30/12/2022
مسکراتی ہوئی آنکھوں میں یہ اقرار بھی ہے
میرے محبوب کو اب مجھ سے بہت پیار بھی ہے
میرے افکار میں زندہ ہے محبت بن کر
وہ مری سوچ ، مرا ذکر بھی افکار بھی ہے
اُس کی خوشبو سے مہکتی ہیں گلابی کلیاں
دل کے گلشن میں یہاں پیار کی مہکار بھی ہے
پاس آتا ہے تو رک جاتی ہے دل کی دھڑکن
ایک بھنورا مری سانسوں کا طلبگار بھی ہے
لگ کے سینے سے لٹا دی مجھے چاہت اس نے
مجھ پہ مرتا ہے محبت میں کہ دلداربھی ہے
دل کے شیشے میں نظر آتا ہے اس کا چہرہ
حُسن کے سامنے وہ حُسن کا شہکار بھی ہے
مال و دولت نہ ہی عہدے کی ہے حسرت وشمہ
زندگی تیرے بنا درد کا بازار بھی ہے