24/08/2025
برف، گلابی نمک، ٹکور
اور جوڑوں کا درد کم ہو گیا ۔!
ابھی چند دن پہلے ہمارے دوست اسلم بھائی نے فون کیا۔ کہنے لگے: "جاوید بھائی، کافی دنوں سے میرے ٹخنے کے آس پاس شدید درد ہے۔ شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹروں کو دکھا چکا ہوں، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کئی مہنگے ٹیسٹ بھی کرا لیے، وہ بھی کلیئر ہیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں؟ آپ کوئی مشورہ دیجیے۔" میں نے کہا: "اسلم بھائی، ایک نہایت سادہ، آسان اور آزمودہ طریقہ ہے، اسے آزما کر دیکھ لیجیے۔ برف کوٹ کر باریک چورا بنا لیجیے پھر اس میں دو سے تین چمچ گلابی نمک (پنک سالٹ) ملا دیں۔ ایک موٹے کپڑے کی پوٹلی بنا کر درد کے مقام پر دائیں، بائیں، اوپر، نیچے — یعنی مکمل طور پر — پندرہ منٹ تک ٹکور کریں۔ پوٹلی کو مسلسل حرکت میں رکھیں۔ دو گھنٹے بعد یہی عمل دہرائیں۔" اگلے دن اسلم بھائی کا میسج آیا، بڑے خوش ہو کر بولے: "جاوید بھائی، اللہ آپ کو جزا دے، آپ کو دل سے بے شمار دعائیں دے رہا ہوں۔ وہ درد جو ہفتوں سے مجھے بے حال کر رہا تھا، وہ ایک ہی سیشن کے بعد کم ہونے لگا، اور تین چار سیشن کے بعد تو ایسا لگتا ہے جیسے درد تھا ہی نہیں۔ مجھے تو تلاش کرنا پڑ رہا ہے کہ کہاں گیا! ان شاء اللہ میں اس ٹکور کو جاری رکھوں گا۔" تو دیکھیے، نمک اور برف کا امتزاج کس طرح معجزانہ اثر کرتا ہے۔ یہ دونوں مل کر مقامِ درد کی سوجن اور ورم کو کم کرتے ہیں۔ جب کسی عضو سے ورم کم ہوتا ہے، تو درد بھی خودبخود ختم ہونے لگتا ہے۔ یاد رکھیں، درد، دراصل ایک علامت ہوتا ہے، ایک الارم، ایک گھنٹی — جو جسم ہمیں یہ بتانے کے لیے بجاتا ہے کہ یہاں کچھ گڑبڑ ہے، خون کا بہاؤ متاثر ہو رہا ہے، اندرونی نظام میں رکاوٹ ہے، کچھ عناصر صحیح کام نہیں کر رہے۔ اب یوں سمجھیں جیسے سڑک پر گڑھا پڑ جائے اور وہاں ٹریفک جام ہو جائے، تو جیسے وہ جام رکاوٹ کی علامت ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جسم میں بھی جب ورم ہوتا ہے تو خون کی روانی، اعصاب، رطوبتیں، سب رکنے لگتے ہیں۔ تو جو کام ٹریفک پولیس کرتی ہے نا، راستہ صاف کرنے کا — وہی کام برف اور نمک کی ٹکور کرتی ہے۔ یعنی جہاں رکاوٹ ہو، وہاں سے سوجن اور فالتو رطوبت کو کھینچ لیتی ہے، ورم کم ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی درد بھی۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ سن لیجیے۔ ایک نوجوان نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اُس کے کندھے (شولڈر) پر ایک عجیب سا ابھار بن گیا تھا، اور ڈاکٹرز نے اُسے سخت خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ کہنے لگے: "بایوپسی کراؤ، فلاں ٹیسٹ کراؤ، یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے۔" میں نے اُسے سمجھایا: "دیکھو بھائی، اگر دل مطمئن نہ ہو، تو ٹیسٹ ضرور کرا لو۔ لیکن ایک کام کر کے دیکھو۔ برف اور گلابی نمک کی پوٹلی بنا کر روزانہ دو بار اس مقام پر پندرہ منٹ تک ٹکور کرو۔" اُس نے پہلے صبح مجھے ایک تصویر بھیجی۔ اور پھر شام کو بھی ساتھ میسج آیا: "الحمدللہ، صرف ایک دن میں ہی ابھار میں 25 سے 30 فیصد کمی محسوس ہو رہی ہے۔" میں نے کہا: "بس پھر، اسے جاری رکھو۔ اور جب مکمل آرام آ جائے تو اگر چاہو، تسلی کے لیے ٹیسٹ بھی کروا لو۔" تو میری یہ گزارش ہے کہ اگر جسم میں کہیں بھی سوجن، ورم، دانہ یا کوئی ابھار ہو، جو لمبے عرصے سے ختم نہ ہو رہا ہو، تو سب سے پہلے یہ برف اور گلابی نمک کی ٹکور ضرور کر کے دیکھیں۔ روزانہ تین سے چار بار، وقفے وقفے سے، پندرہ پندرہ منٹ کے سیشن کریں۔ ان شاء اللہ فائدہ ضرور ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ٹکور کام کیسے کرتی ہے؟ دراصل برف کا اثر ہوتا ہے سکڑاؤ پیدا کرنا، خون کی نالیوں کو سکیڑ دینا، جس سے ورم والی جگہ پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ نمک، خاص طور پر قدرتی گلابی نمک، جسم سے اضافی رطوبت کھینچ لیتا ہے۔ دونوں مل کر سوجن کم کرتے ہیں، اور جیسے ہی سوجن گھٹتی ہے، درد خودبخود ختم ہونے لگتا ہے۔ یاد رکھیں، یہ طریقہ صرف برف سے نہیں، بلکہ گرم پانی کی ٹکور سے بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر پرانا درد ہو، سختی ہو، تو نمک ملا کر گرم پانی سے بھی پوٹلی بنائیں اور ٹکور کریں، دن میں دو بار، ان شاء اللہ فرق آئے گا۔ اور یہ علاج صرف وقتی چوٹ یا موچ پر ہی نہیں، پرانے مسائل پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھی انسان مہنگی دوائیاں کھاتا رہتا ہے، لیکن ایسے سادہ گھریلو نسخے نظرانداز کر دیتا ہے، جو اکثر اوقات زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ تو دوا بعد میں، پہلے یہ آزمودہ ٹکور ضرور کریں۔ ساتھ ساتھ، اپنی غذا پر بھی توجہ دیں۔ وہ تمام قدرتی چیزیں جو اینٹی انفلامیٹری ہیں، یعنی ورم اور سوجن کم کرنے والی — جیسے: لہسن، ادرک، دھنیا، پودینہ، لال مرچ، ہری مرچ، پیاز — ان سب کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔ چاہے وہ سوپ میں ہو، چٹنی میں، شوربے میں یا قہوے میں۔ اور خاص طور پر جو لوگ جسم میں مسلسل درد، تھکن، سوجن یا ورم کی شکایت کرتے ہیں، اُنہیں چاہیے کہ کچھ دن کے لیے مکمل طور پر ترک کر دیں: گندم، چاول، چینی، دودھ اور ان سے بنی ہوئی اشیاء۔ تین دن ہی کافی ہیں۔ تین دن میں جسم خود آپ کو اشارہ دے دے گا کہ وہ ہلکا ہو رہا ہے، آرام مل رہا ہے۔ آج ہی میرے پاس تین پیغامات آئے کہ: "پورے جسم میں درد ہے، سارے جسم میں بوجھ ہے!" تو بھائی! جب سارا جسم درد میں ہو، تو پہلے اپنے کھانے پر نظر ڈالو۔ ایک ہفتے کے لیے گندم، چینی، دودھ، چاول سب بند کر دو، اور صرف لیکوئڈ فوڈ پر آ جاؤ — مثلاً شوربہ، قہوہ، سبزیوں کا سوپ، اور اینٹی انفلامیٹری چیزیں۔ پھر دیکھو کیسا فرق پڑتا ہے۔ تو خلاصہ یہ ہے کہ یہ برف اور گلابی نمک کی ٹکور، بظاہر ایک سادہ سی بات لگتی ہے، مگر اس میں اللہ نے شفا رکھی ہے۔ آزمائش شرط ہے۔ اگر فائدہ نہ ہوا، تو دوا بعد میں بھی کھائی جا سکتی ہے — لیکن اگر فائدہ ہو گیا، تو کیا ہی بات ہے!
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
آپ کا بھائی جاوید اختر آرائیں
١٩ اگست ۲۰۲۵