07/09/2024
(عیید میلاد النبیﷺ) از پروفیسر احمد رفیق اختر
سوال: عیید میلاد النبیﷺ جو منائی جاتی ہے اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟؟
جواب : اگر عیید میلاد النبیﷺ منانے پر کوئی اعتراض کرتا ہے تو بڑا احمق ہے، کیونکہ دور حاضر میں جیسے لوگ سالگرہ مناتے ہیں ایسے ہی اس Function کے بارے میں کوئی پابندی نہیں۔ آپﷺ کی پیدائش سے بڑی کیا خوشی ہوگی؟؟۔ میں نے آپ کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا قول بتایا ہےکہ فرمایا کہ جب سے رسول اللہﷺ گزر گئے ہیں کوئی غم ،غم ہی نہیں لگتا ہے۔ اور جب ہم پھر رسولﷺ کے آنے کا سوچتے ہیں تو میرا خیال ہیکہ کوئی اور ایسی خوشی نہیں ہے کہ جیسے ہمارے پیغمبرﷺ کے آنے کی خوشی ہے۔ سب سے بڑی خوشی تو شکر گزاری کی ہے کہ اگر آج رسولﷺ نہ آتے تو ہم خُدا سے کتنے دور کتنے مایوس اور کتنے جاہلانہPattern میں ہوتے۔ لہٰذاجو شخص اس شکر گزاری کا حامل نہیں ہے۔ اور اللہ کے رسولﷺ کی پیدائش پر خوشی کا اظہار نہیں کرتا، میرا خیال ہے وہ نا شکر گزار ہے۔ اور مسلمان ہونے کا اظہار نہیں کر سکتا۔ سو ہمیں جب پتا ہی لگ گیا کہ یہ یوم میلاد رسول ﷺ ہے تو، پھر میر ا خیال ہے کہ اس پراللہ کا شکر بجا لانا اور رسول ﷺ کی مدح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اب چونکہ ذمانہ ایسا ہو گیا ہیکہ آپ ہر روز میلاد منا نہیں سکتےہیں، میں تو کہتا ہوں آپ ساری عمر اس شکر میں بھی گذار دو تو بھی کم ہے کہ اللہ کے رسولﷺ آئے اور ہمیں نجات بخشی۔ مگر آپ دیکھو کہ لوگ کتنے چھوٹے چھوٹے Questions اس وقت بناتے تھے کہ مدینہ میں پہلے رسولﷺ تشریف لائے اور مدینہ کی لڑکیوں نے پہاڑی پر چڑھ کر استقبالیہ پھول برسائے، دف بجائے، گیت گائے۔ یہ پیدائش کا نہیں آمد رسولﷺ کا جشن ہے۔ یعنی مدینے میں داخل ہوئے تو مدینہ کی لڑکیوں نے گیت گائے استقبال کیا دفیں بجائیں۔
طلع البدر علينا .. من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا .. مادعي لله داع
ہم پہ اللہ کے رسولﷺ کے آنے کا شکر واجب ہے، جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگتے رہیں کہ پہاڑ کی گھاٹیوں سے آپﷺ کا چہرہ مبارک آفتاب کی طرح طلوع ہوا۔ چاند کی طرح طلوع ہوا پورے چاند کی طرح اور ہم پر لازم ہے کہ حضورﷺ کی آمد پر ہم جشن منائیں۔ گیت گائیں اور خُدا کا شکر ادا کریں کہ دف منسوخ نہ ہوئی۔ گیت کا برا نہیں منایا گیا اللہ کو پسند ہوا۔