29/06/2023
روئے زمین پر دنیا کے خوش قسمت ترین مہمان
جن کی میزبانی پروردگار عالم خود فرمارہا ہے
دو کپڑوں میں لپٹے ہوئے
چلچلاتی ہوئی دھوپ میں
کھلے آسمان تلے
تپتی زمین پر
بکھرے بال
غبار آلود قدم
زبان توحید کے اقرار سے مہکتی ہوئی
حاضر ہوں اللہ میں حاضر ہوں کے فلک شگاف نالے
بخشش کے طلبگار
معافی کے طالب
فضل و کرم اور رحم کے سوالی
چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے گناہ کا اعتراف
شرمندگی ہی شرمندگی
ندامت ہی ندامت
سراپا سر تسلیم خم
نہ کوئی امیر نہ کوئی غریب
نہ کوئی رنگ نہ نسل نہ ذات نہ برادری
نہ کمتر اور نہ ہی کوئی برتر
یہ ہے عرفات کا عظیم میدان
یہاں خالق کائنات اپنے عرش سے نیچے آئے ہوئے ہیں
ہمراہ فرشتوں کی جماعت ہے
کیا ہی خوش کن منظر ہے
خدائے ذوالجلال فرشتوں کے سامنے بنین آدم بنات آدم پر فخر فرما رہے ہیں
ناز جیسا ناز ہے
غرور جیسا غرور ہے
ارشاد ہوتا ہے دیکھو
ذرا غور سے دیکھو
یہ وہی آدم کی اولاد ہے جسے میں نے مٹی سے پیدا کیا
زمین پر اپنا خلیفہ بنایا
یہ وہی حوا کے بیٹے بیٹیاں ہیں جو شیطان کے لاکھ بہلانے کے باوجود
پور پور گناہوں میں ڈوبے ہونے کے باوجود
میری رحمت کا آسرا لیے
میری طرف سے دی جانی والی بخشش کا یقین لیکر
اپنے عیش و آرام کو تج کر
دنیا کے کونے کونے سے
دیوانہ وار دوڑے چلے آئے ہیں
اور جو نہیں آ پائے
ان کی روحیں اور دل اسی میدان میں کہیں نہ کہیں سراپا دعا ہیں
وہ وحدہ لا شریک
وہ ستر ماؤں سے بڑھ کر شفیق
فرشتوں سے استفسار کر رہا ہے
ذرا بتاو تو مجھے
میں اپنے محبوب محمد کے محبوب تر امتیوں کی کیا تواضع فرماوں
میں ان سوکھے حلق والے
گریہ کرتی آنکھوں والے
پرنم مناجاتیں کرنے والے
اپنی بے بسی اور کم مائیگی کا اعتراف کرنے والے
میری وحدانیت کا علی الا علان اقرار کرنے والے
سر میں صرف توبہ اور بخشش کا سودا سمائے
لبیک اللھم لبیک کا ورد کرتے ہوئے
اپنے ان مہمانوں کو کیا صلہ عطا فرماؤں
ان کی کیا تواضع ہو
کیا تحفہ دان کروں
اور پھر یکایک
ارحم الراحمین کی رحمت جوش میں آتی ہے
فرشتے حیران ہیں
کائنات ساکت ہے
عرفات کی زمین پر آہ و بکا بڑھتی جارہی ہے
سسکیاں اور نا لے بلند سے بلند تر ہوتے جارہے ہیں
آج تو بخش دے مولا
اولاد آدم کی ضد میں شدت آتی جارہی ہے
محمد کے محبوب امتیوں کا لاڈ ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے
اللہ آج تو تیری توبہ لے کر ہی تیرے در سے جائیں گے
آج تو اس میدان سے ایسے جانا ہے جیسے ماوں نے ہمیں آج ہی جنماہو
اللہ آج تو ہماری دعاوں پر تجھے کن کہنا ہی ہوگا
وقت گھٹتا جارہا ہے
دعائیں دراز ہوتی جارہی ہیں
آہیں فریادیں عرش کو چھونے لگی ہیں
یکدم مالک الملک مسکراتا ہے
عرش پر اذن عام ہوتا ہے
فضائیں کھکھلاتی ہیں
دعائیں مقبول ٹھہرتی ہیں
فرشتوں کو گواہ بنایا جا رہا ہے
کس کے لیے
اولاد آدم کے لیے
امتی امتی کی فکر میں رونے والے محمد کے پیاروں
خوشخبری ہو
تمہارے لیے عام معافی کا اعلان ہے
جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے
ہلکے پھلکے ہو جاو
ایسے جیسے تمہاری ماوں نے تمہیں آج ہی جنما ہو
منظر بدلتا ہے
اشک ابھی بھی آنکھوں سے جاری ہیں
سسکیاں ابھی بھی بلند ہے
مگر اب دل تشکر سے لبریز ہے
رب بندوں سے راضی ہے اور بندے اپنے رب سے
زبان مصروف تلبیہ ہے
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ
اے اللہ! میں حاضر ہوں
میں حاضر ہوں
میں حاضر ہوں
تیرا کوئی شریک نہیں
میں حاضر ہوں
بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے
اور تیری ہی بادشاہت ہے
تیرا کوئی شریک نہیں
#حج1444ھ