M Rayan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M Rayan, Restaurant, Canada, Ottawa County, MI.

ابو سلمہ کی وفات اور دعا کی برکت ابو سلمہ نے غزوہ احد میں شرکت کی اور شدید زخمی ہو گئے۔ وہ طویل عرصے تک اس زخم کی تکلیف ...
06/27/2026

ابو سلمہ کی وفات اور دعا کی برکت ابو سلمہ نے غزوہ احد میں شرکت کی اور شدید زخمی ہو گئے۔ وہ طویل عرصے تک اس زخم کی تکلیف جھیلتے رہے یہاں تک کہ سن 4 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ام سلمہ شدید غمزدہ ہوئیں، اور انہیں وہ حدیث یاد آئی جو انہوں نے اپنے شوہر کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے سنی تھی

جب بھی کسی بندے پر کوئی مصیبت آئے اور وہ کہے: إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أَجْرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأُخْلِفُ لِي خَيْرًا مِنْهَا (بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری اس مصیبت پر اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطا کر)، تو اللہ تعالیٰ اسے اجر بھی دیتا ہے اور بہتر نعم البدل بھی عطا فرماتا ہے۔

ام سلمہ نے اپنے دل میں سوچا: "ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ وہ تو پہلا گھرانہ تھا جس نے رسول الله ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی!"، لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں یہ دعا پڑھ لی۔ حضرت ام سلمہ کو انکی وفات سے سخت صدمہ پہنچا ۔ بار بار پکارتی تھیں " ہاے ہاے غربت میں کیسی " موت آئی ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے خود آنکھیں بند کیں ۔ ان کی نماز جنازہ پڑھتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تکبیریں کہیں ،لوگوں نے پوچھا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے نو تکبیریں کیسے کہیں ؟ فرمایا ابو سلمہ ہزار تکبیر کے مستحق تھےرسول الله ﷺ سے نکاح

عدت گزرنے کے بعد سیدنا ابوبکر اور پھر سیدنا عمر رضی الله عنہما نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ پھر رسول الله ﷺ نے خود ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے حیا کی وجہ سے تین عذر پیش کیے

وہ ایک غیور خاتون ہیں انہیں سوکنوں سے غیرت آنے

کا اندیشہ ہے)۔

وہ بال بچوں دار خاتون ہیں۔

ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے انتہائی شفقت اور نرمی سے جواب دیا

جہاں تک بچوں کا تعلق ہے، تو تمہارے بچے میرے بچے ہیں۔ رہی عمر کی بات تو میری عمر بھی تمہاری طرحہی زیادہ ہے۔ اور رہی غیرت کی بات تو میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہاری غیرت کا شدید حصہ) دور فرما دے۔

وست چنانچہ سن 4 ہجری کے مہینے شوال میں رسول الله سے ان کا نکاح ہوا، وہ ام المؤمنین بنیں، اور ان کے یتیم بچوں کو اس پاکیزہ گھرانے کا سایہ میسر آیا۔

علم اور حدیث کی روایت

سیدہ ام سلمہ کا شمار صحابہ کے جلیل القدر فقہاء میں ہوتا تھا۔ نبی ﷺ کے ساتھ طویل رفاقت اور آپ کے بعد طویل عمر پانے کی وجہ سے انہوں نے آپ سے 378 احادیث روایت کیں۔ احادیث کی روایت میں امہات المؤمنین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد ان کا دوسرا نمبر ہے۔ انہوں نے خواتین کے احکام عبادات اور شرعی سیاست سے متعلق انتہائیدقیق اور اہم مسائل روایت کیے۔

علامہ ابن قیم کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ کے فتاوی سے ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے ۔ ان کے فتاوى بالعموم متفق علیہ ہیں ۔

وفات

سیدہ ام سلمہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد طویل عرصے تک حیات رہیں اور انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان کی شہادت اور سیدنا حسین بن علی کی شہادت جیسے بڑے اور المناک واقعات دیکھے۔ وہ خلفاء اور حکام کو نصیحت آمیز خطوط بھی بھیجا کرتی تھیں۔ ان کا انتقال سن 61 ہجری (بعض روایات کے مطابق 62 ہجری میں ہوا، اور وہ امہات المؤمنین میں سب سے آخر میں وفات پانے والی خاتون تھیں۔ انہیں مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حضرت ابو ہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی

#تذكار صحابيات

کتاب :

طالب ہاشمی

اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و #

على آله و صحبه اجمعين

حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی (علیہ السلام) تاریخ اسلام اور خاص طور پر واقعۂ کربلا کے ایک عظیم معزز اور وفادار ترین کرداروں م...
06/24/2026

حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی (علیہ السلام) تاریخ اسلام اور خاص طور پر واقعۂ کربلا کے ایک عظیم معزز اور وفادار ترین کرداروں میں سے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور حضرت علی ابن ابی طالب امام حسن اور امام حسین کے مخلص ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور مقام و مرتبہ

نسب اور قبیلہ آپ کا تعلق بنی اسد کے معزز قبیلے سے تھا۔ آپ کوفہ کے اشراف اور نامور بزرگوں میں شمار ہوتے تھے۔

صحابیت حبیب ابن مظاہر نے بچپن میں رسول الله کا دور دیکھا تھا اور ان سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔

امام علی کے با اعتماد ساتھی کوفہ میں قیام کے دوران وہ مولا علی کے خاص اصحاب اور "شرطة الخمیس امام کے فداکار دستے میں شامل تھے۔ امام علی نے انہیں علم منایا و بلایا مستقبل کے غیبی امور اور شہادتوں کا علم سکھایا تھا۔

امام حسین علیہ السلام کا خط اور کربلا آمد

جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ چھوڑا اور مکہ کے بعد کربلا کا رخ کیا تو انہوں نے کوفہ کے چند مخلص ترین ساتھیوں کو خطوط لکھے۔ ان میں سے ایک خاص خط حضرت حبیب ابن مظاہر کے نام تھا، جس کا متن کچھ یوں تھا

من الحسين بن على الى الرجل الفقیہ حبیب بن" "... مظاہر

حسين بن علی کی طرف سے فقیہ انسان حبیب بن) .... مظاہر کے نامامام نے خط میں لکھا کہ ہم کربلا پہنچ چکے ہیں اور ہمیں آپ کی نصرت کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی حبیب کو یہ خط ملا، وہ اپنی زوجہ کی مدد سے ابن زیاد کے جاسوسوں سے چھپتے ہوئے رات کے اندھیرے میں کوفہ سے نکلے اور ۷ محرم الحرام کو کربلا میں امام حسین کے کاروان سے جا ملے۔

کربلا میں اہم کردار

بنی اسد کو دعوت کربلا پہنچنے کے بعد جب حبیب نے دیکھا کہ امام حسین کے انصار کی تعداد بہت کم ہے، تو انہوں نے امام سے اجازت لے کر اپنے قبیلے بنی اسد) کے لوگوں سے ملاقات کی اور انہیں امام کی مدد کے لیے بلایا۔ تقریباً ۹۰ لوگ تیار بھی ہو گئے تھے، لیکن عمر بن سعد کے لشکر نے راستے میں رکاوٹ ڈال کر انہیں آنے نہ دیا۔

لشکر حسینی کے سپہ سالار ۱۰ محرم (روز عاشورا) کو امام حسین علیہ السلام نے اپنے چھوٹے سے لشکر کو منظم کیا، تو انہوں نے حضرت حبیب ابن مظاہر کو اپنے کا نگران اور سپہ Left Wing لشکر کے بائیں بازو سالار مقرر کیا۔

شجاعت اور شہادت

عاشورا کے دن بوڑھے ہونے کے باوجود حضرت حبيب ابن مظاہر نے نوجوانوں کی طرح بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یزیدی لشکر کے کئی نامور جنگجوؤں کو واصل جہنم کیا۔

دوران جنگ جب انہوں نے دیکھا کہ امام حسین نماز خوف ادا کرنا چاہتے ہیں، تو انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے نماز کے لیے ڈھال کا کام کیا تاکہ امام اور دیگر اصحاب سکون سے نماز پڑھ سکیں۔نماز کے بعد وہ دوبارہ میدان جنگ میں اترے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوئے۔ آخر کار بدیل بن صریم نامی ملعون نے ان پر وار کیا، اور ایک اور یزیدی نے پشت سے نیزہ مارا، جس سے وہ گھوڑے سے گر گئے اور جامِ شہادت نوش فرما کر امام حسین پر اپنی جان

نچھاور کر دی۔

روضہ اور زیارت

حضرت حبیب ابن مظاہر کا مقام امام حسین کے نزدیک اتنا بلند تھا کہ ان کی شہادت پر امام نے گہرا دکھ کا اظہار کیا اور فرمایا: "اے حبیب اللہ آپ پر رحم کرے، آپ ایک فاضل انسان تھے جو ایک رات میں پورا قرآن

ختم کرتے تھے۔

کربلا میں باقی تمام شہداء کو ایک اجتماعی قبر گنج شہداء میں دفن کیا گیا ہے، لیکن حضرت حبیب ابن مظاہر ان چند مخصوص شہداء میں شامل ہیں جن کی قبر مبارک امام حسین علیہ السلام کے ضریح پاک کے بالکل قریب، حرم کے اندر الگ سے بنائی گئی ہے، جہاں Syed@ لاکھوں زائرین ان کو سلامی پیش کرتے ہیں۔

آگے شئیر کریں تاکہ مزید پارٹ اپلوڈ کر سکوں! واقعہ کربلاحق و باطل کی ابتدا اور بدر کا بدلہ" (پس(منظرواقعہ کربلا صرف سن 61...
06/24/2026

آگے شئیر کریں تاکہ مزید پارٹ اپلوڈ کر سکوں

! واقعہ کربلا

حق و باطل کی ابتدا اور بدر کا بدلہ" (پس

(منظر

واقعہ کربلا صرف سن 61 ہجری کا ایک حادثہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ابدی معرکے کا تسلسل ہے جو زمین پر انسان کے قدم رکھنے کے پہلے دن سے جاری ہے۔ جب یزیدی لشکر نے امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کے سامنے وہ بدنامِ زمانہ جملے کہے کہ "آج ہم نے اپنے بزرگوں کا بدر کا بدلہ لے لیا، تو اس کی جڑیں تاریخ کی صدیوں پرانی تاریخ سے جڑی ہوئی تھیں۔

آئیں اس داستان کو بالکل آغاز سے سمجھتے ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام اور حق و باطل کی پہلی 1 جنگ

زمین پر حق اور باطل کی تقسیم سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی۔

بابیل تقویٰ اطاعت اور سچائی کی علامت بنے۔

قابیل حسد ضد اور سرکشی کا راستہ چنا۔ قابیل نے محض حسد کی بنیاد پر اپنے سگے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ یہ تاریخ انسانی کا پہلا خون تھا جو ناحق بہایا گیا۔ یہاں سے ایک اصول طے پا گیا کہ حق والی قربانی دیتے ہیں اور باطل والے حسد کی آگ میں اندھے ہو کر خون بہاتے ہیں۔ یہی تسلسل ہر دور کے انبیاء اور ان کے جانشینوں کے ساتھ چلتا رہا۔ قریش کے دو بڑے خاندان بنو ہاشم اور بنو امیہ 2عہدِ رسالت سے پہلے مکہ مکرمہ کی قیادت قریش کے پاس تھی۔ قریش کے دادا قصی بن کلاب" کے بعد ان کی نسل دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوئی، جہاں سے شروع ہوئی (Competition) خاندانی مسابقت بنو ہاشم سادات کا خاندان یہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا خاندان تھا۔ مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانا (سقایہ) اور ان کی میزبانی (رفادہ) ان کے ذمے تھی۔ یہ خاندان اپنی سخاوت, اخلاق اور شرافت کے لیے مشہور تھا۔

بنو امیہ امیہ بن عبد شمس کی نسل یہ خاندان تجارت مال و دولت اور سیاسی اثر و رسوخ میں آگے تھا۔ مکہ کا لشکری جھنڈا (عقاب) اکثر ان کے پاس ہوتا تھا۔

ظہور اسلام سے پہلے تک ان دونوں خاندانوں میں مکہ کی سرداری کو لے کر ایک خاموش سرد جنگ موجود تھی، لیکن بنو ہاشم کا اخلاقی مرتبہ ہمیشہ بلند رہا۔ اعلان نبوت اور پرانے حسد کا جاگنا 3 -

صلى الله جب الله کے رسول حضرت محمد نے مکہ میں نبوت کا اعلان کیا، تو بنو امیہ کے اکثر بڑوں (جیسے ابو سفیان اور دیگر قریش نے اسے حق و باطل کے بجائے خاندانی سرداری کی جنگ سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا، تو بنو ہاشم کی سرداری ہمیشہ کے لیے قائم ہو جائے گی اور ہم نیچے رہ جائیں گے۔ مکہ کے سرداروں نے اعتراف کیا تھا کہ ہم بنو ہاشم کا مقابلہ ہر چیز میں کرتے تھے، لیکن جب انہوں نے کہا کہ ہم میں ایک نبی ہے جس پر وحی آتی ہے، تو ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں؟ ہم یہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔جنگ بدر کفر کی کمر ٹوٹنا 4

ہجرتِ مدینہ کے بعد سن 2 ہجری میں جنگ بدر ہوئی۔ یہ اسلام اور کفر کا پہلا بڑا معرکہ تھا۔ اس جنگ میں لى الله بنو ہاشم اور مسلمانوں کی قیادت خود حضور اکرم ﷺ کر رہے تھے اور میدان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کفر کے بڑے بڑے تکبر کو خاک میں ملایا۔

دوسری طرف بنو امیہ اور قریش کے نامور سردار (جیسے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ مارے گئے۔ یہ عتبہ یزید کی دادی (ہند) کا باپ تھا، اور ولید اس کا ماموں تھا۔

جنگ بدر میں مکہ کے ان مشرک سرداروں کے مارے جانے پر بنو امیہ کے دلوں میں ایک شدید خاندانی کینہ اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ اگرچہ فتح مکہ (8) ہجری کے موقع پر ابو سفیان اور ان کی اولاد نے اسلام قبول کر لیا اور وہ مسلمان کہلائے، لیکن ان کے خاندان کے بعض لوگوں کے دلوں میں بدر کے مقتولین کا وہ درد اور حسد اندر ہی اندر دبا رہا۔

کربلا میں "بدر" کے بدلے" کا نعرہ 5

اب ہم سیدھے چلتے ہیں سن 61 ہجری میں۔ جب یزید کے لشکر نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا اور اہل بیت پاک کی مستورات کو قیدی بنا کر دمشق کے دربار میں لایا گیا، تو یزید نے کفر کے زمانے کے شعر پڑھے

کاش آج بدر میں مارے جانے والے میرے بزرگ موجود ہوتے اور دیکھتے کہ کیسے خزرج (مسلمانوں) پر تلواریں چلیں۔ وہ یہ دیکھ کر خوشی سے چلا اٹھتے اور کہتے: اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں، تو نے کمال کردیا۔ ہم نے ان کے بزرگوں کے بدلے اپنے بزرگوں کا حساب برابر کر دیا اور بدر کا بدلہ لے لیا۔

خلاصہ: یہ جملے ثابت کرتے ہیں کہ کربلا کا معرکہ کوئی اچانک ہونے والی سیاسی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ باطل کے اسی پرانے خاندانی ،حسد، کینے اور بدر کے انتقام کی آگ تھی جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نواسہ رسول سے لی گئی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے جان دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ہاشمی سچائی کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتی۔

)References(:

مستند تاریخی حوالے

ہابیل اور قابیل کا واقعہ قرآن مجید، سوره المائده

آیات 27 تا 30

احادیث مبارکہ کی روشنی میںصلى الله وس حضور اکرم ﷺ نے واضع طور پر سورت یسین کو قرآن کا دل قرار دیا ہے۔حضور ﷺ کا فرمان ہےب...
06/23/2026

احادیث مبارکہ کی روشنی میں

صلى الله وس حضور اکرم ﷺ نے واضع طور پر سورت یسین کو قرآن کا دل قرار دیا ہے۔

حضور ﷺ کا فرمان ہے

بیشک ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل

سورت یٰسین ہے۔" (سنن ترمذی)

امتی کے دل میں ہونا

آپ ﷺ نے فرمایا: میرا دل چاہتا ہے کہ سورت یٰسین میرے ہر امتی کے دل میں ہو (یعنی اسے زبانی یاد

ہو)۔" (مسند البزار)

: نزع کے وقت آسانی

آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے مرنے والوں یا نزع کے وقت 11 کے لوگوں پر سورت یسین کی تلاوت کیا کرو۔ (سنن ابو داؤد) اس سے روح نکلنے میں آسانی ہوتی ہے اور دل کو سکون ملتا ہے۔

۔ اسے "دل" کہنے کی وجوہات (قرآن کے مضامین) 2 جس طرح انسانی جسم میں سب سے اہم حصہ "دل" ہوتا ہے جو پورے جسم کو زندگی دیتا ہے، اسی طرحسورت یسین میں اسلام کے وہ بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں جو پورے دین کی روح ہیں

توحید اللہ کی وحدانیت اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت زمین کا زندہ ہونا اور چاند سورج کے نظام سے اللہ کی ایکتا کی نشانیاں دی گئی ہیں۔

رسالت (نبوت) سورت کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں"۔ یہ سورت رسالت محمدیہ ﷺ پر گواہی دیتی ہے۔آخرت اور دوبارہ زندہ ہونا اس سورت کا سب سے اہم موضوع مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب ہے۔ اس میں منکرین کا رد کیا گیا ہے جو کہتے تھے کہ جب ہڈیاں مٹی ہو جائیں گی تو انہیں کون زندہ کرے گا؟ اللہ نے فرمایا: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا۔

حضرت امام حسن علیہ السلام جب دنیا سے جارہے تھے اور زہر کی وجہ سے جگر کے ٹکڑے ہو کر نکل رہے تھے تو امام حسن علیہ السلام ا...
06/22/2026

حضرت امام حسن علیہ السلام جب دنیا سے جارہے تھے اور زہر کی وجہ سے جگر کے ٹکڑے ہو کر نکل رہے تھے تو امام حسن علیہ السلام ایک عالم کرب میں تھے۔ جب آخری وقت آیا تو آپ نے فرمایا میرا قاسم کہاں ہے؟ ذرا بلالو۔ اس وقت جناب قاسم کی عمر صرف تین سال کی تھی۔

جناب قاسم کو لایا گیا۔ تین سال کا بچہ، امام حسن نے سینے سے لگایا۔ اُس کا منہ چوما۔ بہت دیر تک سینے سے لگائے ہوئے روتے رہے۔ اب باپ کو جو روتے دیکھا تو یہ بچہ بھی چیخ چیخ کر رونے لگا۔ امام حسن نے خاموش کروایا اور فرمانے لگے

بیٹا قاسم ! تم بہت چھوٹے ہو، اس لئے تم سے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ بس اتنی سی بات بھولنا نہیں، یہ تعویذ تمہارے بازو پر باندھے دیتا ہوں۔ جب کبھی تمہیں سب سے زیادہ سخت وقت دنیا میں معلوم ہو کہ اس سے زیادہ سخت وقت نہیں آسکتا تو ذرا اس کو کھول کر دیکھ لینا اور قاسم کی ماں سے کہنا کہ ذرا اس کا خیال رکھنا یہ گم نہ ہونے پائے۔

تعویذ بندھا ہوا ہے، عاشور کا دن آگیا۔ اب بچے کی عمر ہے تیرہ سال امام حسین اپنے بھائی امام حسن کے عاشق تھے۔ یہ عام کتابوں میں ہے کہ جب کبھی امام حسن اور امام حسین ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے تو امام حسین بڑے بھائی کے سامنے گفتگو نہیں کرتے تھے۔ اتنی بات تھی اور اتنا احترام تھا۔عاشور کا دن جب آیا تو یہ بچہ کئی دفعہ آیا، کئی بچوں کی لاشیں آگئیں۔ جناب زینب کے بچوں کی لاشیں حسین لے آئے اور بھی ایک دو بچوں کی لاشیں آگئیں۔ یہ بچہ گھر میں جاتا تھا اور پھر نکلتا تھا اور چچا کے پاس آتا تھا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ماں بھی کہتی تھیں کہ بیٹا ابھی تک اجازت نہیں لی۔ چنانچہ آتے تھے جناب قاسم اور عرض کرتے تھے ، چچا جان! مجھے بھی تو اجازت دیجئے۔ امام حسین بچے کی صورت دیکھتے تھے اور بھائی حسن یاد آجاتے تھے۔ امام حسین گلے سے لگا کر رو دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ بیٹا! ابھی ذرا ٹھہر جاؤ۔ جناب قاسم اس الجھن میں تھے کہ اب کیا کروں؟ چچا اجازت نہیں دیتے۔

ایک مرتبہ خیال آیا کہ بابا نے کہا تھا کہ جب دنیا میں سب سے زیادہ سخت وقت آجائے تو اس تعویذ کو دیکھ لینا۔ جناب قاسم ایک طرف چلے گئے۔ وہاں جاکر کھولا یہ تعویذ تو اس میں لکھا تھا کہ بیٹا قاسم ! جس دن تم تعویذ کھولو گے، وہ عاشورہ کا دن ہوگا۔ میرا بھائی چاروں طرف سے گھر چکا ہوگا۔ بیٹا! اگر میں موجود ہوتا تو اپنے بھائی پر سے اپنی جان قربان کر دیتا۔ میں نہ ہوں گا، تم ہوگے۔ میری عزت کا خیال رکھنا۔ جس وقت جناب قاسم نے یہ پڑھا تو اس خط کو لے کر آئے اور کہا کہ چچا جان! اب ذرا یہ خط تو دیکھ لیجئے، میں کیا کروں میں کس طرح نہ جاؤں میدان میں؟ میرے بابا کی وصیت ہے جو آج مجھے معلوم ہو رہی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے وہ خط پڑھا۔ بھائی کی محبت یاد آگئی۔ قاسم کو سینے سے چمٹا لیا اور کافی دیر تک روتے رہے شبیر بلکہ امامبیہوش ہوکر گر پڑے۔

تمام واقعہ کربلا میں آپ کسی کتاب میں نہ دیکھیں گے کہ امام حسین علیہ السلام کسی کی رخصت کے وقت بیہوش ہوئے ہوں، یہاں تک کہ جناب علی اکبر گئے ہیں تو امام حسین نے خود سوار کیا ہے۔ خود اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبر کے سرپر رکھا لیکن قاسم کی روانگی کے وقت بھائی حسن کو یاد کرتے ہوئے اتنا روئے کہ بیہوش ہوگئے۔

جب ہوش میں آئے تو جناب قاسم نے عرض کی کہ اب تو اجازت دیجئے۔ فرماتے ہیں کہ بیٹا جاؤ! اب میں کیا کروں، مگر اپنی ماں سے تو پوچھ لو۔ آئے جناب قاسم دروازے میں کھڑی ہیں اُمّ فروہ دیکھتے ہی کہتی ہیں: بیٹا! اجازت مل گئی؟ قاسم نے کہا اماں مل گئی۔

فرماتی ہیں

اچھا بیٹا جاؤ اور ماں کو سرخرو کرو۔ جناب قاسم آئے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پوتے تھے، آخر دادِ شجاعت دی مگر چاروں طرف سے جب گھر گئے تو کسی کی تلوار لگی کسی کا نیزہ لگا۔ گھوڑے سے جو گرے تو عزاداران اہل بیت ! ادھر کے گھوڑے اُدھرگزر گئے اور اُدھر کے گھوڑے اِدھر گزر گئے۔ ارے تیرہ سال کا بچہ اس کی ہڈیوں اور گوشت میں تھا کیا، مگر گرتے گرتے آواز دی، چچاجان! اب میں جارہا ہوں، ایک مرتبہ زیارت کروا دیجئے۔

حسین روتے ہوئے آئے۔ یزیدیوں کو تلوار سے ہٹایا۔ ارےقاسم کی لاش پر پہنچے مگر قاسم کی ایسی حالت تھی کہ دنیا سے جاچکے تھے ۔ قاسم کو اُٹھایا، منہ پر منہ رکھا، سینے کو سینے سے ملایا۔ مگر تیرہ سال کے بچے کی لاش کی حالت یہ تھی کہ پاؤں زمین پر گھسٹتے ہوئے آرہے تھے، ہوا کیا؟ گھوڑوں نے وہ کیا جو کسی شہید کے ساتھ نہیں ہوا۔ جب خیمے میں پہنچے تو زینب انتظار میں تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے قاسم کی لاش زمین پر لٹا دی۔ ماں خیمے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں اور دیکھ رہی ہیں۔ جب تک حسین رہے روئی نہیں جب حسین باہر نکلے، ایک مرتبہ کہا بیٹا قاسم ! ارے دولہا بن کر آگئے، مجھے تم نے سرخرو کردیا۔

غزوه بدر اور فدیہ کا ہارابو العاص بن الربيع جنگ میں شریک ہوئے اور معرکہ ختم ہوا تو وہ مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ جب ...
06/22/2026

غزوه بدر اور فدیہ کا ہار

ابو العاص بن الربيع جنگ میں شریک ہوئے اور معرکہ ختم ہوا تو وہ مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ جب یہ خبر مکہ پہنچی تو سیدہ زینب نے پوچھا: "میرے والد کا کیا ہوا؟" انہیں بتایا گیا کہ مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ کیا۔ پھر پوچھا: "میرے شوہر کا کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: "ان کے "سسر کے ساتھیوں نے انہیں قید کر لیا ہے۔

11 سیدہ زینب نے کہا: میں اپنے شوہر کے فدیہ کے لیے مال بھیجوں گی۔ ان کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی، چنانچہ انہوں نے اپنی والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وہ ہار اتارا جس سے وہ اپنا سینہ سجایا کرتی تھیں اور وہ ہار ابو العاص کے بھائی کے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔

نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے، فدیہ وصول کر رہے تھے اور قیدیوں کو رہا کر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ کی نظر سیدہ خدیجہ کے ہار پر پڑی تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کس کا فدیہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: "یہ ابو العاص بن الربيع کا فدیہ ہے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ 11 رو پڑے اور فرمایا: "یہ تو خدیجہ کا ہار ہے۔

پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "اے لوگو! اس شخص (ابو العاص کے بطور داماد ہم نے کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی تو کیا تم اس کے قیدی کو رہا کرنا اور اس کی بیوی کا ہار اسے واپس لوٹانا پسند کرو گے؟ سب نے یک زباں ہو کر کہا: "جی ہاں، یا رسول " ! الله

نبی ﷺ نے وہ ہار ابو العاص کو دیا اور فرمایا: "زینب سے کہنا کہ خدیجہ کے ہار کو کبھی اپنے سے دور نہکرے۔" پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: "اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کچھ بات کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ انہیں ایک طرف لے گئے اور فرمایا: "اے ابو العاص اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ ایک مسلمان عورت اور کافر مرد کے درمیان تفریق (جدائی) کر دوں تو کیا تم میری بیٹی کو مجھے واپس لوٹا دو گے؟" انہوں نے کہا: جی ہاں۔ 11

سیدہ زینب مکہ کے راستے پر ابو العاص کا استقبال کرنے نکلیں، تو انہوں نے زینب کو دیکھ کر کہا: "میں کوچ کر رہا ہوں جا رہا ہوں)۔ زینب نے پوچھا: "کہاں؟" ابو العاص نے کہا: میں نہیں جا رہا، بلکہ تم اپنے والد کے پاس (مدینہ) جا رہی ہو۔ سیدہ زینب نے پوچھا: "کیوں؟" انہوں نے کہا: "میرے اور تمہارے درمیان تفریق کے لیے۔ اس لیے تم اپنے والد کے پاس لوٹ جاؤ۔

سیدہ زینب نے کہا: کیا آپ میرے ساتھ چل کر اسلام قبول نہیں کریں گے؟" انہوں نے کہا: "نہیں"۔ چنانچہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ چلی آئیں۔ مدینہ میں 6 سال تک سیده زینب کو شادی کے پیغامات آتے رہے، لیکن وہ اس امید پر انکار کرتی رہیں کہ شاید ان کا شوہر واپس لوٹ آئے۔ ابو العاص کا اسلام اور دوبارہ ملاپ

سال بعد، ابو العاص مکہ سے ایک تجارتی قافلہ لے کر 6 شام جا رہے تھے کہ راستے میں ان کا سامنا مسلمانوں کے ایک دستے سے ہوا۔ وہ کسی طرح بچ کر مدینہ پہنچے اور رات کے وقت سیدہ زینب کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب زینب نے انہیں دیکھا تو پوچھا: "کیا تم مسلمان ہو کر آئے ہو؟" انہوں نے کہا: "نہیں، بلکہ میںپناہ لینے بھاگ کر آیا ہوں۔

زینب نے پوچھا: تو کیا تم اسلام قبول کرو گے؟" انہوں نے کہا: "نہیں"۔ سیدہ زینب نے کہا: "تو پھر ڈرو مت۔ میرے خالہ زاد علی اور امامہ کے والد، تمہیں خوش آمدید.

جب نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو فجر کی نماز پڑھائی تو اچانک مسجد کے پچھلے حصے سے ایک آواز آئی: میں نے ابو العاص بن الربیع کو پناہ دے دی ہے!" یہ سیدہ زینب کی آواز تھی۔

نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے بھی وہی سنا جو "! میں نے سنا ؟ سب نے کہا: جی ہاں، یا رسول الله سیدہ زینب نے عرض کیا: یا رسول الله! ابو العاص اگر دور ہوں تو خالہ زاد ہیں اور اگر قریب ہوں تو بچوں کے باپ ہیں، اور میں نے انہیں پناہ دے دی ہے۔

نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "اے لوگو! میں نے اس شخص کے بطور داماد کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس نے مجھ سے جب بھی بات کی سچ کہا، اور جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ اگر تم پسند کرو کہ اس کا مال اسے واپس کر دو اور اسے اپنے شہر جانے دو، تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ اور اگر تم انکار کرو تو فیصلہ تمہارا ہے، حق تمہارا ہے اور میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔

لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس کا مال اسے واپس کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اے زینب! جسے تم نے پناہ دی، اسے ہم نے بھی پناہ دی۔

اسلامی روایات کے مطابق حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے زمین پر جنات آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاور جن کو ہم نے اس سے پہلے ...
06/11/2026

اسلامی روایات کے مطابق حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے زمین پر جنات آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

اور جن کو ہم نے اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے پیدا کیا تھا۔" (سورة الحجر (27)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جنات انسان سے پہلے وجود میں آ چکے تھے۔

ابتدائی زمانے میں جنات کی ایک بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی عبادت گزار تھی۔ وہ اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے اس کے احکام کی تعمیل کرتے اور زمین میں امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدلنے لگے۔ طاقت نے تکبر کو جنم دیا، آزادی نے سرکشی کو بڑھایا اور خواہشات نے اطاعت کی جگہ لینا شروع کر دی۔

زمین پر مختلف قبائل اور گروہ وجود میں آئے۔ ان کے درمیان اقتدار کی جنگیں شروع ہو گئیں۔ اور اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکے تھے۔

اسی تناظر میں بعض مفسرین نے سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تشریح کی ہے جس میں فرشتوں نے عرض کیا

کیا تو زمین میں ایسے کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟فرشتوں کا یہ سوال اس بات کی طرف اشارہ سمجھا گیا کہ وہ زمین پر پہلے موجود مخلوق کے طرز عمل کو جانتے تھے یا اس کے مشاہدے کی بنیاد پر ایسا سوال کر رہے تھے۔ اگرچہ قرآن مجید نے اس مخلوق کا نام نہیں بتایا لیکن متعدد تفسیری روایات اسے جنات سے جوڑتی ہیں۔

تصور کیجیے ایک ایسی دنیا کا جہاں ہر طرف جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں۔ قبیلے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوں۔ طاقتور سردار اپنی قوت کے نشے میں مست ہوں۔ زمین ظلم اور خونریزی سے بھر چکی ہو۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب آسمان کی عدالت نے فیصلہ صادر کیا۔

روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ایک لشکر کو زمین پر بھیجا تاکہ فسادی جنات کو سزا دی جائے۔ ان فرشتوں نے سرکش گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ بہت سے باغی ہلاک کر دیے گئے، بہت سے دور دراز جزیروں اور ویران علاقوں کی طرف بھگا دیے گئے اور زمین کا نظم دوبارہ قائم کیا گیا۔

انہی روایات میں ایک اہم کردار ابلیس کا بھی سامنے آتا ہے۔ ابلیس اصل میں جنات میں سے تھا، جیسا کہ قرآن مجید واضح کرتا ہے

وہ جنات میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم 11 کی نافرمانی کی۔ (سورة الكهف (50)

کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں ابلیس عبادت گزار تھا۔کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ وہ علم عبادت اور ظاہری تقویٰ میں ممتاز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن تاریخ بار بار ثابت کرتی ہے کہ ظاہری عبادت اگر عاجزی سے خالی ہو تو انسان یا جن کو نجات نہیں دے سکتی۔

ابلیس کی زندگی میں اصل آزمائش ابھی آنی باقی تھی۔

زمین پر فساد کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ایک نئی تاریخ رقم ہونے والی تھی۔ فرشتوں کی صفوں میں خاموشی تھی۔ آسمانوں میں ایک عظیم اعلان گونجا

میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔" (سورۃ"

البقره (30)

یہ اعلان کائنات کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ تھا۔

فرشتوں نے عرض کیا

کیا تو اس میں ایسے کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیحاور تیری پاکی بیان کرتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے جواب دیا

میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔"

یہ الفاظ محض جواب نہیں تھے بلکہ پوری انسانیتاریخ کا خلاصہ تھے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اگرچہ انسانوں میں کچھ لوگ فساد کریں گے، لیکن انہی میں انبیاء بھی ہوں گے، صدیقین بھی ہوں گے، شہداء بھی ہوں گے اور صالحین بھی۔ انہی میں حضرت نوححضرت ابراہیم حضرت موسى، حضرت عیسی اور خاتم النبيين حضرت محمد ﷺ بھی تشریف لائیں گے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ زمین کے مختلف حصوں کی مٹی کو جمع کیا گیا۔ اس مٹی میں رنگوں کا تنوع تھا، ساخت کا اختلاف تھا اور خصوصیات کا تنوع تھا۔ گویا پوری زمین کا خلاصہ ایک وجود میں جمع کر دیا گیا۔

جب آدم کی تخلیق مکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی۔ پھر فرشتوں کو حکم دیا گیا

آدم کو سجدہ کرو۔"

تمام فرشتے سجدے میں گر گئے، مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔

اس نے کہا

میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جس نے ابلیس کی برسوں کی عبادت کو برباد کر دیا۔ تکبر نے اسے وہاں گرا دیا جہاں کوئیظاہری گناہ بھی نہ گرا سکا تھا۔

زمین پر پہلے آباد مخلوق کا عبرتناک انجام صرف ان کی جنگوں اور فساد میں نہیں تھا، بلکہ ابلیس کی داستان بھی اسی انجام کا حصہ ہے۔

قرآن مجید بار بار اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالى ظلم اور فساد کو پسند نہیں کرتا۔

ان واقعات نے بعد کی پوری انسانی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ جب حضرت آدم زمین پر تشریف لائے تو انہیں معلوم تھا کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں اطاعت اور نافرمانی کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔ یہاں تکبر اور عاجزی کی جنگ جاری رہے گی۔ یہاں حق اور باطل آمنے سامنے آئیں گے۔

بقیہ حصہ کمنٹ میں

عباس بن عبد المطلب وہ قیدی جس کا دل پہلے ہی آزاد ہو چکا تھا، قبول اسلام کی داستانتاریخ اسلام کے اوراق میں جنگ بدر محض ای...
06/01/2026

عباس بن عبد المطلب وہ قیدی جس کا دل پہلے ہی آزاد ہو چکا تھا، قبول اسلام کی داستان

تاریخ اسلام کے اوراق میں جنگ بدر محض ایک معرکہ نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر تھی جس نے بھائی کو بھائی سے اور باپ کو بیٹے سے جدا کر دیا تھا۔ لیکن اسی معرکے کے پس منظر میں ایک ایسی داستان محبت بھی پوشیدہ ہے جو جبر کے پہروں میں بھی دھڑکتی رہی۔ یہ داستان ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی، جو جسمانی طور پر مشرکین کی صفوں میں تھے، مگر جن کی روحسجدہ گزاری کے لیے بے چین تھی

حضرت عباس بن عبد المطلب، الله کے نبی ﷺ کے چچا، مکہ کے ان بااثر لوگوں میں سے تھے جنہیں قریش نے اپنی انا کی خاطر زبردستی میدان جنگ میں لاکھڑا کیا تھا۔ وہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں نہیں بلکہ قریش کے دباؤ اور سماجی رعب کی وجہ سے نکلے تھے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب دل میں ایمان کی شمع روشن ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔

میدان بدر میں جب تلواریں میان سے باہر تھیں، تب رحمت عالم ﷺ صلى الله نے ایک عجیب و غریب حکم صادر فرمایا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا جس کسی کا سامنا عباس سے ہو، وہ انہیں قتل نہ " کرے۔ وہ جنگ کے لیے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ "مجبوراً لائے گئے ہیں۔

یہ جملہ محض ایک رشتہ دار کی حمایت نہیں تھیبلکہ یہ اس بصیرت کا ثبوت تھا جو جانتے تھے کہ ان کے چچا کے سینے میں اسلام کی تڑپ موجود ہے۔

جنگ ختم ہوئی مشرکین کو شکست فاش ہوئی اور حضرت عباس قیدی بنا کر لائے گئے۔ جب فدیہ دینے کا وقت آیا تو ایک ایمان افروز مکالمہ ہوا نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اے" عباس اپنا، اپنے بھتیجوں "اور" اپنے حلیفوں کا فدیہ ادا کرو اور اپنی جان چھڑاؤ۔ حضرت عباس نے عرض کیا: "اے محمد (ﷺ)! الله میں تو دل سے مسلمان تھا، مجھے زبردستی لایا گیا تھا۔ " (مسند احمد بن حنبل

آپ ﷺ نے جواباً فرمایا: تمہارے اسلام کا حال الله بہتر جانتا ہے، لیکن ظاہری طور پر تم ہمارے خلاف لڑنے "آئے تھے، اس لیے فدیہ تو دینا پڑے گا۔

جب حضرت عباس نے معذرت چاہی کہ ان کے پاس مال نہیں ہے، تو نبوی لبوں پر ایک مسکراہٹ آئی اور آپ ﷺ نے وہ راز فاش کیا جو زمین پر کوئی نہیں جانتا تھا وہ مال کہاں ہے جو تم نے اور ام الفضل آپ کی زوجہ نے مکہ سے نکلتے وقت زمین میں دفن کیا تھا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں مرا تو یہ مال میرے بچوں کا ہوگا؟

حضرت عباس یہ سن کر دہل گئے۔ ان کی زبان سے بے اختیار نکلا

اللہ کی قسم! میرے اور ام الفضل کے سوا اس بات کا علم کسی تیسرے شخص کو نہیں تھا۔ اب مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیںاس واقعے نے حضرت عباس کے باطنی ایمان کو زبان عطا کر دی۔ آپ مکہ لوٹے، پھر ہجرت کی اور اسلام کے وہ ستون بنے جن پر پوری امت کو ناز تھا۔ صحابہ کرام ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق فرمایا کرتے تھے

عباس رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں، اور کسی بھی

شخص کا چچا اس کے باپ کی طرح معزز ہوتا ہے۔ خود حضور ﷺ اپنی محبت کا اظہار یوں فرماتے عباس میرے آباء و اجداد کی بچی ہوئی نشانی ہیں۔

حضرت عباس بن عبد المطلب کی زندگی کا یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ ظاہری صفوں کو نہیں، بلکہ دلوں کے ارادوں کو دیکھتا ہے۔ وہ بدر میں مشرکین کی جانب سے کھڑے تو تھے، لیکن قدرت نے انہیں قتل ہونے سے بچایا تاکہ وہ اسلام کی خدمت کے لیے محفوظ رہیں۔

یہ قصہ ایک ایسے دل کی فتح ہے جو زنجیروں میں جکڑے جانے سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو چکا تھا۔ الله ہمیں بھی حضرت عباس جیسی پختہ محبت اور ایمان کی حلاوت عطا فرمائے۔

تحریر کو شیئر کریں تاکہ تاریخ کے یہ سنہری اوراق نئی نسل کے دلوں کو بھی روشن کر سکیں۔

عثمان! تم نے میری تجارت ختم کردی ہے۔ اگر خریدنا چاہتے ہو تو باقی آدھا حصہ بھی خرید لو۔عثمان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ...
05/30/2026

عثمان! تم نے میری تجارت ختم کردی ہے۔ اگر خریدنا چاہتے ہو تو باقی آدھا حصہ بھی خرید لو۔

عثمان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ نے راستہ آسان کردیا ہے۔

چنانچہ باقی نصف کنواں بھی خرید لیا گیا، اور پھر وہ لمحہ آیا جب بئر رومہ مکمل طور پر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا گیا۔

اب کوئی قیمت نہ تھی۔

کوئی امیر کوئی غریب کوئی مہاجر کوئی انصاری... سب برابر تھے۔

لوگ پانی لیتے اور عثمان کے لیے دعائیں کرتے۔ مدینہ کی فضاؤں میں شکر کے جذبات گھل گئے۔ کئی بوڑھی عورتیں ہاتھ اٹھا کر کہتیں

"الله عثمان کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔"

رات کے وقت جب مدینہ پر سکون أترتا، مسجد نبوي سے اذان کی آواز بلند ہوتی تو بئر رومہ کے کنارے پانی کی ہلکی ہلکی لہریں چاندنی میں چمکتیں۔ جیسے وہ بھی اس قربانی کی گواہی دے رہی ہوں جو ایک سچے مومن نے اللہ کی رضا کے لیے دی تھی۔

بقیہ حصہ کمنٹ میں پڑھیں

Address

Canada
Ottawa County, MI
10

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Rayan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category