01/07/2026
یہاں قانون اور عدالتیں کیا کریں ،
شریک حیات جب مصیبت بن جائے تو جان چھڑا لو ۔۔۔۔ 5 جوان بچوں کی موجودگی میں اس میاں بیوی نے طلاق کا راستہ چنا ہے ،
پہلے اصل کہانی جانیں پھر ضرور بتائیں کہ کون غلط ہے اور کون درست ؟
خاتون 5 بچوں کی ماں ہونے کے باوجود غیر مردوں سے تعلقات کی رسیا تھی ۔۔ دو بار شوہر نے اپنے بیڈروم اور گھر کے دیگر حصوں میں چھپے مردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا لیکن اپنی شرافت کی وجہ سے کچھ نہ کہا ۔۔
بیوی شوہر کے پاؤں پڑ جاتی یہ بھی 5 بچوں کی وجہ سے معاف کردیتا اور بات گھر کے اندر محدود رہتی لیکن بڑی بیٹی اور 10 ، 12 سال کے بیٹوں کو حقیقت کا علم تھا ۔
جب کچھ ہفتے پہلے شوہر نے دیکھا کہ بیوی باز نہیں آرہی تو اس نے بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا اور اسے بتا بھی دیا کہ تمہارا گزارہ نہیں ہوتا بہتر ہے میری زندگی سے نکل جاؤ
ورنہ بچے بھی تمہارے راستے پر چل پڑیں گے ۔۔۔۔بچے میرے پاس رہیں تو بسم اللہ تمہارے ساتھ جانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔
جب میاں بیوی باقاعدہ طلاق کے لیے کچہری میں ایک وکیل صاحب کے پاس گئے تو نیک دل وکیل نے غور کرنے کو کہا لیکن اب بیوی بھی طلاق چاہتی تھی اور شوہر بھی جان چھڑانا چاہتا تھا ،
بچوں سے پوچھا گیا تو بیٹی سمیت 3 بچوں نے والد کے ساتھ رہنا پسند کیا جبکہ ایک چھوٹے بچے نے کہا میں ماما کے ساتھ جاؤنگا ۔۔۔۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس جوڑے نے باہمی رضا مندی سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں ۔۔۔۔۔ کچھ لوگ اسے بے غیرتی کہیں گے ،
لیکن انسانیت کے اصولوں اور شرعی لحاظ سے یہ ایک بہترین فیصلہ ہے ، بجائے اسکے کہ بیوی کو ق۔ت۔ل کرتا ،یا اسکے آشنا کو مار ڈالتا خود جیل جاتا ، بچے رل جاتے ۔زندگی برباد ہو جاتی
۔۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس شخص کا رویہ قابل تعریف ہے ۔۔۔ کیا خیال ہے آپ کا ؟؟