22/04/2026
4
میں اس گھر میں بہو بن کر آئی
سوچا تھا اپنا گھر ہوگا، اپنی پہچان ہوگی، تھوڑی سی محبت ملے گی۔
لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ یہاں تو صرف امتحان لکھا ہے میرے نصیب میں…
ساسو ماں کے لیے میں کبھی اچھی نہیں بنی،
اور نندوں کے لیے تو جیسے میں کوئی نوکرانی تھی۔
صبح آنکھ کھلنے سے پہلے کام شروع…
اور رات آنکھ بند ہونے تک طعنے…
"یہ بھی ٹھیک سے نہیں آتا؟"
"ہمارے بیٹے کے لائق نہیں تھی تم…"
سب برداشت کرتی رہی… صرف اس امید پر کہ
میرا شوہر میرا ساتھ دے گا…
لیکن وہ بھی خاموش رہا۔
ہمیشہ کی طرح… خاموش۔
ایک دن بخار میں جل رہی تھی،
کھڑی بھی نہیں ہوا جا رہا تھا…
پھر بھی مجھے کہا گیا:
"ڈرامے چھوڑو اور جا کر روٹی بناؤ۔"
اس دن پہلی بار میں ٹوٹ گئی…
لیکن کسی نے نہیں پوچھا کہ میں زندہ بھی ہوں یا نہیں۔
آج یہ confession لکھ رہی ہوں…
کیونکہ اب آواز بھی نہیں نکلتی…
میں اس گھر میں زندہ ہوں…
لیکن اندر سے کب کی مر چکی ہوں۔