22/03/2026
آج عید کا دوسرا دن تھا.
کراچی کی سڑکیں اپنی مخصوص خاموشی اور ہلکی سی رونق کے ساتھ پھیلی ہوئی تھیں. نہ وہ روز والا ہجوم، نہ وہ شور... بس ایک نرم سا سکون، جیسے شہر بھی عید منا رہا ہو.
میں نے آج اپنے بیٹے کی پسند کی موٹر سائیکل نکالی... اور وہی لمحہ تھا جب اُس کی آنکھوں میں ایک چمک آئی، جیسے اُس کا کوئی خواب پورا ہونے جا رہا ہو. وہ جلدی سے آ کر آگے بیٹھ گیا، سنجیدگی سے ہینڈل پکڑا... جیسے واقعی وہی اس سفر کا کپتان ہو.
یہ اُس کی تیسری عید ہے...
اور میری شادی کو بھی ابھی چار سال ہوئے ہیں.
حیرت ہوتی ہے... یہ چار سال کیسے گزر گئے؟
ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو، مگر ان چار سالوں میں جتنے لمحے ہم نے ساتھ گزارے ہیں، وہ کسی پوری زندگی سے کم نہیں.
مجھے یاد ہے، پچھلے سال جب وہ صرف ڈھائی سال کا تھا، میں اُسے اپنے ساتھ بائیک پر پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے سفر پر لے گیا تھا. اُس وقت شاید میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ چھوٹا سا بچہ ان راستوں کو، ان لمحوں کو، اس سفر کو اتنی گہرائی سے اپنے دل میں محفوظ کر لے گا.
آج وہ مجھے روز یاد دلاتا ہے،
"بابا، اس سال ہم پھر جائیں گے نا؟ اب تو میں بڑا ہو گیا ہوں..."
میں اسے دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں...
یہ صرف ایک بچہ نہیں، یہ میری یادوں کا محافظ ہے.
اس کا حافظہ، اس کی باتیں، اس کی معصوم ضد... سب کچھ مجھے حیران بھی کرتا ہے اور خوش بھی.
آج ہم نکلے.
کراچی کے ناردرن بائی پاس کی طرف.
ہوا ہلکی سی تیز تھی، سورج ڈھلنے کو تھا، اور سڑکیں جیسے ہمیں اپنے اندر سمیٹ رہی تھیں. وہ میرے آگے بیٹھا ہوا تھا، کبھی پیچھے مڑ کر مجھے دیکھتا، کبھی راستے کو... اور کبھی بے وجہ مسکرا دیتا.
اس کی وہ مسکراہٹ...
وہی تو میری منزل ہے.
راستہ لمبا تھا، مگر وقت جیسے رک گیا تھا.
نہ جلدی تھی، نہ کوئی فکر... بس میں تھا، میرا بیٹا تھا، اور ایک خاموش سا احساس کہ یہی زندگی ہے.
یہی وہ لمحے ہیں جو بعد میں یادوں میں بدل کر انسان کو زندہ رکھتے ہیں.
میں نے دل ہی دل میں سوچا...
ہم بڑے ہو کر سمجھتے ہیں کہ ہم بچوں کو دنیا دکھاتے ہیں...
مگر حقیقت میں بچے ہمیں جینا سکھاتے ہیں.
وہ چھوٹے چھوٹے سوال، وہ معصوم باتیں، وہ بے ساختہ ہنسی...
یہ سب وہ چیزیں ہیں جو زندگی کو اصل معنی دیتی ہیں.
کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد جب ہم واپس لوٹے، تو جسم تھکا ہوا تھا مگر دل بھرا ہوا تھا.
میں نے اسے دیکھا... وہ خاموش تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہی سکون تھا جو شاید مجھے بھی محسوس ہو رہا تھا.
میں نے سوچا...
وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے.
یہ بچہ کل بڑا ہو جائے گا، یہ لمحے شاید پھر نہ آئیں...
مگر آج... آج یہ سب میرے پاس ہے.
اور شاید یہی اصل خوشی ہے.
یہ عید میرے لیے صرف ایک تہوار نہیں تھی.
یہ ایک یاد تھی، ایک سفر تھا، ایک احساس تھا...
جو میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ جیا.
شاہد شاہ