22/01/2026
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک J کے رہائشی عمر نبیل اپنی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ عمر (جو حاملہ تھیں) اور 10 سالہ بیٹے علی کے ساتھ اپنے آنے والے ننھے مہمان کی خوشیوں کی خریداری کے لیے گل پلازہ گئے تھے۔
کون جانتا تھا کہ یہ خوشی کا سفر، آخری سفر بن جائے گا۔
عینی شاہدین اور اہلِ خانہ کے مطابق، آگ لگنے کے بعد ڈاکٹر عائشہ نے فون پر بتایا کہ وہ پہلی منزل پر دھوئیں میں پھنس چکے ہیں اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔
ریسکیو ٹیموں کو بعد میں سرچ آپریشن کے دوران ان تینوں کی لاشیں ملیں۔
ایک ماں… ایک باپ… ایک معصوم بچہ… اور وہ آنے والا ننھا وجود، جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی رخصت ہو گیا۔
پیچھے صرف ایک بچی رہ گئی ہے، جو اس سانحے کے بعد زندگی بھر ان خوفناک یادوں کے سائے میں جینے پر مجبور ہوگی۔
کیا وہ کبھی اس درد سے نکل پائے گی؟
یہ خاندان اس سانحے کی سب سے دردناک مثال ہے—
جہاں خوشیوں کی تیاری، قیامت میں بدل گئی۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،
اور پسماندگان خصوصاً ننھی بیٹی کو صبرِ جمیل دے۔
آمین 🤲