08/08/2023
بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبار
میں ہار گیا جنگ مگر دل نہیں ہارا
روشن ہے مری عمر کے تاریک چمن میں
اس کنجِ ملاقات میں جو وقت گزارا
اپنے لیے تجویز کی شمشیرِ برہنہ
اور اس کے لیے شاخ سے اک پھول اتارا
لب کھولے پری زاد نے آہستہ سے ثروت
جوں گفتگو کرتا ہے ستارے سے ستارا
ھم تو ہر بار چمکیں گے نئےسُورج کی طرح
جلنے والُوں سے__________ کہہ دو ...
وَتُعِزُّ_مَن_تَشَاءُ_وَتُذِلُّ_مَن_تَشَاءُ.