06/27/2026
ابو سلمہ کی وفات اور دعا کی برکت ابو سلمہ نے غزوہ احد میں شرکت کی اور شدید زخمی ہو گئے۔ وہ طویل عرصے تک اس زخم کی تکلیف جھیلتے رہے یہاں تک کہ سن 4 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ام سلمہ شدید غمزدہ ہوئیں، اور انہیں وہ حدیث یاد آئی جو انہوں نے اپنے شوہر کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے سنی تھی
جب بھی کسی بندے پر کوئی مصیبت آئے اور وہ کہے: إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أَجْرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأُخْلِفُ لِي خَيْرًا مِنْهَا (بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری اس مصیبت پر اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطا کر)، تو اللہ تعالیٰ اسے اجر بھی دیتا ہے اور بہتر نعم البدل بھی عطا فرماتا ہے۔
ام سلمہ نے اپنے دل میں سوچا: "ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ وہ تو پہلا گھرانہ تھا جس نے رسول الله ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی!"، لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں یہ دعا پڑھ لی۔ حضرت ام سلمہ کو انکی وفات سے سخت صدمہ پہنچا ۔ بار بار پکارتی تھیں " ہاے ہاے غربت میں کیسی " موت آئی ہے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے خود آنکھیں بند کیں ۔ ان کی نماز جنازہ پڑھتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تکبیریں کہیں ،لوگوں نے پوچھا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے نو تکبیریں کیسے کہیں ؟ فرمایا ابو سلمہ ہزار تکبیر کے مستحق تھےرسول الله ﷺ سے نکاح
عدت گزرنے کے بعد سیدنا ابوبکر اور پھر سیدنا عمر رضی الله عنہما نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ پھر رسول الله ﷺ نے خود ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے حیا کی وجہ سے تین عذر پیش کیے
وہ ایک غیور خاتون ہیں انہیں سوکنوں سے غیرت آنے
کا اندیشہ ہے)۔
وہ بال بچوں دار خاتون ہیں۔
ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے انتہائی شفقت اور نرمی سے جواب دیا
جہاں تک بچوں کا تعلق ہے، تو تمہارے بچے میرے بچے ہیں۔ رہی عمر کی بات تو میری عمر بھی تمہاری طرحہی زیادہ ہے۔ اور رہی غیرت کی بات تو میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہاری غیرت کا شدید حصہ) دور فرما دے۔
وست چنانچہ سن 4 ہجری کے مہینے شوال میں رسول الله سے ان کا نکاح ہوا، وہ ام المؤمنین بنیں، اور ان کے یتیم بچوں کو اس پاکیزہ گھرانے کا سایہ میسر آیا۔
علم اور حدیث کی روایت
سیدہ ام سلمہ کا شمار صحابہ کے جلیل القدر فقہاء میں ہوتا تھا۔ نبی ﷺ کے ساتھ طویل رفاقت اور آپ کے بعد طویل عمر پانے کی وجہ سے انہوں نے آپ سے 378 احادیث روایت کیں۔ احادیث کی روایت میں امہات المؤمنین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد ان کا دوسرا نمبر ہے۔ انہوں نے خواتین کے احکام عبادات اور شرعی سیاست سے متعلق انتہائیدقیق اور اہم مسائل روایت کیے۔
علامہ ابن قیم کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ کے فتاوی سے ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے ۔ ان کے فتاوى بالعموم متفق علیہ ہیں ۔
وفات
سیدہ ام سلمہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد طویل عرصے تک حیات رہیں اور انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان کی شہادت اور سیدنا حسین بن علی کی شہادت جیسے بڑے اور المناک واقعات دیکھے۔ وہ خلفاء اور حکام کو نصیحت آمیز خطوط بھی بھیجا کرتی تھیں۔ ان کا انتقال سن 61 ہجری (بعض روایات کے مطابق 62 ہجری میں ہوا، اور وہ امہات المؤمنین میں سب سے آخر میں وفات پانے والی خاتون تھیں۔ انہیں مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
حضرت ابو ہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی
#تذكار صحابيات
کتاب :
طالب ہاشمی
اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و #
على آله و صحبه اجمعين