22/05/2026
ضلع حاصل پور کے قیام کے لیے باضابطہ تجویز
تحصیل حاصل پور، خیرپور ٹامیوالی اور فورٹ عباس جنوبی پنجاب کے اہم مگر پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان علاقوں کے عوام کو انتظامی امور، صحت، تعلیم، عدالتی معاملات، ریونیو سروسز اور دیگر سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں، جس سے عوام شدید مشکلات اور محرومیوں کا شکار ہیں۔
حاصل پور جغرافیائی، تجارتی اور آبادی کے لحاظ سے ایک موزوں مقام رکھتا ہے، اس لیے اسے ضلع کا درجہ دینا نہ صرف عوامی ضرورت ہے بلکہ انتظامی طور پر بھی ایک مؤثر فیصلہ ثابت ہوگا۔
ضلع حاصل پور کے قیام کی وجوہات
1۔ انتظامی آسانی
نئے ضلع کے قیام سے عوام کو سرکاری دفاتر، عدالتوں، پولیس، ریونیو اور دیگر محکموں تک فوری رسائی حاصل ہوگی۔
2۔ عوامی محرومیوں کا خاتمہ
علاقے کے عوام کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ضلع بننے سے ترقیاتی منصوبوں میں اضافہ ہوگا اور احساسِ محرومی ختم ہوگا۔
3۔ صحت اور تعلیم میں بہتری
ضلع کی سطح پر اسپتالوں، کالجز، یونیورسٹی کیمپسز اور دیگر اداروں کے قیام کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
4۔ معاشی ترقی
حاصل پور ایک اہم زرعی اور تجارتی مرکز ہے۔ ضلع بننے سے سرمایہ کاری، کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
5۔ امن و امان کی صورتحال میں بہتری
مقامی سطح پر انتظامی اختیارات منتقل ہونے سے پولیس اور ضلعی انتظامیہ مؤثر انداز میں کام کر سکے گی۔
عوامی مطالبات
ہم حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
تحصیل حاصل پور، تحصیل خیرپور ٹامیوالی اور تحصیل فورٹ عباس کو ملا کر نیا ضلع قائم کیا جائے۔
حاصل پور کو ضلع ہیڈکوارٹر قرار دیا جائے۔
“وقت آ گیا ہے کہ حاصل پور، خیرپور ٹامیوالی اور فورٹ عباس کے عوام کو ان کا حق دیا جائے۔ ضلع حاصل پور کا قیام جنوبی پنجاب کی ترقی اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کی ضمانت ہے۔”