Shamzee Event Managers

Shamzee Event Managers We provide
Home made health beneficial foods Rates can be changed according to the low or high of ingredients.

07/09/2024

(عیید میلاد النبیﷺ) از پروفیسر احمد رفیق اختر

سوال: عیید میلاد النبیﷺ جو منائی جاتی ہے اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟؟

جواب : اگر عیید میلاد النبیﷺ منانے پر کوئی اعتراض کرتا ہے تو بڑا احمق ہے، کیونکہ دور حاضر میں جیسے لوگ سالگرہ مناتے ہیں ایسے ہی اس Function کے بارے میں کوئی پابندی نہیں۔ آپﷺ کی پیدائش سے بڑی کیا خوشی ہوگی؟؟۔ میں نے آپ کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا قول بتایا ہےکہ فرمایا کہ جب سے رسول اللہﷺ گزر گئے ہیں کوئی غم ،غم ہی نہیں لگتا ہے۔ اور جب ہم پھر رسولﷺ کے آنے کا سوچتے ہیں تو میرا خیال ہیکہ کوئی اور ایسی خوشی نہیں ہے کہ جیسے ہمارے پیغمبرﷺ کے آنے کی خوشی ہے۔ سب سے بڑی خوشی تو شکر گزاری کی ہے کہ اگر آج رسولﷺ نہ آتے تو ہم خُدا سے کتنے دور کتنے مایوس اور کتنے جاہلانہPattern میں ہوتے۔ لہٰذاجو شخص اس شکر گزاری کا حامل نہیں ہے۔ اور اللہ کے رسولﷺ کی پیدائش پر خوشی کا اظہار نہیں کرتا، میرا خیال ہے وہ نا شکر گزار ہے۔ اور مسلمان ہونے کا اظہار نہیں کر سکتا۔ سو ہمیں جب پتا ہی لگ گیا کہ یہ یوم میلاد رسول ﷺ ہے تو، پھر میر ا خیال ہے کہ اس پراللہ کا شکر بجا لانا اور رسول ﷺ کی مدح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اب چونکہ ذمانہ ایسا ہو گیا ہیکہ آپ ہر روز میلاد منا نہیں سکتےہیں، میں تو کہتا ہوں آپ ساری عمر اس شکر میں بھی گذار دو تو بھی کم ہے کہ اللہ کے رسولﷺ آئے اور ہمیں نجات بخشی۔ مگر آپ دیکھو کہ لوگ کتنے چھوٹے چھوٹے Questions اس وقت بناتے تھے کہ مدینہ میں پہلے رسولﷺ تشریف لائے اور مدینہ کی لڑکیوں نے پہاڑی پر چڑھ کر استقبالیہ پھول برسائے، دف بجائے، گیت گائے۔ یہ پیدائش کا نہیں آمد رسولﷺ کا جشن ہے۔ یعنی مدینے میں داخل ہوئے تو مدینہ کی لڑکیوں نے گیت گائے استقبال کیا دفیں بجائیں۔
طلع البدر علينا .. من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا .. مادعي لله داع
ہم پہ اللہ کے رسولﷺ کے آنے کا شکر واجب ہے، جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگتے رہیں کہ پہاڑ کی گھاٹیوں سے آپﷺ کا چہرہ مبارک آفتاب کی طرح طلوع ہوا۔ چاند کی طرح طلوع ہوا پورے چاند کی طرح اور ہم پر لازم ہے کہ حضورﷺ کی آمد پر ہم جشن منائیں۔ گیت گائیں اور خُدا کا شکر ادا کریں کہ دف منسوخ نہ ہوئی۔ گیت کا برا نہیں منایا گیا اللہ کو پسند ہوا۔

03/08/2024


مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی ان میں 600 صحابہ کرام ایسے بھی تھے جوکامل حافظ قرآن تھے.
اور اس جنگ میں 27000 کفار وصل جہنم ہوئے .
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"

چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:

والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"

اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا
*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔
کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے
پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ
اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.

اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو
🤲 آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے.

03/08/2024

*🛑قادیانی ایسے ھی کافر قرار نہیں دیے گئے۔*

*جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا*
*کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا*
*موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو !!*

*مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے* *اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ* *درودشریف بهی پڑہتے.*
*ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔*
*یہ مسئلہ بہت بڑا اور مشکل تها*
*اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور نورانی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا اب سوالات نورانی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔۔*
__________
*سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟*
*جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔*
*سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟*
*جواب۔آتی تهی۔*
*سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟*
*جواب۔بالکل نہیں۔*
*سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا“ خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟*
*جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں“جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں ”کفردون کفر“ کی روایت درج کی ہے۔*
*سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟*
*جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔*
*سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟*
*جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔*
*سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟*

*(یہاں نورانی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)*

*اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟*
*جواب۔ نہیں تھے۔*
*اس جواب پر نورانی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔*
*جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )*
*سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟*
*جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔*
*سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا“ سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی“*
*جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔*
*اس جواب پر نورانی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی ”البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه“ )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!*
*(اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )*
*13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب“ مولانا شاہ احمدنورانی صاحب“پروفیسر غفور احمد صاحب“چودہری ظہور الہی صاحب“مسٹر غلام فاروق صاحب“سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔۔۔۔۔*

*کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز “کیسے لکھا جائے۔؟*
*مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔۔۔۔*
__________
*22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔*
*نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ" باقی نہ رہے۔*
*اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔*
*نورانی صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔*
*پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔* *جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔*
*نورانی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں (کمال کا جواب )*
*اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے نورانی صاحب سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔*
*جب کہ نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔*
*بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔*
*عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ نورانی صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔*
*اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔*
*پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔*
*نورانی صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔*
*وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ نورانی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید نورانی صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن نورانی تو پهر نورانی صاحب تهے )*
*نورانی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟*
*اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔*
*چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔*
*نورانی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔*
*تاریخی فیصلہ۔۔۔۔۔۔۔۔*
*7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر* *قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔*
*دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔*
*”جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔*
*اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔۔۔۔*
*بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔ اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔*
*اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں* *اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔اور پهر فرمایا کہ* *سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں (ملک کے) الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں۔بلکہ مذاکرات کی میز پر ملتے ہیں*

*نوٹ ) احباب سے مودبانہ درخواست ہے کہ ختم نبوت کی اس آگاہی مہم میں ساتھ دیں۔اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں،**.
محمدﷺ کا غلام
دعاؤں کا طلبگار::: #

24/07/2024

سپریم کورٹ آف پاکستان میں محفوظ کردہ قادیانی کیس کا فیصلہ کو جو آج 24 جولائ 2024 کو سنایا گیا سراسر قادیانیت نوازی قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کرتا ہوں اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آئین و قانون سے متصادم ہے ۔

زاہدمحمود
بدھ 17 محرم الحرام 1446 ہجری مطابق 24 جولائی 2024ء

23/07/2024

امریکہ میں مقیم میرے ایک کاروباری دوست مرشد مسعود قاضی صاحب کی دردمندانہ تحریر۔

امریکہ کسی بھی غیر ملکی انوسٹر کو تین یا چار امریکنوں کو ملازمت دینے والے کو پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ ڈالرز کی انوسٹمنٹ کے عوض
E 2
ویزہ آفر کرتا ہے
اسمیں اس غیر ملکی کو فیملی سمیت ویزہ ملتا ہے یہ تین سال کا ویزہ ہوتا ہے اور ہر تین سال بعد اس کی تجدید ہوتی ہے اور اس انوسٹر کو اپنی فیملی سمیت تمام سہولتیں میسر ہوتی ہیں جو کسی بھی امریکن سیٹیزن کو میسر ہیں
میں جب یوروپین یونین کے ساتھ بحیثیت کنسلٹنٹ کام کر رہا تھا تو رومانیہ کی یوروپین یونین میں شمولیت کے بعد چونکہ رومانیہ میں بیروزگاری باقی ایسٹرن یوروپی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی
ززیادہ تر آبادی
Gypsies ( خانہ بدوش)
پر مشتمل تھی
تو اس بیروزگاری پر قابو پانے کے لیئے
یوروپین یونین نے ایک پروگرام شروع کیا تھا کہ اگر کوئ بیرونی انوسٹمنٹ کمپنی رومانیہ میں انوسٹمنٹ کرے گی اور کم از کم دس لوگوں کو جاب دے گی تو جتنی انوسٹمنٹ وہ کمپنی کرے گی تو اس انوسٹمنٹ کے برابر یوروز یوروپین یونین اس کمپنی کو دے گی
مطلب اگر آپ کی کمپنی نے ایک ملین یوروز انوسٹمنٹ کی ہے تو یوروپین یونین آپ کے اکاؤنٹ میں ایک ملین ڈالرز ٹرانسفر کرے گی کیونکہ آپ کی کمپنی وہاں کے کم از کم دس شہریوں کو ملازمت آفر کر رہی ہے
دنیا میں اپنے لوگوں کو ملازمت یا فارن انوسٹمنٹ لانے کے لیئے کئ ممالک اس طرح کی سہولتیں بیرون ملک انوسٹرز کو دیتی ہیں
کوئ ٹیکس فری زون آفر کرتا ہے تو کوئ ملک ان انوسٹمنٹ کمپنیوں کوایکسپورٹ زون بنا کر دیتا ہے کہ ملک میں آبادی کو روزگار ملے اور زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ ملک میں آۓ
آج صبح
GNN
کے پروگرام میں چند ماہرین بتا رہے تھے کہ
آپٹما ( آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن )
کے مطابق پچھلے دو سالوں میں
15 ٹیکسٹائل ملز بجلی اور گیس میں قیمتوں میں اضافے کے سبب بند ہو چکی ہیں
ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں چار بلین ڈالرز سے زیادہ کی کمی واقع ہو چکی ہے
اور ہم اتنے ہی ڈالروں کی خاطر آئ ایم ایف کے ترلے ڈال رہے ہیں اور ان کے بناۓ ہوۓ بجٹ سے پچیس کروڑ لوگوں کی زندگی کو عذاب بنا چکے ہیں
اس کے علاوہ ہزاروں لومز بھی ویران پڑی ہیں
اور اس سے تقریبا 6 لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوۓ ہیں
اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری سے مزدوروں کے علاوہ جڑے ہوۓ کاروبار اور ان کے ملازمین کی تعداد کو شمار کیا جاۓ تو یہ تعداد تقریبا دس لاکھ سے زائد لوگوں کی بیروزگاری پہ منتج ہوتی ہے
پچھلے سال جب میں فیصل آباد کے چیمبر میں لوگوں سے ملا تھا تو وہ بتا رہے تھے کہ ڈیڑھ بلین ڈالرز سے زائد کی ٹیکسٹائل کی مشینری ابھی تک پیٹیوں میں بند پڑی ہے جو دو سال قبل ٹیکسٹائل کے عروج کے زمانے میں انوسٹرز اور ٹیکسٹائل کمپنیوں نے امپورٹ کی تھی
اب ہوا یہ ہے کہ کچھ پرانی مشینری کی خریدار کمپنیاں ان ملوں اور لومز کی مشینری کو لوہے کے بھاؤ خرید رہی ہیں
اور ہو پتہ ہے کیا رہا ہے ؟
یہ کمپنیاں اس مشینری کو تھائ لینڈ میں اپنے وئرہاسوں
Warehouses
میں منتقل کر رہی ہیں
اور وہاں پہ اس مشینری کو خرید کون رہا ہے ؟
بنگلہ دیش
ویت نام
افغانستان
اب یہی مشینری ان تین ممالک کے انوسٹرز بلین آف ڈالرز کی مشینری کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر اپنے اپنے ممالک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری لگا کر اپنے لوگوں کے لیئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے
ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کریں گے اور اپنے ممالک میں زرمبادلہ لے کر آئیں گے
اور ہمارے فیکٹریوں کے مالکان اس لوہے کے بھاؤ بکنے والی مشینری کو بیچ کر دبئ ، ملائیشیا اور کینیڈا کوچ کر رہے ہیں یا کر جائیں گے
اور پھر راوی چین ہی چین لکھے گا
لوگ بیروزگار ہوں گے
جرائم پھیلیں گے
اشرافیہ کے چند سو لوگ لٹو اور پھٹو کے اصول پر عمل کرتے ہوۓ دبئ یورپ اور امریکہ میں اپنی جائیدادیں بنائیں گے
ہمارے کاروباری حکمران جن کے اپنے بجلی ، اور شوگر کے کارخانے منافع میں چل رہے ہیں وہ اپنی ملازمت کی عدت پوری کر کے دوبارہ لندن میں اپنے فلیٹوں میں منتقل ہو جائیں گے
اور باقی رہ گئ عوام
تو وہ نعرے لگاۓ گی کہ
بھٹو زندہ ہے
میاں جدوں آوے گا
لگ پتہ جاوے گا
ابھی مزید آپ کو پتہ لگنا ہے
چند ماہ انتظار فرمائیے
نوٹ!
یہ پوسٹ مایوسی پھیلانے کے لیئے نہیں بلکہ آپ کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لیئے انتہائ دکھ کے ساتھ لکھی ہے کہ وطنِ عزیز اور ہمارے لوگوں کا آخر مستقبل آخر کن ہاتھوں میں ہے
اور اس کے مقابلے میں افغانستان جو مسلسل چالیس سال حالت جنگ میں رہنے کے باوجود
اب انتہائ تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہاہے
اور ہم پورے خطے میں تیزی کے ساتھ تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں
اس کا حل تجویز فرمائیے
دوستوں اور ایکسپرٹس سے پوچھیئے
کہ سجوئیشن سے کیسے نکلا جاۓ
کیونکہ یہ ملک بھی آپ کا
یہ ریاست بھی آپ کی
آپ نے اور آپ کی نسلوں نے یہیں رہنا ہے

06/07/2024

*قادیانیوں کی حقیقت*

‏قادیانی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی سکینڈل سامنے آگیا تیسرے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کا بیٹا اپنی سگی بیٹی سے سالہا سال تک زنا کرتا رہا

گیارہ دسمبر 2021 کو سوشل میڈیا کے یوٹیوب چینل آقا کا غلام پر ایک لیک آڈیو کال پبلش ہوئی جس میں پانچواں قادیانی خلیفہ مرزا مسرور اور ندا النصر نامی قادیانی لڑکی کی ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو ریکارڈ کی گئی تھی ۔ گفتگو سے معلوم ہوا کہ مرزا مسرور کے ساتھ بات کرنے والی لڑکی ندا النصر تیسرے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی پوتی ہے۔ مرزا ناصر کا بیٹا جس کا نام میاں لقمان احمد اور چوتھے قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کی بیٹی فوزیہ بی بی کی سگی بیٹی ہے یعنی تیسرے قادیانی خلیفہ کی پوتی اور چوتھے قادیانی خلیفہ کی نواسی جبکہ رشتے کے اعتبار سے پانچویں قادیانی خلیفہ کی بھتیجی لگتی ہے۔
چوالیس منٹ پر مشتمل فون کال میں ندا النصر مرزا مسرور کو شکایت کررہی ہے کہ اس کے ساتھ بچپن سے قریبا پینتیس سال کی عمر تک اسکا سگا باپ میاں لقمان ، مرزا مسرور کی بیوی امتہ الصبوح جسکو نداالنصر صبوحی بیگم کہہ کر مخاطب کررہی تھی کے بھائی اور قادیانی جماعت کے ناظر اصلاح و ارشاد محمود شاہ اور فضل عمر ہسپتال ربوہ کے سینئر آرتھوپیڈک ڈاکٹر اور قادیانی جماعت کے اعلی عہدے دار ڈاکٹر مبشر زنا بالجبر کرتے رہے ہیں۔ لڑکی نے بتایا کہ بچپن سے آٹھ سال تک یہ لوگ اسکے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کرتے رہے اور اسکے بعد لگاتار یہاں تک کے ہفتے میں کئی کئی بار زنا بالجبر کرتے رہے ۔ کال کے دوران بتایا گیا کہ لڑکی جب برطانیہ میں جاتی تھی تو اسکا باپ میاں لقمان اس سے زنا کرتا تھا اور جب وہاں سے جان چھڑوا کر چناب نگر سابقہ ربوہ پاکستان میں آتی تو یہاں ڈاکٹر مبشر اور قادیانی خلیفہ مرزا مسرور کا سالہ محمود شاہ زنا کرتا تھا۔ لڑکی نے بتایا کہ عامر بھائی بھی مجھے زنا کرنے کے لیے اپنے گھر لے گئے تھے مگر اسکو اریکشن نہیں ہوئی اور میں وہاں سے بھاگ آئی۔ عامر نامی یہ لڑکا مرزا ناصر احمد کے داماد کا بیٹا ہے ناصر کی بیٹی شکری سے جس کی شادی ہوئی بعد ازاں اس نے اپنے گھر کی ملازمہ سے تعلقات بنا لیے اور شکری کو طلاق دے کر ملازمہ سے شادی کرلی اس ملازمہ سے جو اسکا بیٹا ہوا اسکا نام عامر ہے
مکمل فون کال میں قادیانی خلیفہ لڑکی کو مختلف طریقوں سے ڈراتا دھمکاتا رہا کہ تم خاموش ہوجاو اگر تمہارے ساتھ زنا بالجبر ہوا بھی ہے تو انہوں نے توبہ کرلی ہوگی اور کبھی اسکو خلاف شریعت چار گواہ لانے کا کہتا رہا کہ چار گواہ لاو ورنہ خاموشی اختیار کرو۔ لڑکی اسکو بتاتی ہے کہ چار گواہ زنا کا الزام کسی تیسرے فرد پہ لگانے پر ہوتے ہیں زنابالجبر میں جو خود کے ساتھ ہوا ہو اس میں چار گواہ لازم نہیں ہوتے جبکہ میں نے آپکو تمام ثبوت مہیا کردیئے ہیں اسکے باوجود خلیفہ اسکو دھمکاتا رہا اور پولیس میں جانے سے روکتا رہا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئی تو پھر جماعت تمہارے خلاف جو بھی ایکشن لے گی میں انکو منع نہیں کروں گا۔ یہ مکمل کال آپ یہاں اس لنک سے سن سکتے ہیں۔ جس میں قانون شریعت اور انسانی حقوق کی انتہائی برے طریقے سے دھجیاں بکھیری گئی ہیں
جب سوشل میڈیا پہ شور بلند ہوا تو قادیانی جماعت نے سب سے پہلے اپنی شریعت تبدیل کردی۔ قادیانی جماعت کی آفیشل ویب سائیٹ الاسلام ڈاٹ آرگ پر 2011 سے ایک مضمون لکھا ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ زنا بالجبر کے کیس میں چار گواہ طلب کرنا خلاف قرآن ہے تو جب مرزا مسرور نے اپنی ہی شریعت کے خلاف جاتے ہوئے چار گواہوں کا مطالبہ کیا تو ندالنصر نے خلیفہ کو بتایا کہ آپکی ویب سائیٹ پر تو یہ لکھا ہوا ہے کہ ریپ کیس میں چار گواہ ضروری نہیں ہوتے اور چار گواہ طلب کرنا خلاف قرآن ہے تو قادیانی جماعت نے سوشل میڈیا پر شور اٹھنے کے بعد سب سے پہلی اپنی ویب سائیٹ سے وہ مضمون حذف کردیا

07/06/2024

ذوالحجہ کا چاند🌙 بہت بہت مبارک ہو

01/06/2024

عمرانہ نصیر ایک قادیانی عورت ہے جو دس سال سے "بجیاز کوکنگ" کے نام سے اپنا فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل چلا رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ "بجیاز بوتیک"کے نام سے کپڑے بھی بیچ رہی ہے.ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اس کے پیج کوانجانے میں فالو کر رہے ہیں.اس کی مخصوص میٹھی آواز اور اور مٹھار مٹھار کر بولنے کا چکنا چپڑا انداز لوگوں کو مسحور کر دیتا ہے.ساتھ ہی ساتھ یہ عورت اپنے گھریلو سازو سامان اور زیورات کی بے تحاشہ نمائش کرتی ہےاور لوگ ان جانے میں اس کے انداز سے مرعوب ہو جاتے ہیں.

یہ عورت آسٹریلیا کے شہر برسبین میں مقیم ہےاور یہ اور اس کا خاندان وہاں کی احمدی کمیونٹی میں بہت زیادہ ایکٹیو ہیں.اس عورت کی آواز میں ریکارڈ شدہ ویڈیوز احمدی چینل ایم ٹی اے پر موجود ھیں اور احمدی ویڈیوز میں یہ عورت اپنے نبی اور اس کی بیوی (نعوذباللہ) کا انٹرویو کر رہی ہے ساتھ ہی ساتھ ان پر درود و سلام بھی بھیج رہی ہے استغفراللہ.

یہ عورت لوگوں سے صدقہ اور زکوۃ کے نام پر پیسے وصول کر رہی ہے کہ وہ یہ رقم پاکستان میں تقسیم کروا دے گی اور لوگوں کو اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہی ہے کہ وہ قادیانی ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ کہ پھر کوئی بھی مسلم اسے پیسے نہیں دے گااور نہ ہی اس کے کپڑوں کے بزنس کو سپورٹ کرے گا.اور وہ ہر اس شخص کو جو اس کی اصلیت اس کے فیس بک پیج پر بتاتا ہے فورا بلاک کر دیتی ہے.

اس عورت کے قادیانی ہونے کی وجہ سے اس کا فیس بک پیج پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں ban ہے

لوگوں تک بھی یہ پیغام پہنچائیں تاکہ کوئی بھی مسلمان انجانے میں اس قادیانی عورت کا شکار نہ بنے.

09/02/2024



Keep sharing

29/08/2023

Address

Nawababad
Wah
47000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923005179409

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shamzee Event Managers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shamzee Event Managers:

Share