27/08/2025
ڈپریشن کو معمولی مت لیا کریں، تحقیق سے پتا چلا ہے کہ شدید ڈپریشن آگے چل کر ذہنی حالت کو اس قدر بگاڑ دیتا ہے انسان میں درد دینے اور درد سہنے کے صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ایسے ہی ایک ماں نے اپنے دو بچوں کو آگ لگا دی انہیں ذندہ جلتا دیکھ کر وہ سگریٹ پیتی رہی جب وہ نارمل ہوئی تو اسکے بچے جل کر مر چکے تھے ۔پھر جب اس طرح کے واقعے ہو جاتے ہیں تو ہم بڑی بڑی فلاسفی جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں کہ ماں تھی یا فرعون ایسا کیسے کر گئی؟ تو خدارا لوگوں کو خوش رہنے دیں کسی کی ذہنی بربادی کا سبب مت بنیں کوئی ناچ رہا ہے ناچنے دیں کسی کی شکل اچھی نہیں لگی تو دفع ہوجائیں اپنی پیاری شکل سمیٹ کے کسی کی آواز بھدی لگ رہی ہے تو کانوں میں ایلفی ڈال لیں اسکی ذندگی میں دخل اندازی کرنا بند کر دیں کوئی آپ کے ساتھ مخلص ہے تو اس کو بدلے میں اتنی توجہ اتنا پیار دیں جتنا وہ آپکو دے رہا ہے اپنے آس پاس کسی کو ڈپریس پائیں تو اسے ٹکے ٹکے کی باتیں سنانے کی بجاۓ اسے ہنسانے کی کوشش کریں مگر نہیں ہمیں تو شوق ہے لوگوں میں گھس کے انہیں زلیل کرنے کا کیسا منافق معاشرہ بنا رہے ہو؟ جس میں جب تک کوئی پھندہ ڈال کے جھول مرتا نہیں جب تک کوئی گولیاں پھانک کے اپنی الجھی سانسوں کی ڈور کاٹتا نہیں تب تک ہم مانتے ہی نہیں کے اگلا ڈپریشن میں تھا