے۔

اگلے دن 400 سموسے فروخت ہوئے لیکن گاہک اچھے پرانے ذائقے کی کمی محسوس کر رہے تھے۔ لیکن روہت نے اپنی اسمارٹ پلاننگ کی وجہ سے اپنے والد کو بچت کے بارے میں بتایا۔ والد نے اسے بتایا کہ وہ بہتر جانتا ہے ، تعلیم یافتہ ہے

اگلے دن روہت نے 50 فیصد استعمال شدہ تیل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، میٹھی چٹنی ختم کی اور صرف گرین چٹنی فراہم کی، 400 سموسے بنائے۔ اس دن صرف 300 سموسے فروخت ہوسکے تھے کیونکہ لوگوں نے سموسوں کا ذائقہ ناپسند کرنا شروع کردیا۔

روہت نے بنوری سے کہا "دیکھو، میں نے بڑی کساد بازاری کی پیش گوئی کی تھی کہ سموسوں کی فروخت گر جائے گی۔ اب ایسا ہو رہا ہے۔ ہم ان 100 باسی سموسوں کو نہیں پھینکیں گے بلکہ کل انہیں دوبارہ گرم کرکے فروخت کریں گے۔ " باپ نے اپنے ایم بی اے بیٹے کی بات مان لی۔

اگلے دن 50 فیصد استعمال شدہ تیل کے ساتھ 200 تازہ سموسے بنائے گئے، 100 باسی فرائیڈ سموسے فروخت کے لیے پیش کیے گئے لیکن صرف 200 ہی فروخت کیے جا سکے کیونکہ لوگوں نے کوالٹی میں انتہائی زوال کا احساس کیا۔

روہت نے کہا کہ کساد بازاری واقعی میں قائم ہوگئی ہے اور اب لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لئے پیسے باقی نہیں رہے تو انہیں چاہیے کہ وہ صرف 100 سموسے بنائیں اور 100 باسی سموسے ری سائیکل کریں اور کاغذ نیپکن دینا بند کردیں۔

اس کے بعد صرف 50 سموسے فروخت ہو سکے۔

روہت نے اپنے والد سے کہا "اب کساد بازاری نے لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ لوگوں کی آمدنی ختم ہو چکی ہے۔ سو، یہ کاروبار خسارے میں رہے گا اور وہ سموسے بیچنا چھوڑ دیں اور کچھ اور کر لیں۔ "

اب اس کے والد نے شور مچانا شروع کردیا، "مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ ایم بی اے کے نام پر دھوکہ دہی سکھاتے ہیں۔ میں نے تمہارے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے میں اپنا پیسہ کھو دیا. پچھلے 30 سالوں میں سموسہ بیچنے میں، میں نے کبھی کساد بازاری نہیں دیکھی تھی لیکن تمہارے منافع کی لالچ نے میرے کاروبار میں کساد بازاری لائی اور بندش کا سبب بنی۔ تم میرے کاروبار سے باہر نکلو میں اسے پہلے کی سطح پر واپس لے آؤں گا. اگر تم چاہو تو برتن دھونے کے لئے میں تمہاری خدمات حاصل کرسکتا ہوں کیونکہ ایم بی اے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود صرف یہی کام تم کرسکتے ہو۔ "

اس کے بعد، بنوری نے کاروبار میں اپنی عمر کی پرانی حکمت اور منصفانہ طریقوں پر عمل کرنا شروع کیا۔ ایک ماہ کے اندر ہی اس کی فروخت 600 سموسوں تک پہنچ گئی۔

* کساد بازاری کچھ نہیں بس زیادہ ٹیکس لگانے کے لئے حکومت کے لالچ میں اضافے کے سوا کچھ نہیں، بڑے کاروبار کے لالچ میں معیار کم کرکے اور غیر منصفانہ طریقوں کا استعمال کرکے زیادہ منافع بخش ہونے کا لالچ کساد بازاری ہے

11/10/2025

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیان پر پاکستان کو جذباتی نہیں بلکہ حقائق پر مبنی اور پُرعزم ردِعمل دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر 1980 کی دہائی میں پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی اور عوام قربانیاں نہ دیتے تو آج افغانستان نام کا ملک ہی باقی نہ رہتا۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد کی کامیابی پاکستان کی خفیہ مدد، اسلحہ سپلائی، خفیہ تربیت اور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے ممکن ہوئی۔
افغان قیادت کا آج یہ کہنا کہ “ہمیں چھیڑنے سے پہلے امریکا، نیٹو اور سوویت یونین سے پوچھ لو” دراصل تاریخی احسان فراموشی ہے۔ پاکستان نے چالیس سال تک افغان جنگ کی قیمت اپنے خون، اپنی معیشت اور اپنی سیکیورٹی سے ادا کی۔ لاکھوں پاکستانی شہید، زخمی یا بے گھر ہوئے مگر افغانستان کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کیے۔
اب جب دہشتگرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں، تو پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا حق موجود ہے۔ اگر افغان حکومت اپنے وعدوں کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔
یہ وقت جذباتی بیانات کا نہیں، ذمہ داری لینے کا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر کابل اپنی سرزمین پر قابو نہیں رکھ سکتا تو کم از کم دوسروں کو نصیحت کرنے سے گریز کرے۔ ہم نے افغانستان کے لیے خون بہایا ہے، اب اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
والسلام

11/10/2025
یہ واقعہ شام کے شہر دمشق میں ہوا۔ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی اسی یونیورسٹی میں اسکا والد ایک...
11/10/2025

یہ واقعہ شام کے شہر دمشق میں ہوا۔ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی اسی یونیورسٹی میں اسکا والد ایک ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا۔ایک دن چھٹی کے فورا بعد اچانک بادل گرجنے لگے اور زوردار بارش ہونے لگی ،ہر کوئی جائے پناہ کی تلاش میں دوڑ رہا تھا،سردی کی شدت بڑھنے لگی، آسمان سے گرنے والے اولے لوگوں کے سروں پر برسنے لگے،یہ لڑکی بھی یونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھالیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اسے پناہ کہاں ملے گی،جب بارش تیز ہوئی تو اس نے ایک دروازہ بجایا، گھر میں موجود لڑکا باہر نکلا اور اسے اندر لے آیا۔
اور بارش تھمنے تک اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی۔ دونوں کا آپس میں تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ لڑکا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے جہاں وہ خود زیر تعلیم ہے۔اور اس شہر میں اکیلا رہتا ہے،ایک کمرہ برامدہ اور باتھ روم اس کا کل گھر تھا نوجوان نے اسے کمرے میں آرام کرنے کو کہا اور اسکے پاس ہیٹر رکھ دیا اور کہا کہ کمرہ جب گرم ہو جائے گا تو وہ ہیٹر نکال لے گا،تھوڑی دیر لڑکی بستر پر بیٹھی کانپتی رہی،اچانک اسے نیند آ گئی تو یہ بستر پر گرگئی۔نوجوان ہیٹر لینے کمرے میں داخل ہوا تو اسے یہ بستر پر سوئی ہوئی لڑکی جنت کی حوروں کی سردار لگی وہ ہیٹر لیتے ہی فورا کمرے سے باہر نکل گیالیکن شیطان جو کہ اسے گمراہ کرنے کے موقع کی تلاش میں تھااسے وسوسے دینے لگا اس کے ذہن میں لڑکی کی تصویر خوبصورت بنا کر دکھانے لگاتھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ کھل گئی، جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہڑبڑا کر اٹھ گئی اور گھبراہٹ کے عالم میں بے تحاشا باہر کی طرف دوڑنے لگی اس نے برامدے میں اسی نوجوان کو بیہوش پایا وہ انتہائی گھبراہٹ کی عالم میں گھر کی طرف دوڑنے لگی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ کر باپ کی گود میں سر رکھ دیا جو کہ پوری رات اسے شہر کے ہر کونے میں تلاش کرتا رہا تھااس نے باپ کو تمام واقعات من و عن سنا دیے اور اسے قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس عرصہ میں میری آنکھ لگی کیا ہوامیرے ساتھ کیا کیا گیا، کچھ نہیں پتا،اسکا باپ انتہائی غصے کے عالم میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا اور اس دن غیر حاضر ہونے والے طلبہ کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے اور ایک بیمار ہے، ہسپتال میں داخل ہے،باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اس سے اپنی بیٹی کا انتقام لے،ہسپتال میں اسکی تلاش کے بعد جب اسکے کمرے میں پہنچا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اسکی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھی اس نے ڈاکٹر سے اس مریض کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نے بتایا جب یہ ہمارے پاس لایا گیا تو اسکے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے باپ نے نوجوان سے کہاکہ تمہیں اللہ کی قسم ہے!مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے باپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا،وہ بولا ایک لڑکی کل رات بارش سے بچتی ہوئی میرے پاس پناہ لینے کے لیے آئی،میں نے اسے اپنے کمرے میں پناہ تو دے دی لیکن شیطان مجھے اس کے بارے میں پھسلانے لگا تو میں اسکے کمرے میں ہیٹر لینے کے بہانے داخل ہوا، وہ سوئی ہوئی لڑکی مجھے جنت کی حور لگی، میں فورا باہر نکل آیا لیکن شیطان مجھے مسلسل اسکے بارے میں پھسلاتا رہا اور غلط خیالات میرے ذہن میں آتے رہے تو جب بھی شیطان مجھے برائی پر اکساتا میں اپنی انگلی آگ میں جلاتا تاکہ جھنم کی آگ اور اسکے عذاب کو یاد کروں اور اپنے نفس کو برائی سے باز رکھ سکوں یہاں تک کہ میری ساری انگلیاں جل گئی اور میں بے ہوش گیا ،مجھے نہیں پتا کہ میں ہسپتال کیسے پہنچا۔یہ باتیں سن کر باپ بہت حیران ہوا۔ بلند آواز سے چلایا اے لوگو۔۔۔۔۔۔! گواہ رہو میں نے اس پاک سیرت لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے سبحان اللہ
یہ ہے اللہ سے ڈرنے والوں کا ذکر،اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس لڑکی کی عزت محفوظ نہ رہ سکتی۔جو بھی لڑکا یا لڑکی ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں یا غیر شرعی دوستیاں یا محبتیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس برے فعل کو چھپانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ والدین ان کے ان کاموں سے بے خبر ہیں حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ ان کے ہر فعل سے با خبر ہےپھر بھی انکے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا !!ایسا کیوں ہے؟؟کیونکہ والدین نے بچپن سے ان کے دل و دماغ میں اللہ کے خوف کے بجائے اپنا ذاتی خوف،رعب و دبدبہ ،سزا کا ڈر ہی بٹھایا ہے۔اسی لیے آج وہ اللہ سے بے پرواہ ہو کر والدین سے چھپ کر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور ایسے بھی والدین ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت خوف خدا پر کی تو انکی اولاد نے بھی ہمیشہ برائیوں سے اپنے آپ کو باز رکھا۔

11/10/2025

ایک سر پھری بیوی جس نے خاوند کے ناک میں دم، اور اپنے اسلوب اور معاملات سے خاوند کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔
اُس نے ایک دن خاوند کو صبح سویرے نیند سے جگایا
اور نہایت احترام اور محبت سے کہا:
جان من،
میرے سرتاج؛
اُٹھیئے، صبح ہو گئی ہے۔
اور پھر شاندار تیار کیا ہوا ناشتہ خاوند کے بستر پر ہی لے آئی۔

خاوند جو پہلے ہی نیند سے جاگ کر بیوی کے رویہ پر حیرت زدہ بیٹھا تھا،
ناشتہ دیکھ کر چُپ نا رہ سکا اور پوچھ لیا:
آج کیا ہو گیا ہے تمہیں؟
یہ اچانک کیسی تبدیلی آ گئی ہے تم میں؟

بیوی نے کہا:
کل ہمسایوں کے گھر میں تبلیغ والی بیبیاں آئی ہوئی تھیں۔ کہہ رہی تھیں
کہ جس مرد کی بیوی بد زبان اور بد اخلاق ہو گی اللہ اُس مرد کی مغفرت فرما دے گا
اور ہو سکتا ہے کہ
اُس مرد کو بیوی کی بد اخلاقی اور بد تمیزگی برداشت کرنے پر جنت میں بھی داخل کر دے۔

خاوند نے کہا: یہاں تک تو ٹھیک ہے، آگے؟

بیوی نے غراتے ہوئے کہا:
۔
۔
۔

اتنے سیانے مت بنو ،
جنت جانا ہے تو اپنے عملوں سے جاؤ
میسنا بن کر میری وجہ سے کیوں جاتا ہے؟
🙂🙂🙂

11/10/2025

*گڑیا بولتی کیوں نہیں*
چار سال کی گڑیا کی شلوار میں چچا شکور کو ہاتھ ڈالتا دیکھا, مگر ماں چپ رہی. بس گڑیا کو شکور کے پاس جانے سے روک دیا.
بارہ سال کی گڑیا کو سکول جاتے ہوئے لڑکے چھیڑتے تھے تو اسے برقع پہنا دیا. مگر لڑکے پھر باز نہ آئے. ماں سکول جانے سے ہی نہ روک دے گڑیا نے ماں سے کچھ کہنا چھوڑ دیا. چپ رہی.
نویں جماعت اور دسویں جماعت کے امتحانوں سے پہلے میتھ کے ٹیچر نے گڑیا کو کلاس کےبعد روکنا شروع کر دیا. ٹیچر بورڈ میں داخلہ نہ روک دے گڑیا چپ رہی.
مگر اتنا اس کو پتا لگ گیا تھا کہ اب وہ شادی کے قابل نہیں رہی. ابا کو پتا چل گیا تو وہ تو جان سے ہی مار دے گا, اس لیے گڑیا چپ رہی.
چچا شکور نے اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگ لیا. ابا نے ہاں کر دی, اماں اور گڑیا چپ رہی.
منگنی ہو گئی, منصور گندے گندے میسج کرتا تھا. گڑیا جواب نہیں دیتی تھی تو اس کی ماں کو کال کر کے منگنی توڑنے کی دھمکی دیتا تھا. گڑیا چپ رہی.
کالج سے واپسی پر چچا شکور گڑیا کو لے کر جانے کی ضد, کرتا تھا اور معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ کر, پوچھتا تھا, یاد ہے تجھے بچپن میں تجھے کیسے پیار کیا کرتا تھا میں. گڑیا چپ رہی.
کس سے کہتی, کیا کہتی.
شادی ہو گئی. منصور نے بہت مارا تو تو سیکنڈ ہینڈ نکلی حرافہ, مجھ سے فون پر بات نہیں کرتی تھی, نیک پروین بنتی تھی. کدھر منہ کالا کیا. گڑیا چپ رہی.
اگلے دن منصور نے کہا میں تجھے واپس باپ کے گھر, چھوڑ, کر آتا ہوں. شکور نے کہا پہلے مجھے بدلہ لینے دے. کمرہ بند. گڑیا چپ رہی.
شام کی چائے میں گڑیا نے باپ بیٹے کو زہر دے دیا اور باپ کے گھر آ گئی.
خبر لگی زبردستی کی شادی پر دلہن نے سسر اور دلہے کو زہر دے دیا.
فیس بک پر لوگ کہنے لگے کہ اپنے باپ کو زہر دیتی, شوہر اور سسر کو کیوں قتل کیا؟
پولیس پوچھتی رہی کہ تم نے ایسا کیوں کیا. گڑیا چپ رہی.
منقول



عورت سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے۔ اور سب گھر والوں کے لیئے سحری تیار کرتی ہے لیکن سب سے آخر میں کھاتی ہے۔🍝روزہ رکھنے کے...
16/04/2022

عورت سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے۔ اور سب گھر والوں کے لیئے سحری تیار کرتی ہے لیکن سب سے آخر میں کھاتی ہے۔🍝
روزہ رکھنے کے بعد دوپہر میں بچوں کو کھانا کھلاتی ہے۔🍜
پھر 4 بجے کے بعد سے افطاری تک اپنے خاندان والوں کے لیئے افطاری تیار کرنے میں لگ جاتی ہے۔
چاول۔ پالک۔ گوشت۔ چٹنی وغیرہ وغیرہ تیار کرتی ہے اور ساتھ میں یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیسے پکایا ہوگا۔
ساس اور سسر کے لیئے الگ چیز پکاتی ہے۔اور ساتھ ساتھ میں افطاری سے پہلے شوہر کے غصہ کو صبر سے جھیلنا بھی پڑتا ہے۔

اذان سے پہلے دسترخوان لگانا تعریف تو دور کی بات 2۔۔2 روٹیاں کھانے کے بعد ایک ٹھنڈا گلاس🍺 لسی مانگنا اور پھر کہنا کہ نمک کم ہے اور خاص ٹھنڈا نہیں ہے اور افطاری پوری کی پوری کر لی جناب نے۔

اسکے بعد چھپکے سے کسی کمرے میں افطاری کرلیتی ہے۔
تراویح کے بعد پھر سے حضرات کے لیئے چائے اور میوہ تیار کرتی ہے۔☕🍱

اور پھر سے سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے۔💆
اگر خدا نا خواستہ نہ جاگی 2 بجے یا سحری لیٹ ہوئی تو سب خاندان کا نزلہ بیچاری عورت پر گرتا ہے سارا دن۔

🙏👏آپ سے درحواست ہے ک۔ ۔
گھر کی ساری عورتیں خواہ وہ ماں ہو بیوی ہو بیٹی ہو بہن ہو یا کوئی اور رشتہ ہو انکا لازمی خیال رکھنا چاہیئے۔
آخر وہ بھی ہماری طرح انسان ہے۔

15/04/2022

Address

24-K, Gulberg II/72 Z, Phase III, DHA
Lahore
54000

Telephone

35715535

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yum restaurant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share