S J pathan

S J pathan Spot me like and shear

📢 علاقہ جنتہ کی فریاد، کب سنی جائے گی؟تمام نیوز چینلز، صحافی حضرات اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس سے مؤدبانہ اپیلعلاقہ جنتہ کے...
22/07/2026

📢 علاقہ جنتہ کی فریاد، کب سنی جائے گی؟
تمام نیوز چینلز، صحافی حضرات اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس سے مؤدبانہ اپیل
علاقہ جنتہ کے عوام کی جانب سے تمام نیوز چینلز، صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد سے گزارش ہے کہ براہِ کرم ہمارے علاقے کے مسائل کو بھی اجاگر کریں۔
علاقہ جنتہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہاں کے عوام مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سب سے بڑا مسئلہ موبائل سگنلز اور مواصلاتی سہولیات کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
ہم تمام میڈیا نمائندگان سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو اپنی خبروں، رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچائیں، تاکہ ہماری آواز سنی جائے اور علاقہ جنتہ کے عوام کو بھی ان کے بنیادی حقوق اور سہولیات میسر آ سکیں۔
آخر میں تمام نیوز چینلز اور صحافی حضرات سے پرزور اپیل ہے کہ جنوبی وزیرستان، جنتہ شاہکاری ٹاور کی بحالی کے لیے اپنے چینل اور سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھائیں، تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر موبائل سگنل اور مواصلاتی سہولیات میسر آ سکیں۔
آئیں، علاقہ جنتہ کی آواز بنیں۔

12/05/2026

پنجابیوں کے عقل کیلئے یہ پوسٹ ہے !
شاید آپ کو لگتا ہوگا کہ پشتون علاقوں میں کسی پنجابی کی پٹائی سب سے آسان کام ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہاں کسی پنجابی پر ہاتھ اٹھانا اتنا آسان نہیں جتنا سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دکھایا جاتا ہے۔ یہاں اگر کسی پنجابی کے ساتھ ناانصافی ہو تو کئی مقامی پشتون اس کے دفاع میں کھڑے ہوجاتے ہیں، کیونکہ پشتون روایت صرف قومیت نہیں بلکہ غیرت، مہمان نوازی اور مظلوم کا ساتھ دینا بھی سکھاتی ہے۔ میرے سامنے اگر کوئی کسی بے گناہ پنجابی پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں خود اس کے خلاف کھڑا ہوجاؤں گا، چاہے وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔
دو سال پہلے پشاور میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں ایک پشتون کا ایک پنجابی سے جھگڑا ہوگیا۔ جھگڑے کے دوران پنجابی جان بچانے کے لیے بھاگ کر فاروق محسود نوجوان کی دکان میں داخل ہوگیا۔ اس وقت فاروق محسود کے پاس دو راستے تھے؛ یا تو خاموش رہتا اور تماشہ دیکھتا، یا پھر انسانیت کا ساتھ دیتا۔ اس نے انسانیت کا راستہ چنا، پنجابی کو پناہ دی اور اس کے دفاع میں کھڑا ہوگیا۔ لیکن افسوس کہ اسی دوران کچھ مشتعل لوگوں نے فاروق محسود کو شہید کردیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا فاروق محسود نے غلط کیا تھا؟ کیا ایک بے گناہ انسان کو پناہ دینا جرم تھا؟ اگر نہیں، تو پھر آج وہ لوگ کیوں خاموش ہیں جو ہر بات کو صرف قومیت کے چشمے سے دیکھتے ہیں؟
اب جب پنڈی کا واقعہ سامنے آیا تو مجھے بعض پنجابیوں کی سوچ سمجھ نہیں آرہی۔ آخر ان کا مطالبہ کیا ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ محسود نوجوان کا قتل صرف 1300 روپے کے لیے غلط تھا تو پھر اصول سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اگر ظلم غلط ہے تو ہر جگہ غلط ہے۔ لیکن اگر آپ صرف اس لیے شور مچا رہے ہیں کہ قاتل پشتون ہے اور مقتول پنجابی، تو پھر یہ انصاف نہیں بلکہ قومیت پرستی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ بدلہ خود نہیں لینا چاہیے تھا۔ ٹھیک ہے، یہ بات مان لیتے ہیں۔ مگر پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کہاں ہے؟ اگر ریاست انصاف دینے میں ناکام رہے، اگر نقیب محسود جیسے بے گناہوں کے قاتل راؤ انوار آج تک آزاد گھومتے رہیں، اگر مقتول خاندان سالہا سال انصاف کے لیے دھکے کھاتے رہیں، تو پھر لوگوں کے دلوں میں غصہ کیوں نہ پیدا ہوگا؟
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بغیر ثبوت کے کہانیاں پھیلائی جارہی ہیں، جیسے موٹر سائیکل پر گھسیٹنے والی بات۔ اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا ثبوت سامنے لائیں۔ آج کے دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے، ہر واقعے کی ویڈیو چند منٹ میں سامنے آجاتی ہے، لیکن یہاں صرف الزامات اور جذباتی باتیں کی جارہی ہیں۔ کسی بھی واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور اسے پشتون بمقابلہ پنجابی بنانے کی کوشش کرنا صرف نفرت کو ہوا

۔ پشتون علاقوں میں ہزاروں پنجابی عزت اور سکون کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں، اور پنجاب میں بھی لاکھوں پشتون عزت سے زندگی گزارتے ہیں۔ اگر دونوں قوموں میں نفرت ہوتی تو یہ تعلقات کبھی قائم نہ رہتے۔
اصل مسئلہ قومیت نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔ جب قانون کمزور ہوگا، جب طاقتور کو تحفظ ملے گا اور غریب کو انصاف نہیں ملے گا، تب ایسے واقعات جنم لیتے رہیں گے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انصاف کی بات کریں، قانون کی بالادستی کی بات کریں، نہ کہ ایک دوسرے کی قوموں کو گالیاں دے کر مزید نفرت پیدا کریں۔👍

S J pathan

21/02/2026

اپنے بچوں کو اچھی تربیت دو نہیں تو گلی کے لفنگے بن جائیں گے۔۔۔۔۔
🥹

24/01/2026
24/01/2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران گھر کے اندر دھم-ا-ک-ہ

30/12/2025

۔ کـه سـترګـه دې غـورمه په سـپين سابـو ويـلوړه وا

۔ غنمرنګ خـو غنمرنګ داۍ

16/12/2025

دا وزيرستان خوګ ژبې شاعر سلار صيب

Address

D I Khan
Dera Ismail Khan
SJPAKHTOON

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S J pathan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category