24/07/2026
حضرت سید فتح محمد شاہ بخاریؒ کے دربارِ عالیہ کی دریافت اور اس کی روحانی تاریخ کے بارے میں آپ نے انتہائی مستند، ایمان افروز اور دلکش معلومات شیئر کی ہیں۔ خواب میں بشارت، خوشبو کا پھیلنا اور دربار شریف کی مٹی سے عقیدت کا یہ واقعہ کمالیہ کی روحانی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ہے۔آپ کے بیان کردہ حقائق کے مطابق درگاہ کا یہ تاریخی اور روحانی تسلسل درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہے:دربار شریف کی دریافت اور روحانی پس منظرخواب میں بشارت: حضرت سید فتح محمد شاہ بخاریؒ نے خود خواب میں تشریف لا کر حضرت دیوان مسکین کمالوی فریدیؒ کو اپنے زمین دوز مقامِ دفن کی نشاندہی فرمائی۔مقدس قبر کی برآمدگی: فجر کی نماز کے بعد اہلِمحلہ کے ساتھ کی جانے والی خدائی کے دوران قبرِ مبارک برآمد ہوئی، جس سے اٹھنے والی بے مثل خوشبو نے پورے علاقے کو معطر کر دیا۔روحانی گفتگو کا سلسلہ: مزار مبارک کے قیام کے بعد حضرت دیوان مسکین کمالوی فریدیؒ کا یہاں روزانہ آنا جانا اور صاحبِ مزار سے روحانی کلام و تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہا۔دیوان نگر کا قیام: اسی گہرے روحانی تعلق اور آمد و رفت کی وجہ سے اس پورے علاقے کا نام "دیوان نگر" مشہور ہوا جو آج بھی کمالیہ کا ایک معروف علاقہ ہے۔گدی نشینی اور نظامِ درگاہ کا تسلسل حضرت دیوان مسکین کمالوی فریدیؒ کے بعد اس پاکیزہ نظام کو نسل در نسل اس طرح سنبھالا گیا:پہلا دور (بانی): حضرت دیوان مسکین کمالوی فریدیؒ (جنہوں نے دربار شریف کو آباد کیا)۔دوسرا دور (بیٹے): ان کے فرزندِ ارجمند حضرت مسرور قادر فریدیؒ، جنہوں نے ایک طویل عرصے تک دربار شریف کے نظام کو نہایت احسن طریقے سے چلایا۔موجودہ دور (پوتے): ان کے پوتے اور موجودہ سجادہ نشین پیر عامر شاہ صاحب، جو اپنے دادا اور والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دربار شریف کی تمام روحانی، سماجی اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں اور عوام کے سکھ دکھ میں شریک ہیں