Ch Naveed

Ch Naveed Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ch Naveed, Restaurant, Okara, .

“المیہ یہ ہے کہ طاقتور کیلئے کعبہ کا دروازہ بھی کھلتا ہےاور عدالت کا بھیمگر کمزور ان دونوں کے گرد چکر ہی کاٹ سکتا ہے #در...
30/01/2026

“المیہ یہ ہے کہ طاقتور کیلئے کعبہ کا دروازہ بھی کھلتا ہے
اور عدالت کا بھی
مگر کمزور ان دونوں کے گرد چکر ہی کاٹ سکتا ہے
#درویش”
تشریح (مطلب):
المیہ یہ ہے
→ یہاں “المیہ” سے مراد معاشرے کا ایک تلخ اور افسوسناک سچ ہے۔
کہ طاقتور کیلئے کعبہ کا دروازہ بھی کھلتا ہے
→ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ طاقت، دولت یا اثر و رسوخ رکھتے ہیں،
ان کے لیے مقدس مقامات تک رسائی بھی آسان ہو جاتی ہے،
وہ خاص سفارش یا سہولت حاصل کر لیتے ہیں۔
اور عدالت کا بھی
→ طاقتور آدمی قانون اور عدالت میں بھی فائدے میں رہتا ہے،
اسے جلد انصاف، اچھا وکیل یا رعایت مل جاتی ہے۔
مگر کمزور ان دونوں کے گرد چکر ہی کاٹ سکتا ہے
→ غریب، بے بس اور کمزور انسان
نہ تو مقدس مقامات تک آسانی سے پہنچ پاتا ہے
اور نہ ہی عدالتوں سے جلد یا سستا انصاف حاصل کر پاتا ہے،
بس دھکے کھاتا اور انتظار ہی کرتا رہ جاتا ہے۔

لندن میں ایک پاکستانی کئی برسوں سے رہ رہا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے بتایا کہ وہ وہاں ایک مقامی انگریز جوڑے کے ساتھ رہتا تھا۔ ...
03/01/2026

لندن میں ایک پاکستانی کئی برسوں سے رہ رہا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے بتایا کہ وہ وہاں ایک مقامی انگریز جوڑے کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ خود گھر کے ایک حصے میں رہتے تھے اور دوسرا حصہ انہوں نے مجھے کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ ہمارے درمیان کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ہر مہینے کے آخر میں میں باقاعدگی سے انہیں کرایہ ادا کر دیا کرتا تھا۔

ہم بارہ سال تک اکٹھے رہے۔ نہ انہوں نے کبھی مجھے کوئی تکلیف دی اور نہ میری طرف سے انہیں کبھی کوئی دکھ پہنچا۔

ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا: “کل آپ کی کیا مصروفیت ہے؟”

میں نے کہا: “کل میری چھٹی ہے اور میں گھر ہی میں رہوں گا۔”

یہ سن کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے: “مسٹر ظفر! ہم آپ سے ایک چھوٹی سی درخواست کرنا چاہتے ہیں۔”

میں نے کہا: “جی ضرور، حکم کیجیے۔”

انہوں نے بتایا: “ہمیں ایک نہایت ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ہے۔ اگر آپ کی چھٹی ہے اور آپ گھر میں موجود ہیں تو ہم اپنے بیٹے (ڈگلس) کو ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ مہربانی کر کے آپ ڈگلس کا خیال رکھ لیجیے گا۔”

میں نے کہا: “یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں آپ کے کام آ سکوں۔”

یہ طے ہوا کہ وہ صبح روانہ ہو جائیں گے اور میں ان کے حصے میں آ کر رہوں گا۔

صبح جب وہ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو ہاتھ ہلا کر گڈ مارننگ کہا، اور میں سیدھا ان کے پورشن میں چلا گیا۔ ڈگلس تقریباً نو سال کا تھا۔ وہ صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا۔ میں نے اسے گڈ مارننگ کہا، اس نے مسکرا کر جواب دیا۔

میں نے پوچھا: “ناشتہ کیا ہے؟”

اس نے انکار کیا۔ میں سیدھا کچن میں چلا گیا جہاں ناشتہ تیار رکھا تھا۔ میں ٹرے لے آیا اور اس کے سامنے رکھ دی۔ اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور ناشتہ کرنے لگا۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس نے ٹرے میں رکھا دودھ کا گلاس اٹھایا، جو اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا اور ٹوٹ گیا۔

وہ شرمندگی سے میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے اسے تسلی دی: “کوئی بات نہیں، میں صفائی کر دیتا ہوں۔”

میں نے شیشے کے ٹکڑے اکٹھے کر کے شاپر میں ڈالے، فرش صاف کیا اور ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے باہر کچرے میں پھینک دیے۔ پھر میں اپنے حصے میں گیا، وہاں سے بالکل ایسا ہی ایک گلاس لے آیا اور کچن میں رکھ دیا۔

ڈگلس اب بھی شرمندہ تھا۔ میں نے اس سے کہا: “پریشان نہ ہو، میں نے اسی جیسا گلاس رکھ دیا ہے، کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔”

پھر ہم سارا دن کھیلتے رہے۔ شام کو اس کے والدین واپس آ گئے۔ انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا: “آج ہمارے ساتھ ڈنر کریں، پھر جانا۔”

ڈنر کے دوران وہ مسلسل میرے لیے اچھے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ بعد میں میں ان سے الوداع کہہ کر اپنے پورشن میں چلا آیا۔

اگلی صبح چھ بجے میرے دروازے پر ڈگلس کے والدین کھڑے تھے۔ میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے کہا: “مسٹر ظفر! آپ ایک اچھے انسان ہیں، ہمیں کبھی آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی، لیکن اب آپ اپنے لیے کوئی اور گھر تلاش کریں اور ہمارا گھر جلد خالی کر دیں۔”

میں نے کہا: “اتنی جلدی کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”

انہوں نے جواب دیا: “مسٹر ظفر! آپ نیک انسان ہیں، لیکن کل آپ نے ہمارے بیٹے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے ہم آپ کو خود سے الگ کرنے پر مجبور ہیں۔”

میں نے پوچھا: “کون سا جھوٹ؟”

انہوں نے کہا: “گلاس ٹوٹ گیا، یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی، لیکن آپ نے ہمارے بیٹے سے کہا کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرے۔ ہم اپنے بیٹے کو ہمیشہ سچ بولنا سکھاتے ہیں۔ اس نے ہمیں ساری بات بتا دی ہے۔

اب ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے بچے پر جھوٹ کا اثر نہ پڑ جائے، اس لیے براہِ کرم کسی اور جگہ اپنا بندوبست کریں۔ شکریہ۔”
Copied

لندن ( تیز خبر  آن لائن)نجی طیارے میں انوکھی شادی: 90 سالہ دلہا اور 25 سالہ دلہن کی ویڈیو وائرل دنیا: ایک نجی طیارے میں ...
25/12/2025

لندن ( تیز خبر آن لائن)نجی طیارے میں انوکھی شادی: 90 سالہ دلہا اور 25 سالہ دلہن کی ویڈیو وائرل دنیا: ایک نجی طیارے میں ہونے والی غیر معمولی شادی نے سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس تقریب میں دلہا کی عمر 90 سال اور دلہن کی عمر 25 سال تھی، جس کی ویڈیو فوٹوگرافر نے شیئر کی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔ویڈیو کے مطابق شادی کی تقریب نجی طیارے میں رکھی گئی تھی، جہاں اصلی پھولوں سے دلکش سجاوٹ کی گئی اور جوڑا فضا میں ایک دوسرے سے عہد وفا کر رہا تھا۔ فوٹوگرافر نے کہا کہ وہ متعدد شادیوں کی کوریج کر چکے ہیں، لیکن ایسی انوکھی تقریب پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محبت کی کہانیاں ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں، اور یہی انفرادیت انہیں یادگار بنا دیتی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے اس شادی پر مختلف تبصرے کیے۔ کچھ نے عمر کے نمایاں فرق پر حیرت کا اظہار کیا، جبکہ دیگر نے مزاحیہ انداز میں رائے دی۔ کئی صارفین نے شادی کو جوڑے کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محبت اور رشتے کسی ایک معیار یا سانچے کے پابند نہیں ہوتے۔ایک صارف نے لکھا کہ “یہ بہترین عمر ہے، اب سارا دن باہر گھوم پھر کر دھوکا دینے کا امکان ہی نہیں رہا”، جبکہ ایک اور نے کہا، “وہ آخرکار سیٹل ہونے کے لیے تیار ہو گئے”۔فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ شادی کس ملک میں ہوئی، اور دلہا دلہن کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم ویڈیو بدستور سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے اور صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

مرد کے لیے سب سے کڑوا سچبینک تمہارے اخلاق کو نہیں، تمہارے اکاؤنٹ بیلنس کو سلام کرتے ہیں۔رشتہ دار تبھی عزت دیتے ہیں جب تم...
24/12/2025

مرد کے لیے سب سے کڑوا سچ

بینک تمہارے اخلاق کو نہیں، تمہارے اکاؤنٹ بیلنس کو سلام کرتے ہیں۔
رشتہ دار تبھی عزت دیتے ہیں جب تمہارا سٹیٹس اونچا ہو۔
دنیا تمہاری شکل نہیں دیکھتی، تمہاری حیثیت دیکھتی ہے۔
اس نظام سے نفرت مت کرو، اسے قبول کرو۔ یہاں صرف پیسہ بولتا ہے۔
یہ بات دل پر لکھ لو:
غریب آدمی کو استعمال کیا جاتا ہے۔
خالی جیب والے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
معاشی طور پر کمزور آدمی کو روند دیا جاتا ہے۔
عزت صرف اس کی ہے جس کے پاس طاقت اور سرمایہ ہے۔
یاد رکھو!
ہر ماں باپ کو ایک کامیاب اور کماتا ہوا بیٹا چاہیے۔
ہر بچے کو ایسا باپ چاہیے جو اس کے خواب خرید سکے۔
ہر عورت کو وہ شوہر چاہیے جو اسے محفوظ مستقبل دے سکے۔
بحیثیت مرد، تمہارے پاس غریب رہنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔
جذبات چھوڑو! اپنا وقت صرف اور صرف اپنی سلطنت (Empire) بنانے پر لگاؤ۔
اپنا بینک بیلنس اتنا بڑھاؤ کہ تمہاری بات کوئی کاٹ نہ سکے۔
باقی سب صرف رکاوٹیں ہیں۔

Address

Okara

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Naveed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Restaurant?

Share