15/04/2026
سپہ سالار کا جرات مندانہ فیصلہ: مشرقِ وسطیٰ کے خطرات کے باوجود تہران کا دورہ اور عالمی حیرت
تفصیل
یہ گرافک تصویر، پاکستان کے آرمی چیف، جنرل سید عاصم منیر، کو ان کی فوجی وردی اور بیریٹ میں، ایک ایرانی سویلین اہلکار (احتمالاً صدر ابراہیم رئیسی) کے ساتھ گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھاتی ہے۔ یہ ملاقات شام کے وقت ہوائی اڈے کے رن وے پر ایک نجی طیارے کے سامنے ہو رہی ہے۔ آس پاس دیگر فوجی اور سویلین افراد بھی موجود ہیں، جن میں سے ایک سپاہی تصویر کھینچ رہا ہے۔
تصویر کے نیچے، زرد اور سفید رنگ میں جلی اردو متن موجود ہے، جو اس واقعے کی مخصوص تشریح پیش کرتا ہے۔ زرد رنگ میں لکھی سرخی اس دورے کو ایک "جرات مندانہ" اقدام قرار دیتی ہے، اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ "مشرقِ وسطیٰ کے بحران" اور "اسرائیل کے حملے" کے مخصوص خطرات کے باوجود کیا گیا ہے۔ نیچے سفید متن مزید دعویٰ کرتا ہے کہ اس دورے نے "عالمی سطح پر گہری حیرت" پیدا کی ہے اور سپہ سالار کے عزم کے لیے "قوم کی طرف سے زبردست پذیرائی" حاصل کی ہے۔ یہ تصویر ایک پروپیگنڈا طرز کے گرافک کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہے، جس میں ایک بھاری وینیٹ اور مخصوص، متنازعہ متنی دعوے شامل ہیں۔