Barkate Raza Channel

Barkate Raza Channel barakate raza channel

11/08/2025
01/07/2025
08/01/2025

جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور وہ زخمی ہوگئے تو ان کے زخموں کا علاج کرنے کے لیے دودھ پلایا گیا۔ لیکن دودھ ان کے زخم سے باہر نکل آیا۔ اس پر طبیب نے کہا: "اے امیر المؤمنین! آپ کی زندگی کے دن محدود ہیں، وصیت کر لیجیے۔"

عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا:
"حذیفہ بن یمان کو میرے پاس لے آؤ۔"

حذیفہ رضی اللہ عنہ وہ صحابی تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتائے تھے، اور یہ راز صرف اللہ، رسول اللہ، اور حذیفہ ہی جانتے تھے۔

جب حذیفہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے، خون بہنے کے باوجود، ان سے کہا:
"اے حذیفہ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا رسول اللہ نے میرا نام منافقین میں لیا تھا؟"

حذیفہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اصرار کیا:
"اللہ کے لیے بتاؤ، کیا میرا نام لیا تھا؟"

حذیفہ رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بولے:
"میں یہ راز کسی کو نہیں بتا سکتا، لیکن آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام منافقین میں نہیں لیا۔"

یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا:
"اب دنیا میں میری صرف ایک خواہش باقی رہ گئی ہے۔"

عبداللہ نے پوچھا:
"وہ کیا ہے، اے ابا جان؟"

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
"عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر بن خطاب سلام کہتا ہے، اور یہ نہ کہنا کہ امیر المؤمنین سلام کہتا ہے، کیونکہ میں آج کے دن مؤمنین کا امیر نہیں ہوں۔ اور ان سے کہو کہ عمر درخواست کرتا ہے کہ اسے اپنے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔"

عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت مانگی۔ وہ اس وقت رو رہی تھیں، لیکن انہوں نے فرمایا:
"میں یہ جگہ اپنے لیے رکھنا چاہتی تھی، لیکن آج میں اسے عمر کے لیے قربان کرتی ہوں۔"

عبداللہ رضی اللہ عنہ خوشی خوشی واپس آئے اور خبر دی۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ کا چہرہ زمین پر تھا۔ عبداللہ نے ان کا چہرہ اپنی ران پر رکھنا چاہا، تو عمر نے فرمایا:
"میرے چہرے کو زمین پر رہنے دو، تاکہ میں اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ پیش ہو سکوں۔ افسوس ہے عمر پر، اگر اس کا رب اسے معاف نہ کرے۔"

عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی:
"جب میری نماز جنازہ ہو تو حذیفہ کا خیال رکھنا۔ اگر وہ میری نماز جنازہ میں شریک ہوں، تو سمجھو کہ اللہ نے مجھے معاف کر دیا۔ پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے پر لے جانا اور کہنا:
'اے ماں! آپ کا بیٹا عمر اجازت چاہتا ہے۔' اگر انہوں نے اجازت دے دی تو مجھے وہاں دفن کرنا، ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔"

چنانچہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ ادا کی تو عمر رضی اللہ عنہ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر لے جایا گیا اور اجازت مانگی گئی۔ انہوں نے اجازت دے دی، اور یوں عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔

اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ جنہیں جنت کی بشارت ملی، پھر بھی وہ اللہ کے خوف سے لرزتے رہے۔ لیکن آج ہم غفلت اور بے خوفی کی زندگی گزار رہے ہیں، نہ اپنے اعمال کا حساب کرتے ہیں، نہ اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں۔

اللهم أحسن خاتمتنا، واغفر لنا ولإخواننا المسلمين.

29/12/2024

شروع میں مردہ شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ خود کو موت کا خواب دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ خود کو روتا، نہاتا، گرہ لگاتا اور قبر پر اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ خواب دیکھنے کا تاثر رکھتا ہے
جب وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ چیختا ہے لیکن کوئی اس کی چیخ نہیں سنتا، جب ہر کوئی منتشر ہو جاتا ہے اور زمین کے اندر تنہا رہ جاتا ہے، اللہ اس کی روح کو بحال کرتا ہے۔ وہ آنکھیں کھولتا ہے اور اپنے "برے خواب" سے جاگتا ہے۔ پہلے تو وہ خوش اور شکر گزار ہوتا ہے کہ، جس سے وہ گزر رہا تھا وہ صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا ، اور اب وہ اپنی نیند سے بیدار ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کو چھونے لگتا ہے ، جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہے ، خود سے حیرت سے سوال کرتا ہے "میری قمیض کہاں ہے
"میں کہاں ہوں ، یہ جگہ کہاں ہے ، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا کیوں ہے ، میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟" پھر اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر زمین ہے ، اور جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے وہ خواب نہیں ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔
وہ ہر ممکن حد تک زور سے چیختا ہے ، پکارتا ہے: اس کے رشتہ دار جو اس کے مطابق اسے بچا سکتے تھے:
اسے کوئی جواب نہیں دیتا۔ وہ پھر یاد کرتا ہے کہ اس وقت اللہ ہی واحد امید ہے۔ وہ اس کے لیے روتا ہے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے اس سے التجا کرتا ہے۔
"یا اللہ! یا اللہ! مجھے معاف کر دے یا اللہ ... !!!
وہ ایک ناقابل یقین خوف سے چیختا ہے جو اس نے اپنی زندگی کے دوران پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
اگر وہ ایک اچھا انسان ہے تو مسکراتے ہوئے چہرے والے دو فرشتے اسے تسلی دینے کے لیے بیٹھ جائیں گے ، پھر اس کی بہترین خدمت کریں گے،
اگر وہ برا شخص ہے تو دو فرشتے اس کے خوف کو بڑھا دیں گے اور اس کے بدصورت کاموں کے مطابق اسے اذیت دیں گے۔

اے اللہ مجھے اور میرے ماں ، باپ اور میرے خاندان اور دوستوں و عزیر رشتے داروں کے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرما دیں 🙏🏻
اور ہمیں ایمان پر موت نصیب فرمانا۔۔۔😭😭😭
#آمین_______ثم_______آمین

24/12/2024

*سوال نمبر 38*

*کیا بیچ مانگ کرکے چوٹی کرنا سنت ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الســـلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسںٔلہ ذیل کے بارے میں
کیا بیچ مانگ کر کے چوٹی کرنا سنت ہے؟
جواب عنایت فرماںٔیں

*ساںٔل:_تبریز اسماعیلیہ چھتیس گڑھ انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ وصلی علی رسول الکریم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ

الجواب بعونه تعالى عزوجل
سر۔میں بیچ سے مانگ نکالنا۔
یعنی سیدھی مانگ نکلنا سنت ہے اور یہ حکم مرد و زن دونوں کے لئے ہے۔
حدیث شریف میں ہے
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں
كنتُ إذا أردتُ أن أَفرُقَ رأسَ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ ، صدَعتُ الفرقَ من يافوخِهِ وأرسلُ ناصيتَهُ بينَ عَينيهِ(صحيح أبي داود:4189)
ترجمہ:_ میں جب رسول اللہ ﷺ کے بالوں میں مانگ نکالنے لگتی تو آپ ﷺ کے سر کے بیچوں بیچ سے نکالتی اور آپ ﷺ کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لٹکاتی یعنی پھر انہیں آدھو آدھ کر دیتی ۔
حدیث شریف میں ہے کہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا👇
*کان النبیﷺیحب موافقةاھل الکتاب فیمالم یٶمرفیہ وکان اھل الکتاب یسدلون اشعارھم وکان المشرکون یفرقون رٶسھم فسدل النبیﷺناصیةثم فرق بعد*
*ترجمہ:*👈 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کام میں (خداکی جانب سے)حکم نہ فرمادیاجاتا اس میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اہل کتاب اپنے بالوں کو چھوڑتے تھے جبکہ مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فلم پیشانی مبارک کے بال چھوڑے رکھتے
پھر بعد میں مانگ نکالنے لگے
(📚صحیح بخاری حصہ ٧ ص ١٦٢)
بہار شریعت میں ہے
حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) بیچ سر میں مانگ نکالتے۔(📚بہار شریعت 16/589)

والله ورسوله أعلم بالصواب

*كتبته سیدہ اسدیہ۔ گروپ خواتین کے مسائل کا شرعی حل*
23/12/2024

24/12/2024
Hamre naujawan zaroor sochain
18/05/2024

Hamre naujawan zaroor sochain

11/04/2024

آپ تمامی حضرات کو عید الفطر (یوم الجائزہ) مبارک ہو

25/03/2023

natkhat

Address

Belgaum
Kishanganj
855107

Telephone

+918080341204

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Barkate Raza Channel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Barkate Raza Channel:

Share

Category