20/06/2026
پھل کے پکنے کے عمل کے دوران پھل میں مختلف طبعی (Physical)، اندرونی (Physiological + Biochemical) تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو کہ پھل کے معیارکو عمدہ اور ذائقہ کو بہتر بناتی ہیں۔
پھل کاگودا نرم ہوجاتا ہے اور پھل کے بیرونی خلیے (Cell Wall)میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے یعنی پھل کی ساخت تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح چھلکے کی رنگت عام طورپر سبز سے پیلی /زرد ہوجاتی ہے(جس کی بنیادی وجہ کلوروفل یا سبز مادے کا ختم ہونا اور سرخ یا پیلے مادے کا بنناہوتا ہے)اور گودے کا رنگ بھی عام طورپر سفیدی مائل سے گہر ا پیلا ہوجاتاہے۔
عمل تنفس کی رفتا بڑھ جاتی ہے۔ پھل کے اندر پانی کی مقدار میں کمی کی بنیادی وجہ عمل تنفس اور پانی کا بخارات بن کر اڑنا ہے۔ یہ عمل نہ صرف براہ راست پھل کے وزن کو کم کرتا ہے، بلکہ پھل کی بیرونی شکل و صورت اور اندرونی معیار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے (جھریاں،پھل کا نرم ہونا وغیرہ)،زیادہ مقدار میں پانی کی کمی عام طور پر آم کے چھلکے پر جھریوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ پھل کے اندر پانی کی کمی زیادہ درجہ حرارت، ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی اور پھل کے زخمی ہونے اور پھل کے اردگرد تیزاور گرم ہوا کی وجہ سے بڑ ھ جاتی ہے۔
پھل کے اندر ذخیرہ خوراک (نشاستہ)شوگر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔پھل کی تیزابیت اس کے پکنے سے کم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح پھل کے اندر موجود حل پذیر مادہ (TSS)جو عام طورپر مٹھاس کوظاہر کرتا ہے پھل پکنے کے دوران بڑھتا ہے اور مٹھاس کا سبب بنتا ہے۔پھل کی مٹھاس /تیزابیت کا تناسب اس کے ذائقے کو ظاہر کرتا ہے اور یہ پھل پکنے کے دوران بڑھتا ہے۔پھل میں موجود تیزابیت کے کم ہونے سے اِس کا ذائقہ عمدہ ہوجاتاہے۔تاہم پھل کا زیادہ پکنا اس کے اندر بدبو کا سبب بھی بن سکتا ہے.