12/01/2014
::::::غزل:::::::
اظہر الحق
کبھی اس دل کے دریا میں وہ آکر ڈوب جائے گا
محبت کے ہزاروں پھول اپنے ساتھ لائے گا
تیرے دربار کی چوکھٹ سے جب ہم روٹھ کر نکلے
چلے تھے اس بھروسے پر کہ توہم کو بلائے گا
عجب ہے عالمِ فانی عجب اس کے اواصل ہیں
جسے تم ٹوٹ کر چاہو، وہی تم کو رُلائے گا
حفاظت کیلئے تم کو تو وقتی طور لائے تھے
خبر کیا تھی یہاں تو خون کی ندیاں بہائے گا
بڑا بے تاب دل ہے ڈھرکنیں پژ مردہ آنکھیں نم
انہی حالات میں اُمید ہے اظہرؔ وہ آئے گا
_______________________